حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ حجت الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مجلس وحدت المسلمین پاکستان شعبۂ نجف اشرف کی کابینہ اور مسئولین سے ملاقات کی، جس میں موجودہ عالمی صورتحال، محور مقاومت، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ذمہ داریوں اور تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کا تاریخی اصول ’’مثلی لا یبایع مثله‘‘ آج بھی حق و باطل کے معرکے میں محور مقاومت کا بنیادی سرمایہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی کشمکش دراصل ارادۂ الٰہی اور شیطانی قوتوں کے درمیان ایک فکری و نظریاتی جنگ ہے، جس میں حق کے نور کو خاموش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حق کی قوتیں اپنے موقف پر ثابت قدم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری مظالم نے عالمی اداروں، انسانی حقوق اور خواتین و بچوں کے حقوق کے دعووں کی حقیقت آشکار کر دی ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے کمزور اقوام کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، جس سے عالمی نظام کی دوہری پالیسی واضح ہو چکی ہے۔
سیکرٹری امور خارجہ ایم ڈبلیو ایم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک، قوم اور مکتب کے سفیر ہیں، لہٰذا ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی مثبت، حقیقی اور وحدت پر مبنی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اہل سنت اور شیعہ عوام کے درمیان محبت، اخوت اور اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت پر مبنی ہم آہنگی موجود ہے، جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

علامہ شفقت شیرازی نے تنظیمی فعالیت بڑھانے کے لیے تنظیمی ڈھانچوں کو فعال اور مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داریاں ایسے افراد کے سپرد کی جائیں جو وقت اور صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی رکھتے ہوں۔
انہوں نے انفرادی بوجھ کم کرنے کے لیے روابط، میڈیا اور امورِ طلاب کے شعبوں میں باقاعدہ کمیٹیوں اور ٹیموں کی تشکیل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ روابط کے شعبے کو صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ نجف اشرف میں مقیم مختلف علمی، دینی اور سماجی حلقوں، علماء کرام اور مکاتبِ مراجع کے ساتھ مضبوط اور مستقل روابط قائم کیے جائیں، تاکہ پاکستان کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حالات کے بارے میں درست اور متوازن معلومات فراہم کی جا سکیں۔
میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا مؤثر ترین ذریعہ ابلاغ بن چکا ہے، لہٰذا مختصر ویڈیوز، مضامین، تراجم اور دیگر میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے فکری شبہات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا مدلل جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تربیتی اور علمی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بزرگ اساتذہ اور علمی شخصیات کے ذریعے باقاعدہ دروسِ اخلاق اور فکری نشستوں کا اہتمام کیا جانا چاہیے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خاندانوں کے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے منظم پروگرام ترتیب دیے جائیں۔

علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے امورِ طلاب کو تنظیم کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پردیس میں آنے والے نئے طلبہ کی رہائش، اقامت، وظائف اور دیگر ضروری امور میں معاونت ایک ایسا خدمتِ خلق کا میدان ہے جو نہ صرف طلبہ کے لیے سہولت کا باعث بنتا ہے بلکہ تنظیم کی نیک نامی اور مؤثریت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
ملاقات میں شعبۂ نجف اشرف کے مسئولین نے تنظیمی امور، طلبہ کے مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں، جبکہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے تنظیمی استحکام، باہمی تعاون اور مؤثر عوامی و فکری کردار کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔









آپ کا تبصرہ