حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک/ مسجد عسکری کریم پور میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی نے تقویٰ، سچائی، امانت داری، حسنِ اخلاق، علم و علما کی قدر و منزلت اور موجودہ عالمی حالات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے حالیہ خطاب کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی فورم پر ایران کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کا جرأت مندانہ جواب دیا اور ایران میں امریکی و صہیونی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تصاویر پوری دنیا کے سامنے پیش کیں۔
’’ہم دہشت گرد نہیں، دہشت گردی کے شکار ہیں‘‘
مولانا سید وصی حیدر رضوی نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کے ایران کو دہشت گرد قرار دینے والے مؤقف کے جواب میں واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ہم دہشت گرد نہیں، بلکہ دہشت گردی کے شکار ہیں؛ ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پزیشکیان نے عالمی برادری کے سامنے نہایت جرأت کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ جن لوگوں اور طاقتوں نے ایران کے خلاف حملے کیے، وہی ایران کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کیسے کرسکتی ہیں۔ ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والی جارحیت، شہریوں کی شہادت اور غیرنظامی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ انسانی المیے کی جانب مبذول کرائی۔
امام جمعہ کریم پور نے کہا کہ پزیشکیان کے خطاب کا ایک اہم اور دردناک پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی فورم پر میناب کے اسکول میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں بلند کرکے دنیا کے سامنے پیش کیں۔ اس موقع پر انہوں نے ان بچوں کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ایران پر ہونے والے حملوں کے انسانی نتائج کو عالمی برادری کے سامنے رکھا۔
مولانا نے کہا کہ میناب کے اسکول پر حملے میں تقریباً 168 کی تعداد میں معصوم طالبات شہید ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی اس حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے پلیٹ فارم پر ایران کے مؤقف کو اس انداز میں پیش کرنا اور معصوم شہید بچوں کی تصاویر دنیا کے سامنے لانا ایک اہم سفارتی اور انسانی اقدام تھا۔ پزیشکیان کی تقریر کو عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی نمایاں طور پر رپورٹ کیا، جس میں ان کے ’’ایران دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے‘‘ والے مؤقف اور میناب کے بچوں کی تصاویر پیش کرنے کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا۔
مولانا نے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جانا پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ عالمی برادری کو طاقت اور جنگ کے بجائے انصاف، مذاکرات، سفارت کاری اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔
امام حسن عسکریؑ کی تعلیمات؛ تقویٰ اور حسنِ اخلاق شیعہ کی شناخت
خطبے کے ایک اہم حصے میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی اپنے پیروکاروں کے لیے معروف وصیت بیان کرتے ہوئے تقویٰ، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے امام حسن عسکریؑ کے اس فرمان کا حوالہ دیا: «فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ إِذَا وَرِعَ فِي دِينِهِ، وَصَدَقَ فِي حَدِيثِهِ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ، وَحَسَّنَ خُلُقَهُ مَعَ النَّاسِ، قِيلَ: هَذَا شِيعِيٌّ، فَيَسُرُّنِي ذَلِكَ» انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکریؑ نے اس حدیث میں شیعہ کی حقیقی شناخت کو اس کے کردار اور عملی زندگی سے وابستہ کیا ہے۔ تقویٰ، سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق صرف انفرادی خوبیاں نہیں بلکہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی عملی تصویر ہیں۔
مولانا نے کہا کہ ہمیں اپنے قول و عمل کے ذریعے اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی نمائندگی کرنی چاہیے۔ انسان کا اخلاق اور لوگوں کے ساتھ اس کا برتاؤ اس کی دینی تربیت اور ایمان کی عملی علامت ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے میں دیانت داری، رواداری، حسنِ سلوک اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔
علم و علما کی قدر و منزلت
مولانا سید وصی حیدر رضوی نے علم اور علما کی قدر و منزلت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی علم انسان کو حق و باطل اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے اور اس کے کردار کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستگی کے ساتھ علم کا حصول اور اہلِ علم کا احترام بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ نئی نسل کی صحیح دینی تربیت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے علم و معرفت اور علما کی رہنمائی سے استفادہ ضروری ہے۔
آیت اللہ شبیری زنجانیؒ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
خطبے کے آغاز میں مولانا سید وصی حیدر رضوی نے مرجعِ عالیقدر آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور ان کی گرانقدر علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے جلیل القدر علما کی علمی خدمات اور دینی میراث حوزاتِ علمیہ اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
خطبے کے اختتام پر مولانا سید وصی حیدر رضوی نے کہا کہ موجودہ دور میں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تقویٰ، سچائی، امانت داری، حسنِ اخلاق، علم کی قدر اور مظلوم انسانوں کے ساتھ ہمدردی ہی وہ اصول ہیں جو ایک صالح، باوقار اور پُرامن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ