منگل 23 جون 2026 - 18:03
محرم صرف غم و ماتم نہیں، کردار اور معاشرتی رویوں کے محاسبے کا مہینہ ہے: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ/ لڈوا، ضلع مظفر نگر میں منعقدہ مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے کہا کہ شہادتِ امام حسینؑ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، عدل، حق اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ابدی پیغام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ظلم، ناانصافی، معاشرتی بے حسی اور اخلاقی زوال کے خلاف آواز بلند کرنا ہی واقعۂ کربلا کی حقیقی روح اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا بنیادی مقصد ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لڈوا، ضلع مظفر نگر میں ماہِ محرم الحرام 2026ء کی مجالسِ عزاء کے سلسلے میں منعقدہ ایک روح پرور مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے ’’اصلاحِ معاشرہ اور شہادتِ امام حسینؑ کے اسباب‘‘ کے موضوع پر نہایت جامع، علمی اور مؤثر گفتگو کی۔ آپ کے خطاب کو مختلف مسالک اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی توجہ اور عقیدت کے ساتھ سنا۔

مولانا نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق، عدل، حریت اور اصلاحِ امت کا ایک ابدی منشور ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے انسان کو یہ پیغام دیا کہ معاشرے میں ظلم، ناانصافی، اخلاقی انحطاط اور دینی بے حسی کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم اخلاقِ حسنہ کے کامل نمونہ تھے اور امام حسین علیہ السلام نے انہی اخلاقِ محمدی کو اپنے کردار، گفتار اور عمل کے ذریعے زندہ رکھا۔ سچائی، امانت، عفو و درگزر، انسان دوستی، عدل اور رحم دلی وہ اوصاف ہیں جنہیں رسولِ خدا نے معاشرے میں فروغ دیا اور امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں ان اقدار کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔

مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے قرآنِ مجید کی متعدد تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا کہ دینِ اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن انسان کو حسنِ اخلاق، عدل و انصاف، باہمی احترام، معاشرتی ذمہ داری اور پاکیزہ طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ واقعۂ کربلا انہی قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔

آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے اسباب میں معاشرتی بے حسی، حق سے دوری، ظلم کے سامنے خاموشی، اخلاقی زوال اور دینی اقدار کی کمزوری نمایاں تھیں۔ اگر آج کا انسان کربلا کے پیغام کو سمجھ لے تو معاشرے سے نفرت، بدعنوانی، بے انصافی اور اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

مولانا نے کہا کہ محرم کا مقصد صرف غم و ماتم کا اظہار نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور معاشرتی رویوں کا محاسبہ بھی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی یاد انسان کو برائیوں سے اجتناب، اچھائیوں کے فروغ، امن و محبت کے قیام اور ایک صالح و مہذب معاشرے کی تشکیل کا درس دیتی ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے بالخصوص نوجوان نسل کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستہ رہنے، اخلاقِ محمدی کو اپنانے اور معاشرے میں محبت، اخوت، رواداری اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ حاضرین نے اس علمی، فکری اور روح پرور خطاب کو موجودہ معاشرتی حالات میں نہایت اہم اور مؤثر قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • مریم بجنوری IN 20:14 - 2026/06/23
    سبحان اللہ