بدھ 22 جولائی 2026 - 21:04
اتحاد کے نام پر برائیوں پر خاموشی درست نہیں، آیت اللہ سعیدی

حوزہ/ حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ اسلامی وحدت کا تحفظ ہرگز اصلاحِ امور یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے حکمت اور تدبر کے ساتھ اصلاح کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ اسلامی وحدت کا تحفظ ہرگز اصلاحِ امور یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنے کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے حکمت اور تدبر کے ساتھ اصلاح کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

قم میں حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے محراب ہال میں منعقدہ صوبائی عوامی ثقافتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا کہ شہید رہبر اور رہبر انقلاب اسلامی کے حالیہ بیان میں اسلامی وحدت اور الہی محور پر اہل ایمان کے اتحاد کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم مومنین کو ہمیشہ اتحاد و یکجہتی کی دعوت دیتا ہے اور تفرقے کے نقصانات سے خبردار کرتا ہے، اس لیے ہر فرد کو اپنے بیانات، رویوں اور فیصلوں میں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ اسلامی معاشرے میں اختلاف اور انتشار پیدا نہ ہو۔

امام جمعہ قم نے واضح کیا کہ اصلاحِ معاشرہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی ذمہ داریاں ہیں، تاہم انہیں ایسے انداز میں انجام دینا چاہیے جس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر نہ ہو اور انقلاب اسلامی کی اقدار بھی محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جن سے دوسرے لوگ بے خبر ہوں تو انہیں عوامی سطح پر بیان کرنے سے پہلے اس کے نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایسے معاملات کو گفت و شنید، نصیحت، باہمی مشاورت اور ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے۔

آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ اگر کوئی بات معاشرے میں اختلاف کا سبب بنے یا دشمن کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہو تو رضائے الٰہی کی خاطر اس سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دینی رہنماؤں نے بھی مختلف ادوار میں مشکلات برداشت کیں، لیکن ہمیشہ اسلام اور امت کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قرآن کی نظر میں حقیقی وحدت سیاسی یا گروہی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ محور اللہ پر قائم ہوتی ہے۔ اختلافات کو حکمت، مصلحت اور منطقی طریقوں سے حل کرنا چاہیے اور ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے جو معاشرے میں کشیدگی اور انتشار کا باعث بنیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha