حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نمائندہ ولی فقیہ صوبہ خراسان رضوی، آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے اہل سنت طلبہ سے ملاقات میں کہا کہ شیعہ و سنی اتحاد آج ایک عملی حقیقت بن چکا ہے اور اب مسلمانوں کے درمیان علمی، فکری اور سیاسی تبادلے کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہفتہ وحدت کو صرف ایک نعرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان علمی اور فکری تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ملک کے مختلف علاقوں میں شیعہ اور اہل سنت علما، طلبہ اور عام لوگوں کے درمیان اتحاد موجود ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور دشمن اسلام کی قوت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کے انقلابی کردار کو اس مقابلے کا اہم پہلو قرار دیا اور کہا کہ ایران آج اسلام کے دفاع کی ایک اہم صف میں کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں طاقت اور دولت کے ساتھ ساتھ ثقافت بھی عالمی اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو اپنی دینی اور ثقافتی شناخت کی حفاظت پر توجہ دینی چاہیے۔
نمائندہ ولی فقیہ صوبہ خراسان رضوی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ سیاسی بصیرت بھی ضروری ہے۔ طلبہ کو موجودہ حالات اور اسلام کو درپیش مسائل کو سمجھنا چاہیے تاکہ وہ علمی، فکری اور سماجی میدانوں میں دین کا دفاع کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ علما اور طلبہ کو یونیورسٹیوں کے طلبہ سے بھی فکری رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور انہیں مختلف فکری نظریات سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے آگاہ کرنا چاہیے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے زور دیا کہ طلبہ علم حاصل کرنے کے ساتھ اسلام کی خدمت اور دفاع کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں اور معاشرے میں دینی و فکری رہنمائی کا کردار ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ