حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ دشمن پابندیوں، دہشت گردی اور جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اب ثقافتی تباہی کے ذریعے قم سے انتقام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ملک کی عزت، آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی حکمت عملی ہے۔
قم میں نماز جمعہ کے خطبوں سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سعیدی نے شہید رہبر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت کے اہم اثرات میں سے ایک عوام میں نئی بیداری اور مزاحمت کا جذبہ پیدا ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایمان، بندگی اور استقامت کے ذریعے اس مقام تک پہنچے ہیں کہ وہ دنیا کے فساد اور ظلم کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے قم کی مذہبی اور ثقافتی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قم اہل بیت علیہم السلام کا حرم ہے، اس لیے یہاں دینی احکام، عفت و حیا، شہری ماحول اور تعمیرات کے حوالے سے زیادہ حساسیت ضروری ہے۔ ان کے بقول دشمن قم کے بارے میں خاص حساسیت رکھتا ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کے لئے ظلم و استکبار کے خلاف امام خمینیؒ کی تحریک کی آواز اسی شہر سے بلند ہوئی تھی۔ اب دشمن ثقافتی میدان میں قم کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
آیت اللہ سعیدی نے وحدت کو قومی طاقت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو دشمن شناسی پر غالب نہیں آنا چاہیے اور تنقید کو تخریب میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن ہمیشہ کسی قوم پر حملہ کرنے سے پہلے اس کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے معاشرے میں اتحاد جتنا مضبوط ہوگا، دشمن کے لیے اپنی مرضی اور ثقافت مسلط کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔
انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فریضہ لوگوں کو جوڑنے کے لیے ہے، دور کرنے کے لیے نہیں۔ اگر یہ کام غصے، سخت رویے اور شرعی احکام سے ناواقفیت کے ساتھ کیا جائے تو معاشرے میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے شہید حاج قاسم سلیمانی کی زندگی سے وحدت اور تفرقے سے اجتناب کو اہم سبق قرار دیا
آیت اللہ سعیدی نے حزب اللہ لبنان کی مزاحمت اور فلسطین، یمن اور دیگر خطوں میں جاری جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کا بیج اب ایک مضبوط شجرہ بن چکا ہے اور بالآخر اس کا ثمر کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
انہوں نے اپنے خطبۂ اول میں سورۂ فتح کی آیت 28 کی روشنی میں دین حق کے غلبے کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دین کی سربلندی صرف فکری اور نظری سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اخلاقی، سماجی اور تاریخی اثرات بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق دین حق انسان کے کردار، معاشرتی انصاف، امن، ذمہ داری اور تاریخ کے رخ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر دین میں دلیل نہ ہو تو وہ تعصب، اخلاق نہ ہو تو طاقت کا ذریعہ، معاشرتی اثر نہ ہو تو زندگی سے جدا اور تاریخی افق نہ ہو تو اپنی عالمی اور مستقبل ساز صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ