جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 16:43
پاکیزگیِ نفس، حرمتِ قرآن اور حمایتِ مظلومین دینی و انسانی ذمہ داریاں ہیں: مولانا سید وصی حیدر رضوی

حوزہ/ امام جمعہ کریم پور کرناٹک مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبۂ جمعہ کے دوران پاکیزگیِ نفس، توبہ و استغفار، حرمتِ قرآن و رسولؐ اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کو دینی و انسانی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے انسان کو پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کرنا، گناہوں سے اجتناب کرنا اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ انہوں نے قرآن کریم کی حرمت کے تحفظ، مظلوموں کی حمایت، سیرتِ اہلِ بیتؑ سے رہنمائی حاصل کرنے اور نوجوانوں میں دینی شعور و باہمی اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک/ امام جمعہ کریم پور کرناٹک، مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبۂ جمعہ میں قرآن و احادیث کی روشنی میں پاکیزگی، توبہ و استغفار، اصلاحِ نفس، اتحادِ امت اور مظلوموں کی حمایت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حقیقی دینی شعور کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو پاکیزہ بنائے، اپنے کردار کی اصلاح کرے، مقدساتِ دین کا احترام کرے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مظلوموں کے حقوق کی حمایت کرے۔

مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبۂ اول میں جسم، لباس، مال، فکر اور قلب کی پاکیزگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سورۂ بقرہ کی آیت ۲۲۲ تلاوت کی: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ» ترجمہ: بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں پاکیزگی کا مفہوم صرف جسم اور لباس کی صفائی تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے مال، فکر، ذہن اور دل کی پاکیزگی بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ انسان کی روحانی ترقی اور اخلاقی بلندی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی اصلاح پر بھی توجہ دے۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ گناہ انسان کے قلب پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جب کہ توبہ اس کے باطن کو پاکیزہ بنانے اور روحانی زندگی کو بحال کرنے کا ذریعہ ہے۔

روایت میں آیا ہے: «مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَفِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، فَإِذَا أَذْنَبَ خَرَجَ فِي النُّكْتَةِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِنْ تَابَ ذَهَبَ ذَلِكَ السَّوَادُ» ہر دل میں ایک سفید نقطہ ہوتا ہے۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس میں ایک سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن توبہ کرنے سے وہ سیاہی دور ہو جاتی ہے۔

مولانا سید وصی حیدر رضوی نے اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سچی توبہ انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس دلاتی ہے اور اسے اصلاحِ نفس، پاکیزہ کردار اور نیک اعمال کی طرف واپس لاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان گناہوں سے اجتناب کرے اور اپنی زندگی کو اخلاقی و روحانی اعتبار سے بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔

قرآن و رسول اکرمؐ کی حرمت اور مظلوموں کی حمایت

خطبۂ ثانی میں مولانا سید وصی حیدر رضوی نے قرآن مجید کی توہین، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور فلسطین کے مظلوم عوام کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقدساتِ دین کا احترام اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ دینی و انسانی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے ایران کے سابق صدر سید ابراہیم رئیسی کی جانب سے اقوام متحدہ میں قرآن مجید کے احترام کا مسئلہ اٹھانے کا حوالہ دیتے ہوئے ایران، لبنان اور یمن سے فلسطینی عوام کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کا ذکر کیا۔

مولانا نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوموں کے حقوق کی حمایت کرنا ایک اہم دینی اور انسانی فریضہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کے باوجود حق و انصاف کا ساتھ دینا ضروری ہے اور انسان کو اپنے مذہبی و اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر مظلوموں کی حمایت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دینی تعلیمات انسان کو عدل، انصاف اور انسانی حرمت کا درس دیتی ہیں۔ لہٰذا کسی بھی معاشرے میں ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشش کرنا ان تعلیمات کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔

حدیثِ افتراق اور دینی روایات کے مطالعے میں تحقیق کی اہمیت

مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبے کے دوران حدیثِ افتراق کا حوالہ دیتے ہوئے امتِ مسلمہ میں اختلافات اور فرقہ بندی کے مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوں نے شیعہ مصادر میں نقل ہونے والی اس روایت کا ذکر کیا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امتوں میں فرقوں کی تعداد بیان کرنے کے بعد امتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی فرقہ بندی کا ذکر کیا گیا ہے۔

روایت کے الفاظ یہ ہیں: «افْتَرَقَتْ أُمَّةُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتْ أُمَّةُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً»

ترجمہ: امتِ موسیٰ علیہ السلام اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی، امتِ عیسیٰ علیہ السلام بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی؛ ان میں سے ایک کے سوا باقی سب جہنم میں ہوں گے۔

اس روایت کا حوالہ مجلۂ تراثنا، مصادر العقائد عند الشيعة، صفحہ ۲۹۶ میں دیا گیا ہے۔ فراہم کردہ متن کے مطابق، اس روایت کے مختلف الفاظ اور طرق بھی منقول ہیں۔

مولانا سید وصی حیدر رضوی نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دینی روایات کا مطالعہ تحقیق اور غور و فکر کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ عقائد کو سمجھنے، روایات کے مفاہیم کا جائزہ لینے اور دینی مسائل میں علمی بصیرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود اخلاق، شائستگی اور باہمی احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اصلاحِ نفس، اتحادِ امت اور حق و انصاف کا ساتھ دینے کی تاکید

مولانا سید وصی حیدر رضوی نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ حقیقی دینی شعور صرف مذہبی تعلیمات سے واقفیت کا نام نہیں، بلکہ ان تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کو اپنے کردار کی اصلاح، پاکیزگی، توبہ و استغفار اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں، دینی مسائل کو سنجیدگی اور تحقیق کے ساتھ سمجھیں اور حق و انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ محمد و آل محمد علیہم السلام کے وسیلے سے تمام بیماروں کو شفا عطا فرمائے اور تمام مؤمنین و مؤمنات کو اپنی رحمت و مغفرت سے بہرہ مند فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha