حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے ایرانی پولیس فورس کے سربراہ سردار احمد رضا رادان سے ملاقات کے دوران امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نمازِ شب اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلصانہ تعلق کو قربِ الٰہی کے بہترین ذرائع میں شمار کیا اور کہا: امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: «اِنَّ الوُصُولَ اِلی اللهِ عَزّوجلَّ سَفَرٌ لا یُدرَکُ اِلّا بِامتِطاءِ اللَّیلِ» اللہ عزوجل تک پہنچنے کا راستہ طویل ہے اور یہ سفر بھی طویل ہے، جس کے لیے سواری ضروری ہے اور اس کی سواری نمازِ شب ہے۔ انسان تنہائی میں اور نمازِ شب کے دوران، جب کوئی دوسرا موجود نہیں ہوتا، اپنی کمزوریوں اور حقیقی ضروریات کو اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کرتا ہے اور یہی مخلصانہ تعلق انسان کے رشد و ترقی کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے قرآن کریم میں ’’امانت‘‘ کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامی نظام میں ذمہ داری اور امانت داری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: قرآن کریم کی اس آیت میں ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ...﴾ جس امانت کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد صرف قرآن، مال یا کوئی مادی چیز نہیں بلکہ یہاں امانت کے مقام اور انسان کے ’’امین اللہ‘‘ ہونے کی بات کی گئی ہے۔

اس مرجع تقلید نے مزید کہا: جس طرح کسی شخص کو امارت کا منصب دیا جائے تو وہ ’’امیر‘‘ بن جاتا ہے، اسی طرح اگر انسان کو امانتِ الٰہی کا مقام سونپا جائے تو اسے ’’امین اللہ‘‘ ہونا چاہیے۔ یہ ایک انتہائی سنگین ذمہ داری ہے اور اس کی حفاظت کے لیے حقیقی امانت داری ضروری ہے۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے پولیس فورس اور نظامِ اسلامی کے دیگر حکام کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عوام کی جان، مال، ناموس اور سرزمین اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں اور حکام کو ان امانتوں کی حفاظت کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ