اتوار 6 ستمبر 2026 - 16:31
ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کو قرآنی قصے سنائیں: حجۃ الاسلام والمسلمین بہشتی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین بہشتی نے قرآن کریم کے مفاہیم بچوں تک پہنچانے میں ماں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب بچہ اپنی ماں سے قرآن کے قصے سنتا ہے تو یہ باتیں اس کے ذہن اور دل میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور وہ بعد میں دوسروں کو بھی یہ قصے سنا سکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین بہشتی نے حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ میں سورۂ یوسف کی تفسیر کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورت سخت حالات میں نازل ہوا اور اس میں امید کے بہت سے پیغامات موجود ہیں۔ ہمیں قرآن کے قصے صرف سننے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان میں ہماری آج کی زندگی کے لیے کیا سبق ہے۔

انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آسان الفاظ میں اس کا مطلب ’’خدا کے نام سے، خدا کی مدد سے اور خدا کی راہ میں‘‘ کام کرنا ہے۔ مؤمن کو اپنی زندگی کے ہر کام میں خدا کو یاد رکھنا چاہیے

حجۃ الاسلام بہشتی نے قرآن کو ایک روشن اور روشنی دکھانے والی کتاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی آیات میں غور و فکر اور عقل سے کام لینے کے لیے نازل ہوا ہے۔

انہوں نے قرآن کے قصوں کو حقیقی اور سبق آموز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی رہنمائی موجود ہے۔ انہوں نے ماؤں سے اپیل کی کہ وہ کم عمری ہی سے اپنے بچوں کو قرآن کے قصے آسان اور دلچسپ انداز میں سنائیں، کیونکہ ماں سے سنی ہوئی بات بچے کے ذہن اور دل میں زیادہ گہری جگہ بناتی ہے۔

سورۂ یوسف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے صرف ایک عشقیہ داستان سمجھنا درست نہیں؛ اس میں خاندانی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی زندگی کے اہم مسائل اور انسان کے لیے بے شمار سبق موجود ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha