جمعرات 6 اگست 2026 - 08:29
شہید عارف الحسینی، ایک عظیم دشمن شناس قائد تھے: مقررین

حوزہ/مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان پاکستان میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رحمۃ الله علیہ کی 38ویں برسی کی مناسبت سے ایک عظیم الشان تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ہوا؛ جس میں علمائے کرام اور مؤمنین نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہیدِ مظلوم، قائدِ محبوب علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کی 38ویں برسی کے موقع پر ملتِ تشیع بلتستان پاکستان کے زیرِ اہتمام مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں ایک پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔

شہید عارف الحسینی، ایک عظیم دشمن شناس قائد تھے: مقررین

تعزیتی ریفرنس کی صدارت داعیِ وحدت، امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سید طاہر نے انجام دیے۔

تعزیتی ریفرنس میں حاجی حیدر سمبل نے قائدِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا، جناب اصغر جوادی نے خطبۂ استقبالیہ دیا، جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی رہنما، چیف آرگنائزر سید ڈاکٹر ناصر شیرازی اور حجۃ الاسلام اشرف تابانی نے خطاب کیا۔

شہید عارف الحسینی، ایک عظیم دشمن شناس قائد تھے: مقررین

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ نے امام خمینی قدس سرۃ کے انقلابی مکتب کو پاکستان میں متعارف کرواتے ہوئے ملت کو وحدتِ امت، بصیرت، شعور، استقلال اور دشمن شناسی کا عملی درس دیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی اقدار کے تحفظ، امتِ مسلمہ کے اتحاد، قومی خودمختاری اور استعماری سازشوں، فرقہ واریت اور غلامانہ ذہنیت کے خلاف جدوجہد میں وقف کر دی۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ کسی باطل طاقت سے مرعوب نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا رعب دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ آج بھی عالمی استکبار مکتبِ امام خمینی سے خوفزدہ ہے، کیونکہ یہی فکر مسلمانوں کو عزت، آزادی، خوداعتمادی اور استقلال کا راستہ دکھاتی ہے۔ شہید قائد ایک عظیم دشمن شناس رہبر تھے جنہوں نے ملت کو استعماری ایجنڈوں، فرقہ واریت اور شدت پسندی کے فتنوں سے محفوظ رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

شہید عارف الحسینی، ایک عظیم دشمن شناس قائد تھے: مقررین

مقررین نے شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ امام خمینی(رح) امتِ مسلمہ کی عزت، بیداری، خودمختاری اور مزاحمتی فکر کا سرچشمہ ہے، اسی لیے عالمی استعمار اسے اپنے مفادات کے لیے سب سے بڑی فکری رکاوٹ سمجھتے ہوئے مسلسل اس کے خلاف مختلف محاذوں پر سازشیں اور یلغار جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ شیعہ اور سنی باہمی احترام، اخوت اور مشترکہ دشمن کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

شہید عارف الحسینی، ایک عظیم دشمن شناس قائد تھے: مقررین

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور دفاعی فیصلے بیرونی دباؤ کے بجائے قومی اور اسلامی مفادات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ 23 مارچ اور 14 اگست کا حقیقی پیغام خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔

تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر شہداء کے بلندیٔ درجات، پاکستان کے استحکام، امتِ مسلمہ کے اتحاد، قائدِ شہید علامہ عارف حسین الحسینی(رح) کے افکار کے فروغ، مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha