حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 21 اگست 2026 کو نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ عراق کئی سطحوں پر بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ ملک کے انتظام میں اہلیت اور کارکردگی کا فقدان اور قومی مفادات کے بجائے جماعتی و شخصی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام جمعہ کی ذمہ داریوں میں سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سلامتی کے مسائل پر گفتگو اور اصلاحِ احوال کے لیے مؤثر موقف اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم دینی خطاب کو صرف منفی پہلوؤں تک محدود نہیں ہونا چاہیے اور جہاں اچھے اقدامات ہوں وہاں ان کی بھی قدر کی جانی چاہیے۔
امام جمعہ بغداد نے کہا کہ عراق کے سیاسی و اقتصادی مسائل اور عوامی خدمات میں ناکامی کی ذمہ داری بڑی حد تک ان سیاسی رہنماؤں اور حکام پر عائد ہوتی ہے جن پر عوام نے انتخابات کے ذریعے اعتماد کیا۔ انہوں نے حکومت سازی کے عمل کو محدود مفادات اور مراعات کی کشمکش میں تبدیل ہونے پر تنقید کی اور کہا کہ کئی وزارتوں کا طویل عرصے تک قائم مقاموں کے ذریعے چلایا جانا ایک ادارہ جاتی نقص ہے۔
آیت اللہ موسوی نے امریکہ پر سیاسی انحصار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف وزیراعظم تک محدود نہیں بلکہ اقتدار کے اندر موجود بعض سیاسی دھارے بھی اس میں شریک ہیں۔ انہوں نے قومی و مزاحمتی قوتوں کے خلاف تشدد یا گرفتاری کی باتوں کو عراق کی قومی خودمختاری کے لیے خطرناک قرار دیا۔
انہوں نے اقتصادی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے وعدے پورے نہیں ہوئے، جبکہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔
علاقائی صورتحال کے حوالے سے امام جمعہ بغداد نے ایران، امریکہ اور صہیونی حکومت کے درمیان تنازع میں عراق کی ’’غیر جانب داری‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشمکش صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ خطے کے مستقبل اور صہیونی منصوبے کے پھیلاؤ سے متعلق ہے۔ انہوں نے عراق پر زور دیا کہ وہ ایسا موقف اختیار کرے جو قومی خودمختاری اور مفادات کا تحفظ کرے۔
انہوں نے سیاسی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ دیر ہونے سے پہلے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، کیونکہ عوام ملک کے حالات سے باخبر ہیں اور موجودہ روش کا تسلسل عراق کو مزید بحرانوں سے دوچار کر سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ