جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 12:00
مہاتما گاندھی کے افکارِ امن و اتحاد آج بھی مشعلِ راہ ہیں: حجت الاسلام حکیم الٰہی

حوزہ/ گاندھی جینتی کے موقع پر ہندوستان میں رہبرِ انقلاب اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے ہندوستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کو نوآبادیاتی تسلط کے خلاف جدوجہد، امن اور عدم تشدد کی علامت قرار دیا اور ان کے افکارِ امن، اتحاد، انصاف اور انسانی وقار کو آج کے دور میں بھی قابلِ رہنمائی قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہندوستان میں رہبرِ انقلاب اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے ہندوستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کی جدوجہد، افکارِ امن و عدم تشدد اور انسانی اقدار کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اپنے خصوصی پیغام میں حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی نے مہاتما گاندھی کو ہندوستان کی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت اور نوآبادیاتی تسلط کے خلاف جدوجہد، امن اور عدم تشدد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی کی تعلیمات آج بھی معاشروں اور اقوام کے درمیان باہمی احترام، بہتر تعلقات اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں رہنمائی فراہم کرسکتی ہیں۔

انہوں نے گاندھی جینتی کے موقع پر ہندوستان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امن، اتحاد، انصاف، انسانی وقار اور عدم تشدد کو مہاتما گاندھی کے بنیادی افکار میں شمار کیا اور کہا کہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دنیا میں ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی اور اقوام کے درمیان اتحاد کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی نے موجودہ عالمی صورتِ حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو مختلف نوعیت کے تنازعات، اختلافات اور کشیدگی کا سامنا ہے، ایسے میں امن، انصاف اور انسانی وقار جیسے اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے بقول، تاریخ کی ان شخصیات کے افکار سے استفادہ کرنا ضروری ہے جنہوں نے ظلم و استعمار کے مقابلے میں امن اور انسانی اقدار کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔

انہوں نے مہاتما گاندھی کی جدوجہد کو ہندوستان کی تحریکِ آزادی اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کا ایک اہم باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی کے افکار میں موجود امن، اتحاد، انسانی احترام اور عدم تشدد کے پیغامات آج بھی مختلف معاشروں اور اقوام کے درمیان بہتر فہم، تعاون اور پُرامن تعلقات کے فروغ کے لیے قابلِ توجہ ہیں۔

رہبرِ انقلاب اسلامی کے نمائندے نے اس امر پر زور دیا کہ معاشروں میں باہمی ہم آہنگی اور اقوام کے درمیان پُرامن تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انصاف، انسانی عزت و وقار، اتحاد اور عدم تشدد جیسے اصولوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔

ہندوستان اور ایران کے تاریخی تہذیبی و ثقافتی روابط کے تناظر میں امن، باہمی احترام اور انسانی اقدار دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کی اہم بنیاد رہے ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کے اس پیغام میں ایران اور ہندوستان کے باہمی تعلقات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مرکزی موضوع مہاتما گاندھی کی شخصیت، ان کی جدوجہد اور امن و اتحاد پر مبنی افکار رہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی نے ایک بار پھر ہندوستانی عوام کو مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گاندھی کے امن، اتحاد، انصاف اور انسانی وقار پر مبنی افکار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دنیا میں ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی اور اقوام کے درمیان اتحاد کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha