جمعہ 13 فروری 2026 - 19:12
لکھنؤ: پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج، دہشت گردی کی شدید مذمت

حوزہ/ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور شیعہ برادری کے خلاف مبینہ منظم تشدد کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد لکھنؤ میں احتجاج کیا گیا، جس میں مقررین نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری توجہ اور مظلوموں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

لکھنؤ/ پاکستان کے پایۂ تخت اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں شیعوں کی منظم نسل کشی کے خلاف آج مجلس علمائے ہند کے زیر اہتمام آصفی مسجد لکھنؤ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج ہوا۔احتجاج کی رہنمائی مولانا کلب جواد نقوی نے کی ۔مظاہرین نے دہشت گردی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف ’مردہ باد ‘ کے نعرے لگائے۔

مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں شیعوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے ۔شیعوں کی مساجد اور امام باڑوں میں دھماکے ہوتے ہیں ،ہزاروں شیعہ جوانوں کا اغوا کرکے انہیں غائب کردیا جاتا ہے ،جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔مولانانے کہا کہ پاکستان میں میں دہشت گردی کے پیچھے تکفیری گروہوں کا ہاتھ ہے وہاں شیعوں کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔

مولانانے مزید کہاکہ جب سے برطانیہ کی سرپرستی میں وہابیت اور تکفیریت کا سلسلہ شروع ہوا تب سے دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا۔انہوں نے کہاکہ شیعوں پر جتنے بھی ظلم ہوتے ہیں کافر و مشرک کہہ کر ہوتے ہیں کیونکہ یہ وہابیت اور تکفیریت کا شیعوں کے خلاف فتویٰ ہے ۔اسی بناپر تکفیری تنظیمیں شیعوں کے خلاف خودکش حملے کرتی ہیں اور ان کی نسل کشی کی جاتی ہے ۔

مولانا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کا برین واش کرکے دہشت گردانہ واقعات انجام دیتی ہیں ۔یہ منصوبہ بندی مدتوں پرانی ہے ،جس کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں۔یہ تنظیمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتی ہیں،جس کے لئے تکفیری مولویوں کو موٹی فنڈنگ ہوتی ہے۔ مولانا نے مزید کہاکہ ان دہشت گرد تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ وہ کافروں اور مشرکوں کا قتل کرتے ہیں تو پھر ٹرمپ کا استقبال کیوں کیا جاتا ہے؟ امریکی صدر کے سامنے مسلم حکمران اپنی ناموس کیوں پیش کررہے ہے ؟ کیا ٹرمپ مسلمان ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلم حکمران امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو دہشت گردنظریات کی پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں فروغ دیتے ہیں۔

مولانا نے آگے کہاکہ پوری دنیا میں امریکی اور اسرائیلی سازشوں کا مقابلہ صرف شیعہ کررہے ہیں اس لئے ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔پوری دنیا کے مسلم حکمران امریکہ و اسرائیل کے سامنے تسلیم ہوچکے ہیں ،صرف شیعہ مزاحمت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی بڑی بڑی مسلم تنظیمیں بھی شیعہ نسل کشی اور دہشت گردی پر خاموش رہتی ہیں اور ان کی طرف سے کوئی مذمتی بیان تک نہیں آتا،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تنظیمیں بھی عالمی طاقتوں کی آلۂ کار ہیں اور ان کی ذہنیت بھی دہشت گرد تنظیموں سے مختلف نہیں ۔

مولانا نے کہا کہ ظلم کسی بھی مذہب اور عقیدے کے لوگوں پر ہو رہا ہو ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، تاکہ ہمارا انسانی فریضہ ادا ہوسکے ۔ہم احتجاج کرکے پیغام دیتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے حامی نہیں بلکہ مظلوموں کے حامی ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہم اسلام آباد کی جامع مسجد میں شہید ہونے والے تمام شہداء کے خانوادوں کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب تک دہشت گردی پر دُہرا معیار ختم نہیں ہوگا دہشت گردی بھی ختم نہیں ہوگی ۔

مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مولانا رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوا دہشت گردانہ حملہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اشارے پر تھا۔کیونکہ نماز جمعہ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نمازی جمع ہورہے تھے اور یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کی صورت میں تمام شیعہ ایران کی حمایت کریں گے ،اس لئے امریکہ نے داعش کے دہشت گردوں کے ذریعہ شیعوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے یہ خودکش دھماکہ کروایا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ داعش کو امریکی اور اسرائیلی سرپرستی حاصل ہے جیساکہ کئی امریکی عہدیدار ماضی میں اس کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں ۔

مولانا نے کہا کہ ہم پاکستان میں شیعوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیعوں کو تحفظ فراہم کرایا جائے ۔مولانا نے کہاکہ پاکستان میں شیعہ محفوظ نہیں ہیں ،ہمارے پاس الفاظ نہیں جن کے ذریعہ اس نسل کشی کے واقعات کی مذمت کی جائے ۔

احتجاج میں مولانا نقی عسکری ،مولانا شباہت حسین ،مولانا فیروز حسین ،مولانا حسن جعفر ، مولانا عادل فراز نقوی اور دیگرافراد نے شرکت کی ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha