حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کے ممتاز عالم دین، سابق امام جمعہ کوئٹہ، پرنسپل جامعہ امام صادقؑ اور معروف دینی و سماجی شخصیت مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں جنرل محمد موسیٰ کالج کوئٹہ میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں جید علماء کرام، دینی و سیاسی رہنماؤں، علمی و سماجی شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور مرحوم کے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
تعزیتی ریفرنس صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہا۔ تقریب میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، سربراہ امتِ واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی، علامہ محمد رمضان توقیر، شیخ اسحاق نجفی، مولانا اکبر زاہدی، مولانا مشتاق عمرانی، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سمیت متعدد علماء و شخصیات نے شرکت اور خطاب کیا۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ مولانا محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ حقیقی معنوں میں دین و ملت کے خادم تھے، جنہوں نے بلوچستان میں قرآن و حدیث اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی علم، دین اور ملت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی خدمات صرف تبلیغ و تدریس تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے دینی مدارس، تعلیمی اور سماجی اداروں کے قیام کے ذریعے ایک مضبوط علمی و فکری بنیاد فراہم کی اور ہزاروں طلبہ و علماء کی تربیت کی۔
آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے مرحوم کی ادارہ سازی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جامعہ امام صادقؑ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، امام خمینی ہسپتال قائم کیا اور متعدد امام بارگاہوں کے قیام کے ذریعے دینی و مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔
انہوں نے مرحوم کے شاگردوں اور اہل خانہ پر زور دیا کہ علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی اور تربیتی ورثے کو محفوظ کیا جائے اور جامعہ امام صادقؑ سے فارغ التحصیل علماء اور شاگردوں کی خدمات پر ایک جامع کتابچہ مرتب کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے علمی کردار اور دینی خدمات سے استفادہ کر سکیں۔

سربراہ امتِ واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی نے مرحوم علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو ایک مخلص عالم دین، باعمل مذہبی رہنما اور ملت کے درد کو محسوس کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی علم، اخلاص اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔
انہوں نے مرحوم کے فکری و عملی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ نے دین و مکتب کی خدمت کو محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ انہوں نے حوزاتِ علمیہ، دینی مراکز اور تعلیمی اداروں کے ذریعے نئی نسل کی فکری، علمی اور دینی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ مرحوم کا نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ علم اور عمل کے درمیان ایک مضبوط تعلق کے قائل تھے۔ انہوں نے اپنی علمی جدوجہد کو معاشرے کی اصلاح، دینی شعور کی بیداری اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے ساتھ جوڑے رکھا۔ ان کا کردار نوجوان علماء اور طلبہ کے لیے اخلاص، استقامت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم علامہ جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں جو علمی، دینی اور تربیتی سرمایہ چھوڑا ہے، اسے محفوظ کرنا اور آگے بڑھانا ان کے شاگردوں، متعلقین اور دینی اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے مرحوم علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی و مذہبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی علمی شخصیت، اخلاص اور دین و مکتب سے گہری وابستگی کو ان کی زندگی کا نمایاں وصف قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے بلوچستان میں دینی شعور کی بیداری، مذہبی تعلیمات کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے مسلسل اور مخلصانہ جدوجہد کی۔ ان کی شخصیت میں علم و عمل اور گفتار و کردار کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا اور وہ اپنے شاگردوں اور متعلقین کے لیے ایک شفیق عالم، رہنما اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔
شیخ اسحاق نجفی نے مرحوم علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مخلص عالم دین اور خدمت گزار شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر مرحلہ دین، مکتب اور معاشرے کی خدمت میں گزارا۔ ان کی شخصیت دینی ذمہ داری، اخلاص اور عوامی خدمت کا عملی نمونہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کی علمی اور دینی جدوجہد کا ایک اہم پہلو حوزات اور دینی مراکز کے فروغ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اخلاقی اور فکری اصلاح کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے، اسی لیے ان کی خدمات سے علماء، طلبہ اور معاشرے کے مختلف طبقات نے یکساں استفادہ کیا۔
مولانا اکبر زاہدی نے مرحوم کے کردار اور دینی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عالم دین کی حیثیت سے اپنی علمی ذمہ داریوں کے ساتھ معاشرتی اصلاح اور دینی اقدار کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
مولانا مشتاق عمرانی نے مرحوم کی زندگی کو نوجوان علماء اور طلبہ کے لیے اخلاص، خدمت اور ثابت قدمی کا درس قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ اور تربیتِ نسل کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ ان کے دیرپا علمی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور دیگر مقررین نے بھی مرحوم علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی علمی، اخلاقی، دینی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے دوران علماء و مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مرحوم علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ علمی و دینی روایات، ادارے اور تربیت یافتہ شاگرد ان کے عظیم مشن کا تسلسل ہیں۔ ان کی رحلت اگرچہ بلوچستان اور ملک کے علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ان کا علمی، فکری اور تربیتی سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصالِ ثواب، مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور ان کے اہل خانہ، شاگردوں اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔









آپ کا تبصرہ