حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نشست کا مرکزی موضوع "قائدِ شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ" تھا۔ آپ نے شہید کی شخصیت کو ایک ایسے عالمِ دین کے طور پر پیش کیا جس کی نگاہ اپنے مدرسے اور معاشرے کی حدود سے آگے بڑھ کر پورے عالمِ اسلام کے مسائل، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات تک پھیلی ہوئی تھی۔

نجف میں امام خمینیؒ کے دروس اور فکری تربیت
حجۃالاسلام شیخ جان حیدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینیؒ ان طلبہ میں شامل تھے جو حرمِ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے علمی ماحول میں امام خمینیؒ کے ولایتِ فقیہ سے متعلق دروس میں شرکت کرتے تھے۔
انہوں نے اس دور کے علمی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان دروس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلاب شریک ہوتے تھے، جن میں بعد میں معروف ہونے والی شخصیات بھی شامل تھیں، جن میں شہید آیت اللہ سید محمد باقر الصدرؒ کا نام بھی آتا ہے۔
مقرر کے مطابق، اس علمی و فکری ماحول نے شہید عارف حسین الحسینیؒ کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں اسلام، سیاست، قیادت اور امتِ مسلمہ کے مسائل کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت عطا کی۔

شیخ جان حیدری نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد عراق میں صدام حسین کی حکومت کی جانب سے پیدا کیے گئے حالات کے باعث بہت سے اہلِ علم اور طلاب کو عراق سے کوچ کرنا پڑا۔ شہید عارف حسین الحسینیؒ بھی اسی تاریخی مرحلے میں پاکستان واپس آئے۔
پاکستان واپسی کے بعد انہیں علامہ مفتی جعفر حسینؒ کے بعد شیعہ مسلمانوں کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کا موقع ملا۔ مقرر نے اس مرحلے کو پاکستان کی مذہبی و سیاسی تاریخ کا ایک اہم دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید نے انتہائی پیچیدہ اور حساس حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
حجۃالاسلام شیخ جان حیدری کے مطابق شہید عارف حسین الحسینیؒ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے امام خمینیؒ کی فکر کو سمجھنے اور اسے پاکستان کے عوام تک پہنچانے میں منفرد کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینیؒ نے امام خمینیؒ کے افکار کو محض نظریاتی مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں پاکستان کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی حالات سے جوڑنے کی کوشش کی۔

مقرر نے اس فکری قربت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے شہید عارف حسین الحسینیؒ اور شہید مرتضیٰ مطہریؒ کو محبت اور اعتماد کے اظہار کے طور پر "فرزند عزیز" کے الفاظ سے یاد کیا۔
شہید عارف حسین الحسینیؒ کی شہادت کے بعد امام خمینیؒ کی جانب سے جاری ہونے والے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے مقرر نے کہا کہ یہ ان کی شخصیت اور ان کے فکری مقام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
شیخ جان حیدری نے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینیؒ نے ایسے دور میں اپنی آواز بلند کی جب مذہب اور سیاست کے تعلق پر گفتگو انتہائی حساس سمجھی جاتی تھی اور معاشرے میں مختلف نوعیت کی پابندیاں اور سیاسی دباؤ موجود تھے۔
ان کے مطابق، شہید نے ان حالات میں بھی دین کو محض انفرادی عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے، سیاست، امت اور انسانی مسائل کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ شہید کی گفتگو کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کے مسائل کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ممکنہ بحرانوں اور فتنوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
مقرر نے شہید مرتضیٰ مطہریؒ اور شہید عارف حسین الحسینیؒ کے افکار میں ایک مشترک خصوصیت کی طرف توجہ دلائی: مستقبل کے چیلنجز کو پہلے سے محسوس کرنے کی صلاحیت۔
انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کے افکار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دور کے واقعات تک محدود نہیں تھے بلکہ آنے والے فکری، سیاسی اور سماجی فتنوں کے بارے میں بھی گہری بصیرت رکھتے تھے۔
ان کے مطابق، عالمِ اسلام کے مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ایک حقیقی عالم کی ذمہ داری ہے، اور شہید عارف حسین الحسینیؒ کی شخصیت میں یہ خصوصیت نمایاں طور پر موجود تھی۔
اپنی گفتگو کے اہم ترین نکات میں حجۃالاسلام شیخ جان حیدری نے طلبہ کی فکری تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کی نگاہ صرف اپنے مدرسے، اپنی کتابوں اور اپنے محدود ماحول تک نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے پورے عالمِ اسلام اور انسانی معاشرے کے حالات سے باخبر ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق، ایک طالب علم کی شخصیت صرف نصابی کتابوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ مدرسے کے ماحول، معاشرے کے حالات، عالمی واقعات اور عملی زندگی کے تجربات بھی اس کی فکری شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے طلبہ کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ درسی متون کے ساتھ ساتھ معاشرتی حالات، مستقبل کے چیلنجز، مختلف بحرانوں اور دستیاب مواقع کا مطالعہ بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
حجۃالاسلام شیخ جان حیدری نے زور دیا کہ دینی طلبہ کو اپنے مطالعات کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، اگر طالب علم صرف درسی نصاب تک محدود رہے اور اپنے معاشرے، امت اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر ہو تو وہ مستقبل کی قیادت کی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا نہیں کرسکتا۔

انہوں نے شہید عارف حسین الحسینیؒ کو اسی وسیع النظر علمی و اجتماعی شخصیت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا؛ ایسی شخصیت جو مدرسے سے وابستہ بھی تھی اور عالمِ اسلام کے مسائل سے گہری واقفیت بھی رکھتی تھی۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر مقرر نے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینیؒ کو صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے افکار اور طرزِ فکر سے موجودہ نسل کو رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نصاب کے ساتھ ساتھ معاشرتی حالات، امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل، مستقبل کے چیلنجز، بحرانوں اور مواقع کا بھی گہرا مطالعہ کرے۔
ان کے مطابق، وسیع نگاہ، فکری بصیرت، معاشرتی شعور اور عالمِ اسلام کے مسائل کے ادراک کا یہی مجموعہ اس شخصیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جسے ہم "عارف حسین الحسینیؒ" کے نام سے جانتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ