جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 17:16
عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع دینی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

حوزہ/ رنگون، میانمار کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے علمائے دین کی حجیت، مقام و منزلت اور تکریم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عصرِ غیبت میں دینی مسائل کے لیے فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع، علم و تقویٰ کے ساتھ اہلِ علم کا احترام اور نوجوان نسل کو قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے جوڑنا معاشرے کی اہم دینی ذمہ داری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رنگون، میانمار/ رنگون کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے ’’مکتبِ اہلِ بیتؑ میں علمائے دین کی حجیت، مقام و منزلت اور تکریم‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے قرآن و روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں علم اور علما کی فضیلت، عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع کی اہمیت اور علمائے دین کے احترام و تکریم کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو خشیتِ الٰہی، تقویٰ، اخلاص اور عملِ صالح کی طرف لے جائے۔ ایسے علما جو علم کے ساتھ تقویٰ، اخلاص اور صالح کردار کے حامل ہوں، قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے محافظ، مفسر اور معاشرے کی فکری و دینی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔

عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع دینی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

قرآن کریم میں علم اور اہلِ علم کا بلند مقام

خطبۂ جمعہ کے آغاز میں قرآنِ کریم کی ان آیات کا حوالہ دیا گیا جن میں علم اور اہلِ علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ قرآن مجید اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے درجات کی بلندی کا ذکر کرتے ہوئے علم کو ایک عظیم الٰہی نعمت قرار دیتا ہے۔

انہوں نے سورۂ مجادلہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے، جبکہ سورۂ زمر میں اہلِ علم اور بے علم افراد کے درمیان واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ فاطر میں علم رکھنے والوں کی خشیتِ الٰہی کو نمایاں کیا گیا ہے۔

امام جمعہ رنگون نے کہا کہ قرآن کے ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تصورِ علم میں علم اور تقویٰ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایسا علم جو انسان کے اندر خدا خوفی، اخلاق اور ذمہ داری پیدا نہ کرے، وہ اپنے حقیقی مقصد سے محروم رہ جاتا ہے۔

علمائے دین وارثانِ انبیا ہیں

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے امام جعفر صادقؑ سے منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبِ علم کے لیے آسمان و زمین کے فرشتے حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں، جبکہ عالم کی فضیلت عابد پر چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر فضیلت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اسی روایت میں علمائے دین کو انبیا کا وارث قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ’’علمائے دین وارثانِ انبیا ہیں‘‘ کا مطلب مادی یا مالی وراثت نہیں بلکہ علم، معرفت، ہدایت، اخلاق اور دینی ذمہ داری کی وراثت ہے۔ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھیں، ان کی تشریح کریں اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کریں۔

عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع دینی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

توقیعِ امام زمانہؑ اور عصرِ غیبت میں علما سے رجوع

خطبے کے اہم حصے میں امام زمانہؑ کے معروف توقیع کا حوالہ دیتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ عصرِ غیبت میں پیش آنے والے دینی مسائل اور نئے حالات کے سلسلے میں اہلِ بیتؑ کی احادیث کے ماہرین اور اہلِ علم کی طرف رجوع کی ہدایت دی گئی ہے۔

انہوں نے توقیع شریف کے جملے ’’فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ، وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عصرِ غیبت کے دوران دینی رہنمائی کے لیے اہلِ علم اور فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ’’فإنهم حجتي عليكم‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ عالمِ دین امامِ معصومؑ کے برابر یا ان سے مستقل مقام رکھتا ہے، بلکہ عالمِ دین کی حجیت امامِ معصومؑ کی حجیت کے تابع ہے۔ عالمِ دین لوگوں کو احکامِ دین سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ اور امامِ معصومؑ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔

دینی مسائل میں تخصص کی ضرورت

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ جس طرح طب کے معاملات میں ماہر ڈاکٹر، انجینئرنگ میں ماہر انجینئر اور قانونی امور میں ماہر قانون دان سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح دینی علوم بھی تخصص کا تقاضا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر فرد کے لیے قرآن و روایات سے تمام شرعی احکام براہِ راست اخذ کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے پیچیدہ اور تخصصی دینی مسائل میں ایسے فقہا سے رجوع کیا جانا چاہیے جو قرآن، حدیث، اصولِ فقہ اور دیگر متعلقہ علوم میں مہارت رکھتے ہوں۔

ان کے مطابق اہلِ تخصص سے دینی رہنمائی حاصل کرنا فکری کمزوری نہیں بلکہ علم اور تخصص کے اصول کو تسلیم کرنے کی علامت ہے۔

لباسِ روحانیت نہیں، علم و تقویٰ اصل معیار ہے

خطبے میں علمائے دین کی صفات پر روشنی ڈالتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے واضح کیا کہ صرف لباسِ روحانیت کسی شخص کو عالمِ دین اور قابلِ اعتماد دینی رہنما نہیں بناتا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی عالمِ دین کی پہچان اس کے علم و تخصص، تقویٰ، اخلاص، علم پر عمل، امانت داری، حق پسندی، عوام کے لیے خیر خواہی، دنیا طلبی سے اجتناب اور قرآن و مکتبِ اہلِ بیتؑ سے مضبوط وابستگی سے ہوتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علمائے دین کی تکریم کا مطلب ہر فرد کی ہر بات کو بلا تحقیق قبول کرنا نہیں، بلکہ عالمِ دین کی علمی اور اخلاقی صلاحیتوں کو معیار بنا کر اس سے استفادہ کرنا ہے۔

علمائے دین کا احترام دراصل علم اور دین کا احترام ہے

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے علمائے دین کی تکریم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے منقول روایت کا حوالہ دیا کہ جو شخص کسی عالم کی تعظیم کرتا ہے، وہ اپنے پروردگار کی تعظیم کرتا ہے۔

امام جمعہ رنگون نے کہا کہ عالمِ دین کا احترام درحقیقت علم، معرفت، قرآن اور اہلِ بیتؑ کے علمی و روحانی ورثے کا احترام ہے۔ معاشرے میں اہلِ علم اور علما کی قدر و منزلت برقرار رکھنا دینی شعور اور علمی روایت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالم جتنا علم میں آگے بڑھتا ہے، اس کے اندر تواضع اور اپنے اساتذہ کے احترام کا جذبہ بھی اتنا ہی بڑھنا چاہیے۔

بزرگانِ دین کی زندگیوں سے استاد کے احترام کی مثالیں

خطبے کے دوران علمائے سلف کے طرزِ عمل سے متعلق مختلف واقعات بھی بیان کیے گئے۔ شیخ مرتضیٰ انصاریؒ کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ اپنے عظیم استاد صاحبِ جواہر کے خاندان اور ان سے وابستہ افراد کے ساتھ خصوصی احترام کا برتاؤ کرتے تھے۔

آیت اللہ حائری یزدیؒ کے حوالے سے بیان کیا گیا کہ انہوں نے اپنے استاد سید محمد فشارکیؒ کی بیماری کے دوران ان کی خدمت اور نگہداشت کی۔ اس واقعے کو شاگرد کی طرف سے استاد کے احترام، اخلاص اور علمی نسبت کی عملی مثال قرار دیا گیا۔

اسی طرح آیت اللہ گلپایگانیؒ کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنے استاد کے ساتھ انتہائی احترام کا برتاؤ کرتے تھے اور استاد کے انتقال کے بعد بھی ان کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کرتے تھے۔

امام خمینیؒ کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ انہوں نے اپنے اساتذہ اور گزشتہ دور کے جلیل القدر علما کا ہمیشہ احترام کیا اور اپنی تحریروں اور تقاریر میں ان کا ذکر نہایت تعظیم کے ساتھ کیا۔ ان کے اس طرزِ عمل کو طلاب اور نئی نسل کے علما کے لیے علمی تواضع اور استاد کی تکریم کی مثال قرار دیا گیا۔

فتنوں اور اطلاعات کے ہجوم میں عالمِ دین کا کردار

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے موجودہ دور کے فکری اور معاشرتی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے زمانے میں مختلف ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، غلط معلومات اور فکری شبہات کی کثرت نے دینی رہنمائی کی ضرورت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صالح اور صاحبِ علم عالمِ دین عقائد سے متعلق شبہات کا جواب دینے، شرعی احکام کی وضاحت کرنے، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی، معاشرتی اختلافات میں کمی، عوام کو قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے جوڑنے اور دین کے بارے میں غلط تصورات کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق معاشرے میں صالح اور باصلاحیت علما کی موجودگی ایک اہم دینی اور سماجی نعمت ہے، جس سے نئی نسل کو صحیح فکری سمت فراہم کی جاسکتی ہے۔

عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع دینی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

نوجوان نسل کو علم اور اہلِ علم سے جوڑنے پر زور

خطبے میں نوجوانوں کی دینی و فکری تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ علمائے دین کی تکریم صرف رسمی احترام تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ نئی نسل کو علم، تحقیق، دینی مطالعے اور اہلِ علم سے استفادے کی اہمیت سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو قرآن، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور دینی علوم سے جوڑنے کے ساتھ انہیں یہ شعور بھی دینا چاہیے کہ دینی مسائل کے بارے میں غیر مستند ذرائع کے بجائے اہلِ تخصص اور معتبر علمی مراکز سے رہنمائی حاصل کی جائے۔

محبتِ امام زمانہؑ کا عملی تقاضا

خطبے کے آخری حصے میں امام زمانہؑ سے تعلق اور عصرِ غیبت میں دینی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ امام زمانہؑ سے محبت صرف زبانی اظہار یا آپؑ کے نام کے ذکر تک محدود نہیں بلکہ آپؑ کی تعلیمات اور دینی رہنمائی کے تقاضوں کو سمجھنا بھی اس محبت کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصرِ غیبت میں دینی مسائل کے سلسلے میں واجدِ شرائط فقہا اور اہلِ علم سے رجوع، شیعی معاشرے کے علمی و دینی نظام کا اہم پہلو ہے۔ تاہم اس کے ساتھ خود عالمِ دین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قرآن، شریعت، تقویٰ، اخلاق اور حق کے سامنے جواب دہ رہے۔

عصرِ غیبت میں فقہائے واجدِ شرائط سے رجوع دینی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

علم، تقویٰ اور خدمت؛ عالمِ دین کی اصل پہچان

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ علمائے دین کی حقیقی قدر ان کے ظاہری منصب سے نہیں بلکہ علم، تقویٰ، اخلاص، امانت داری، خدمتِ دین اور خدمتِ خلق سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ صالح اہلِ علم کا احترام کریں، ان سے استفادہ کریں اور دینی معاملات میں غیر مستند معلومات کے بجائے اہلِ تخصص سے رجوع کریں۔ اسی طرح علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم و تقویٰ، اخلاص اور خدمت کے ذریعے معاشرے کا اعتماد برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جو معاشرہ علم کی قدر کرتا، اہلِ علم کا احترام کرتا اور اپنی نوجوان نسل کو صالح علما اور معتبر علمی ذرائع سے جوڑتا ہے، وہاں دینی شعور اور فکری بنیادیں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر امام زمانہؑ کے ظہور، علمائے صالح کی سلامتی، نوجوان نسل کی ہدایت اور مسلم معاشرے کی عزت و سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha