تحریر: شیخ سجاد مفتی
حوزہ نیوز ایجنسی|
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ
(اے نبیؐ)ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء:۱۰۷)
اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ
میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے ربّ نے میری طرف بھیجی جاتی ہے۔ (اعراف:۲۰۳)
رحمت عالمؐ : سنہ ۵۷۲ عیسوی کو ایک پرامن، مراعات یافتہ،جہالت زدہ اور طبقاتی نظام کی چکّی میں پسے ہوئے شہر میں ایک یتیم بچہ پیدا ہوا۔ اس کی تربیت اور پرورش اس کے دادا، والدہ اور چچا نے کی۔ وہ بچپن ہی سے نرالی شخصیت کا مالک تھا۔ اس وقت معاشرے پر حاکم کلچر، ثقافت اور رسومات کے گرد و غبار سے اس کا دامن گرد آلود نہیں ہوا۔ حکمت آمیز خاموشی، شائستہ گفتگو، بےلوث خدمت، صداقت و امانت اور یکتا پرستی پر مبنی فکر و عمل اس کی نمایاں صفات تھیں۔ یہ بچہ جوان ہوا۔ اس نے چالیس سال کی عمر میں قدم رکھا تو اسے ایک کتاب ملی۔ اس کتاب کو اس نے احترام سے وصول کیا۔اس کے حرف حرف اسے پڑھ کر سنایا گیا۔ اس نے پوری توجہ سے اسے سنا، حفظ کیا، سو فیصد سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ اس نے یہ کتاب دوسروں کو بھی سنائی،سمجھائی اور اس پرعمل کروایا۔ اسے نہ دولت کی دھن،نہ منصب کی خواہش،نہ قیادت کا شوق،نہ آرائش کا ذوق۔ اس نے یتیموں کو سنبھالا، غریبوں کو نوازا،گرے ہوؤں کو اٹھایا ۔ اپنی مادی زندگی میں جو مل گیا کھا لیا،جو میسر ہوا پہن لیا، جہاں جگہ ملی لیٹ گئے۔گھر کا اثاثہ صرف ایک چارپائی،ایک چکّی، کھجور کی چھال پر مشتمل ایک سرہانہ اور کھدر کا ایک جوڑا لباس۔ اپنے جوتوں کی مرمت خود کرتے،ہر مریض کی عیادت کو جاتے،جنازے میں شامل ہوتے، اندھوں کو راہ پر ڈالتے،مزدوروں کا بوجھ اٹھاتے،پہلے سلام کرتے ، مجبوروں کا سہارا بنتے، خوشامد سے نفرت کرتے اور نمود و نمائش کو بُرا جانتے تھے۔ اس راہ میں صبر شکن مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کیا۔نہ جھکا ، نہ بکا البتہ ظلم سہتا اور اف نہ کرتا۔ گالیاں سنتا اور تف نہ کہتا۔ ۔ تمام عمر برائیوں سے نبرد آزما رہا ، اللہ کا نام بلند کیا اور انسانیت کو رفعت بخشتا رہا۔
قرآن و محمدؐ اور تشکیل امت:اس کتاب کے ملنے کے بعد ۲۳ سال کے قلیل عرصے میں اس نابغہ روزگار نے معاشرے کی کایا پلٹ دی اور ایک منظم،عدل پرور،تحقیق محور اور عظیم ریاست قائم کی۔
اس عظیم ہستی نے اس کتاب کے ذریعے جہل پرست کو علم پرور،کافر کو مسلمان،رہزن کو محافظ، غارت گر قاتل کو امن کا داعی،اختلاف کو وحدت، انتشار کو اتفاق،نفرت و عداوت کو محبت و اخوت، مفاد پرستی کو ایثار و قربانی، غلامی کو حریت، شرک کو توحید،طوائف الملوکی کو مرکزی منظم ریاست، بے عفتی کو پاکدامنی،شراب کی مستی کو عشق الٰہی ،غربت و تنگ دستی کو ثروت و توانگری،لالچ و طمع کو قناعت و زہد،خرافات پرستی کو تلاش حقیقت اور خواہش پرستی کے زہر کو خالص خدا پرستی غرض شیطانی ثقافت کو الٰہی اقدار کی امین ثقافت کے آب حیات میں بدل دیا۔ یوں اس نے ایک خالص الٰہی توحیدی معاشرہ قائم کیا۔ خلاصہ یہ کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن ہی کے ذریعے عربی جاہلی معاشرے کو ۲۳ سالوں میں اعلیٰ انسانی اقدار سے مزین الٰہی معاشرے میں بدل دیا۔ اللہ کی رحمت و سلامتی ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا ،جس دن اس نے رحلت فرمائی اور جس دن وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
ترک قرآن اور زوال امت: آج ہماری ساری بدبختیوں ، مشکلات اور مسائل کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے من حیث القوم قرآن کریم کو صحیح طور پر سیکھنے ، سمجھنے ، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی نجی و قومی زندگی پر حاکم بنانے کے بجائے اسے طاق نسیان پر رکھ دیا ہے اور اسے مرحومین کے لیے ایصال ثواب ، تقریبات کے افتتاح اور ایک دوسرے کی تکفیر کا وسیلہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
نشأۃ ثانیہ کی شرط اول: ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرکے عمل بھی کرنا ہوگا کہ دنیا اور آخرت میں باعزت ، مقتدر اور خوش حال زندگی گزارنے کا واحد اور کامیاب نسخہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی طرف رجوع کرکے اسے وہ مقام دیا جائے جو عصر نبویؐ میں اسے حاصل تھا۔
آئیے ! ہم سب اس عظیم دینی و انسانی ذمہ داری کو ادا کریں۔ قرائت،ترجمہ،مفاہیم اور تفسیر میں سے جس مرحلے کو نہیں جانتے اسے کسی جاننے والے سے سیکھ لیں اور جس مرحلے کو جانتے ہیں اسے کسی نہ جاننے والے کو سکھائیں نیزاس فرض کی ادائیگی کے لیےدامے ، درمے اور سخنے اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ہر کلمہ گو مسلمان قرآن کریم کو پڑھے،سمجھے،اس پرعمل کرے اور اسے مظلومیت و مہجوریت سےنکال کر عملی زندگی میں بالادست اور حاکم بنائے۔
بقولِ علامہ اقبال ؒ:
بمصطفیٰ برسان خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است
(ارمغان حجاز)
اللہ کا دین مصطفےٰ ہی ہے ۔ خود کو اس تک پہنچا دو ۔اگر اس تک نہ پہنچوگے تو جان لو باقی سب کفر و شرک ہیں ۔
تو ہمی دانی کہ آئین تو چیست
زیر گردوں راز تمکین تو چیست
(رموز بےخودی)
کیا تجھے معلوم ہے کہ تمہارا دین کیا ہے اور دنیا میں تیرے اقتدار کا راز کیا ہے؟
آن کتاب زندہ قرآن حکیم
حکمت او لایزال است و قدیم
(رموز بےخودی)
وہ زندہ جاوید کتاب قرآن حکیم ہی تو ہے جس کی حکیمانہ تعلیمات ذات خداوندی کی طرح ازلی و ابدی ہے۔
از یک آئینی مسلمان زندہ است
پیکر ملت ز قرآن زندہ است
(رموز بےخودی)
ایک ہی آئین اور دین کا حامل ہونے کی بنا پر مسلمان زندہ ہیں اور ملت کا جسم قرآن کی روح کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
(بانگ درا)
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ؟ لوح و قلم تیرے ہیں
( جواب شکوہ)









آپ کا تبصرہ