حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بنگلورو کے رچمنڈ ٹاؤن میں واقع شیعہ آرامگاہ میں 34واں سالانہ حسین ڈے کنونشن منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، مختلف مذاہب کے علماء و مذہبی شخصیات، صحافیوں، فنکاروں، شعراء، صنعت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن کا موضوع "عالمی امن کے لیے سیکولرازم" تھا، جبکہ مقررین نے حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو عدل، آزادی، انسانی وقار اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ابدی استعارہ قرار دیا۔

آغا سلطان کی قیادت میں منعقد ہونے والے اس سالانہ اجتماع کو گزشتہ تین دہائیوں سے ملک میں بین المذاہب مکالمے اور قومی یکجہتی کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل ہے، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد انسانیت، آئینی اقدار اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے یکجا ہوتے ہیں۔
افتتاحی خطاب میں آغا سلطان نے کہا کہ واقعۂ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، جس نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حقیقی امن ظلم کے سامنے سر جھکانے سے نہیں بلکہ انصاف کے لیے ثابت قدم رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ نے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ انسانی آزادی، ضمیر اور دین کے تحفظ کے لیے قیام کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیکولرازم ایسا نظریہ ہے جو مذہب، نسل، زبان اور ثقافت سے بالاتر ہو کر ہر انسان کے وقار کا احترام کرتا ہے، جبکہ کربلا کا پیغام آج بھی انسانیت کو یہ یاد دلاتا ہے کہ پائیدار امن صرف انصاف، باہمی احترام اور انسانی عزت کے تحفظ سے ہی ممکن ہے۔
کنونشن کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر زکریا عباس نے کہا کہ "عالمی امن کے لیے سیکولرازم" محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انبیائے کرام کی تعلیمات اور انسانی اقدار پر مبنی ایک اخلاقی تصور ہے، جو تمام مذاہب کو یکساں احترام، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے مساوات فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی، رکنِ پارلیمنٹ اور انڈین نیشنل کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ ان کے نزدیک حسینیت ہی حقیقی سیکولرازم ہے، کیونکہ یہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، حق کا ساتھ دینے اور انصاف کے قیام کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کسی ایک مسلک کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے رہنما ہیں، اور جو مظلوم کا ساتھ دیتا ہے وہ حقیقی معنوں میں حسینی ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ واقعۂ کربلا ہر دور میں معاشرتی اصلاح کی تحریک دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے، اس لیے ظلم کے خلاف متحد ہونا اور معاشرے کی بھلائی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
کنونشن میں شانتی نگر کے رکنِ اسمبلی این اے ہیرس کی شرکت بھی اس بات کی عکاس تھی کہ اس اجتماع کو مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
جموں و کشمیر کے ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد سمیع شفیع صدیقی نے کہا کہ امام حسینؑ کی قربانی آج بھی اہلِ علم اور عام انسانوں کے لیے فکری و روحانی رہنمائی کا سرچشمہ ہے، جو انصاف، حق گوئی اور اخلاقی جرات کی تلقین کرتی ہے۔

مسیحی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے آرچ ڈائیوسیز آف بنگلور کے پادری اور بھکتی بھون سیمینری کے ریکٹر ریورنڈ فادر ایڈرین ماسکارینہاس نے کہا کہ امام حسینؑ کی تعلیمات میں موجود قربانی، انصاف، مصالحت اور امن جیسے اصول تمام مذاہب کی مشترکہ اقدار ہیں، جو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
داؤدی بوہرہ برادری کے نمائندے شیخ طاہر بھائی گودھرا والا نے کہا کہ امام حسینؑ کی عظیم میراث تمام مسلمانوں کو حق، رحم دلی اور خدمتِ انسانیت کی راہ پر گامزن رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے نائب مدیر علی عباس نقوی نے واقعۂ کربلا کو ظلم کے خلاف انسانی تاریخ کی عظیم ترین داستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ کی تعلیمات ہندوستان کی مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور سیکولر اقدار کی حقیقی ترجمان ہیں۔ انہوں نے حضرت صاحبِ وہبؑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کربلا خود بین المذاہب اتحاد اور مشترکہ انسانی اقدار کی روشن مثال ہے۔

ہندو برادری کے نمائندے پنڈت وجے کمار شرما نے کہا کہ امام حسینؑ انصاف اور خودداری کی علامت ہیں اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا ہر شخص حسینی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں سچائی، انصاف اور انسانی وقار کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔
معروف شیعہ عالم دین مولانا قمر حسنین نے کہا کہ اسلام ہر مذہب اور ہر انسان کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے مذہبی و ثقافتی تنوع کو ملک کی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور سیکولرازم کی حفاظت ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کنونشن میں ممبئی کے پروڈیوسر و صنعت کار علی اکبر سلطان احمد، معروف شاعر منظر بھوپالی اور بنگلورو کی صوفی فنکارہ خنک جوشی نے بھی شرکت کی، جن کی ادبی اور ثقافتی پیشکشوں نے پروگرام کو مزید مؤثر بنا دیا۔
اجتماع سے گوردوارہ شری گرو سنگھ سبھا، بنگلورو کے ہیڈ گرنتھی گیانی بوٹا سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے گرو گرنتھ صاحب کے حوالے سے کہا کہ تمام انسان ایک ہی نور سے پیدا کیے گئے ہیں، اس لیے تمام مذاہب اور برادریوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی قربانی پوری انسانیت کے لیے حق، انصاف، مساوات اور خدمتِ خلق کا روشن نمونہ ہے اور یہی اقدار معاشرے میں امن و اخوت کی بنیاد ہیں۔

کنونشن کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک مذہب یا مسلک تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں اور جرات کے بغیر انصاف قائم نہیں رہ سکتا۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آغا سلطان کی مسلسل کاوشوں کے باعث حسین ڈے کنونشن ہر سال ہزاروں افراد کو حضرت امام حسینؑ کے ابدی پیغام—حق، انصاف، انسانیت، اتحاد اور ظلم کے خلاف استقامت—سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔









آپ کا تبصرہ