ہفتہ 1 اگست 2026 - 23:23
توحید، زیارت، عاشورا اور مہدویت کو محض روایتی نہیں بلکہ فکری و عملی زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

حوزہ / جامعۃ النجف کے استاد، محقق اور مصنف حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے کہا ہے کہ زیارتِ ائمہ اہل بیت علیہم السلام، توحید، قیامِ امام حسین علیہ السلام اور مہدویت جیسے بنیادی موضوعات کو محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری، تربیتی اور عملی مکتب کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کے تسلسل میں جامعۃ النجف کے استاد، محقق، مصنف اور مبلغ حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے اپنی متعدد اہم تصانیف کے مقاصد، علمی پس منظر اور انفرادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

"حرمِ امام علی علیہ السلام میں ایک مراقبہ" کی فکری جہت

شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ ان کی کتاب "حرمِ امام علی علیہ السلام میں ایک مراقبہ" ایک مختصر مگر فکری کتابچہ ہے، جس کی بنیاد زیارات کے دوران حاصل ہونے والے مشاہدات اور تأملات پر رکھی گئی۔

انہوں نے کہا: حرمِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، ایران، عراق اور عمرہ کے مختلف اسفار کے دوران وہ زیارت کے حقیقی مقصد، خود احتسابی اور زائر کی ذمہ داریوں سے متعلق نکات قلم بند کرتے رہے، جنہیں بعد ازاں ایک منظم کتاب کی صورت میں مرتب کیا گیا۔

انہوں نے کہا: اس کتاب میں دو بنیادی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک حقیقی زائر کی فکر، نیت، اخلاق اور عملی کردار کیسا ہونا چاہیے، اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام اپنے زائرین سے کن عملی تقاضوں کی توقع رکھتے ہیں۔ اس میں ولایت، براءت اور دینی ذمہ داریوں کو سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

توحید، زیارت، عاشورا اور مہدویت کو محض روایتی نہیں بلکہ فکری و عملی زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

"روحِ توحید"؛ فکرِ رہبر معظم کی بنیاد

انہوں نے اپنی تازہ شائع ہونے والی کتاب "روحِ توحید" کے بارے میں بتایا کہ یہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ایک اہم تصنیف کی نئی تدوین ہے، جس میں مشکل عبارات کو آسان، ذیلی عنوانات کا اضافہ اور مطالب کو جدید اسلوب کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا: میرے نزدیک یہ کتاب رہبر معظم کی پوری فکری و عملی منظومے کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تمدنی فکر کا مرکز تصورِ توحید ہے، جبکہ بعد کی تحریریں اور خطابات اسی بنیادی فکر کی تشریح ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اسی بنا پر وہ "روحِ توحید" کو فکرِ رہبر معظم کو سمجھنے کے لیے "اُمّ الکتاب" کی حیثیت رکھنے والی کتاب تصور کرتے ہیں۔

"قیامِ امام حسین علیہ السلام: اہداف و پس منظر"

حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ ان کی کتاب "قیامِ امام حسین علیہ السلام: اہداف و پس منظر" دو بنیادی سوالات کے گرد مرتب کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا: اس کتاب میں یہ تحقیق کی گئی ہے کہ آیا امام حسین علیہ السلام کا قیام صرف بیعتِ یزید کے مطالبے کا ردعمل تھا یا اس کے پس منظر میں اسلام کی فکری، تہذیبی اور دینی بنیادوں میں پیدا ہونے والے گہرے انحرافات کارفرما تھے۔

انہوں نے کہا: کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ قیامِ امام حسین علیہ السلام محض ایک سیاسی تحریک نہیں بلکہ دینِ اسلام کی حقیقی روح، اقدار اور نظامِ حیات کے تحفظ کے لیے ایک عظیم اصلاحی تحریک تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کتاب کے آخر میں معتبر تاریخی اور تحقیقی مصادر و مراجع کی جامع فہرست بھی شامل کی گئی ہے اور اب تک اس کے تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، جو اس کی علمی افادیت کی علامت ہیں۔

توحید، زیارت، عاشورا اور مہدویت کو محض روایتی نہیں بلکہ فکری و عملی زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

"مہدی موعود"؛ سوال و جواب کی جامع کتاب

شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ "مہدی موعود" مہدویت کے موضوع پر سوال و جواب کے انداز میں مرتب کی گئی ایک جامع کتاب ہے، جس میں تقریباً بارہ سو سوالات کے مستند اور مدلل جوابات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا: اس کتاب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت، غیبت، ظہور، عالمی حکومت اور مہدوی معاشرے سے متعلق مباحث کو بارہ ابواب میں آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تصنیف کا بنیادی مقصد نئی نسل کو مہدویت کے بارے میں مستند اور منظم آگاہی فراہم کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے دینی مراکز، مطالعاتی حلقوں اور علمی مقابلوں میں بھی بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: بچوں میں معرفتِ امام زمان علیہ السلام کو فروغ دینے کے لیے "مہدوی بچے" کے عنوان سے بھی ایک کتاب تیار کی گئی ہے، جسے بچوں کی نفسیاتی ضروریات اور تعلیمی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔

قرآن فہمی کے لیے نیا نصاب

شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ اس وقت تعلیم و تربیت، امتِ واحدہ، آزادی اور دیگر اہم موضوعات پر متعدد کتابیں مختلف مراحلِ تکمیل میں ہیں، جو جلد منظر عام پر آئیں گی۔

انہوں نے کہا: ان منصوبوں میں ایک اہم کام "قرآن کے ترجمے کی تمہیدی تعلیم" ہے، جس کا مقصد قرآن کریم کے ترجمے کو عام کرنا اور قرآن فہمی کو آسان بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں سورۂ حمد سے سورۂ ناس تک حتیٰ الامکان غیر تکراری قرآنی الفاظ کو تدریجی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تاکہ قاری بنیادی قرآنی ذخیرۂ الفاظ سے مرحلہ وار آشنا ہو سکے۔

ان کے مطابق یہ نصاب 184 دروس پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد میں صرف قرآنی الفاظ اور ان کے معانی شامل ہیں، جبکہ دوسری جلد میں انہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کا متن بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ قرآن فہمی کے میدان میں ایک مؤثر اور مفید نصاب ثابت ہو گا۔

توحید، زیارت، عاشورا اور مہدویت کو محض روایتی نہیں بلکہ فکری و عملی زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

"نہضتِ حسینی" پر جاری تحقیق

حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ ان کا ایک اہم تحقیقی منصوبہ "نہضتِ حسینی" کے موضوع پر ہے، جس پر مسلسل علمی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا: اس تحقیق میں مدینہ منورہ سے لے کر دربارِ یزید تک حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام سجاد علیہ السلام کے خطبات، فرامین اور بیانات کو بنیادی مآخذ کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا پیغام کوئی نیا نظریہ نہیں تھا، بلکہ وہی آفاقی دعوت تھی جو تمام انبیائے الٰہی، قرآن کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔

ان کے بقول، قیامِ امام حسین علیہ السلام درحقیقت قرآن و سنت کی عملی تفسیر ہے، جسے صرف ایک تاریخی واقعہ یا مجالس و مراثی تک محدود کرنے کے بجائے ہر دور کے لیے ایک عملی دستورِ حیات کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس تحقیق کی بنیاد تین اصولوں پر قائم ہے: نہضتِ حسینی کو اہل بیت علیہم السلام کے اپنے خطبات اور فرامین کی روشنی میں سمجھنا، ہر تجزیے کو قرآن و سنت کے معیار پر پرکھنا، اور کربلا کو عصر حاضر کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے ایک عملی نمونہ قرار دینا۔

مطالعہ اور کتب بینی کے فروغ کی کوششیں

شیخ سجاد حسین مفتی نے کہا: اگرچہ اس مقصد کے لیے کوئی باقاعدہ ادارہ قائم نہیں کیا گیا، تاہم اپنی استطاعت کے مطابق مطالعے کے فروغ کے لیے مختلف عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ "قرآنی دستورِ حیات" کو مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہ خود اس سے استفادہ کریں اور طلبہ کے لیے اسے درسی یا انعامی مقابلوں کا حصہ بنائیں۔

انہوں نے کہا: ان کی ترجیح کتابوں کی تجارتی اشاعت سے زیادہ علمی اور تعلیمی حلقوں میں ان کے تعارف اور استفادے کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہر سال موسمِ سرما میں احباب کے تعاون سے قرآن فہمی پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے، جو عموماً فروری کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر امتحان لیا جاتا ہے اور نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا: "حرمِ امام علی علیہ السلام میں ایک مراقبہ" اور "روحِ توحید" جیسی کتابوں کو بھی سنجیدہ قارئین اور اہلِ علم تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ ان کے علمی اور فکری مضامین سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں اپنے مطالعہ و تحقیق کا حصہ بنا سکیں۔

آخر میں حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو جدید اسلوب اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئی نسل تک پہنچایا جائے تو معاشرے میں فکری، اخلاقی اور دینی بیداری کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔

توحید، زیارت، عاشورا اور مہدویت کو محض روایتی نہیں بلکہ فکری و عملی زاویے سے سمجھنے کی ضرورت ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha