تحریر: حسین بشیر سلطانی
حوزہ نیوز ایجنسی| جامعۃ النجف سکردو کی طرف سے حسبِ معمول امسال بھی غیر نصابی سرگرمیوں کے سلسلے میں بلتستان کی حسین وادی شیلا ویلی کی طرف سفر کا موقع ملا۔ شیلا ضلع سکردو کا ایک دور افتادہ بالائی علاقہ ہے۔ یہ سفر بظاہر دو ڈھائی گھنٹوں کا تھا مگر حقیقت میں یہ زمین سے آسمانی بلندیوں کی طرف ایک ایسا سفر تھا جس میں آغوشِ مادَر جیسی شفقت، جُنبش برگِ گلاب جیسی تازگی اور بے باکیٔ اطفال کی سی بے ساختہ خوشی ہمارے ساتھ محو سفر تھی۔ رات ہی کو ناظمِ جامعہ جناب علی احمد نوری صاحب کی جانب سے صبح سات بجے روانگی کی اطلاع ملی، سو صبح ہوتے ہی طلبہ کے دلوں میں ایک عجیب سی شورشِ شوق برپا تھی؛ کسی کی نگاہ سُوئے قمر تھی، کسی کی نظر پہاڑوں پراور کسی کے دل میں آنے والے مناظر کا اشتیاق ۔ آخرکار سات بج کر پچیس منٹ پر استادِ محترم شیخ محمد علی توحیدی، استادِ محترم شیخ حسن جعفری، استادِ محترم شیخ اشرف مظہر، استادِ محترم شیخ جان حیدری اور شیخ امین صاحب کی معیت میں ہم خجستہ پا روانہ ہوئے۔ طلبہ کی حالت یہ تھی کہ گویا پھٹے بادل میں بے آوازِ پا کوئی خواب ہمارے سامنے اترنے والا ہو؛ حیرت خواب تھی یا حقیقت، کہنا دشوار تھا، مگر آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گفتار تھا اور ہر طالبِ علم سراپا ذوقِ استفسار کی تصویر بنا ہوا تھا۔
سرمیک نامی بستی تک کی ہموار اور پکی سڑکوں پر سفر آسانی سے جاری رہا۔ سرمیک کے بعد ایک خطرناک اور پر پیچ کچا راستہ شروع ہوا ۔ طلبہ نے شمار کیا تو وادی کی اس راستے میں تقریباً بیس ہوشربا موڑ تھے اور مسلسل چڑھائی تھی۔البتہ راستے کی سختی نے کسی کی خوشی کم نہ کی۔ اس کے برعکس ہر موڑ پر ایک نیا منظر، ہر بلندی پر ایک نیا افق، اور ہر خاموش پہاڑ میں ایک نئی داستان دکھائی دیتی تھی۔ کہیں گھٹائیں خیمہ زن تھیں، کہیں آسمان کی وسعت میں عہدِ کہن کی خاموشی تھی، کہیں پہاڑوں کی پیشانی پر روشنی کا تاج تھا۔ دماغ یہ کہتا تھا کہ انسان اپنی محدود نگاہ کو ان بے کراں مناظر کے سامنے کتنا وسیع کر سکتا ہے۔ پہاڑوں کی فصیل دور تک پھیلی ہوئی تھی اور بعض بلند چٹانوں پر ایسا جلوہ طورِ سینا تھا کہ نگاہ ٹھہرنے کا نام نہ لیتی تھی۔ گردشِ شام و سحر سے بے نیاز وہ پہاڑ اپنی جگہ قائم تھے، جبکہ ہم ان کے دامن سے گزر کر اپنی ہی کم مائیگی کا احساس کر رہے تھے۔

طلبہ فرطِ طرب سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ تعلیمی اداروں میں ایسے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں، مگر شاید جامعۃ النجف سکردو کی ایک منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں تعلیم کو کتاب اور جامعہ کی چار دیواری تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ گاڑی میں طلباء کی اسلامی دعائیں اور ترانے گونجتے رہے۔ دامنِ موجِ ہوا ہمارے ساتھ تھا، جُنبشِ برگِ درختاں میں ایک خاموش موسیقی موجزن تھی گویا موجِ نسیمِ صبح ہمارے چہروں کو چھوتی ہوئی یہ پیغام دے رہی ہو کہ زندگی صرف ایک ہی رنگ کا نام نہیں؛ بلکہ زندگی کے کئی رنگ ہیں اور ان کے لطیف احساس سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ آخرکار تقریباً دس بجے ہم شیلا ویلی میں داخل ہوئے۔وادی سیر میک کے ویو پوائنٹ پر اتر کر ہم نے اس حسین وادی کی تصاویر کیمروں کی آنکھوں سے اچک لیں۔ دو عدد طاقتور ٹویوٹا گاڑیاں چالیس افراد کے قافلے کو لے کر مسلسل طاقت فرسا چڑھائیاں چڑھتی رہیں اور موڑ پر موڑ کاٹتی رہیں۔ تقریباً انیس یا بیس موڑ کاٹنے کے بعد تکلیف دہ موڑ ختم ہو گئے۔کچھ دیر میں ہم وادی ڈورو کی حدود میں داخل ہو گئے۔
وادی نے ہمارا استقبال کسی رسمی دروازے سے نہیں بلکہ اپنی پوری فطری رعنائیوں کے ساتھ کیا۔ باغات محنت کش انسانوں کے ہاتھوں سیراب ہو کر سرسبز تھے یا کٹائی کے مراحل میں تھے، کھیتوں میں زندگی آخری سانسیں لے رہی تھی، چہروں پر سادگی تھی اور ہر طرف قدرت کی بے شمار نشانیاں بکھری ہوئی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زمین اپنی تازہ صبح کو جھولا جھلا رہی ہے۔ درختوں کی زبانِ برگ، گویا کسی نامعلوم کتاب کا ورق الٹ رہی تھی۔ سبزہ نشّۂ ہستی میں جھوم رہا تھا اور پوری وادی ایک ایسی خلوت میں داخل تھی جہاں خانۂ قدرت ہی اصل کاشانہ معلوم ہوتا تھا۔ شہر کی مصروف اور مصنوعی زندگی سے تھکے ہوئے اعصاب پر تازہ ہوا نے یوں اثر کیا جیسے کسی نے تھکے ہوئے دل پر محبت کا ہاتھ رکھ دیا ہو۔

وادی کے اندر بہتا ہوا صاف، میٹھا پانی اس سفر کا شاید سب سے دل آویز باب تھا۔ ندّی فرازِ کوہ سے اترتی ہوئی کبھی نرم لہجے میں گنگناتی اور کبھی چٹانوں سے ٹکرا کر اپنا لہجہ بلند کر دیتی۔ اس کی آواز میں کوثر و تسنیم کی موجوں جیسی پاکیزگی محسوس ہوتی تھی۔ پانی سنگِ رہ سے گاہے بچتی گاہے ٹکراتی ہوئی آگے بڑھتا، کبھی کسی سبز گوشے میں چھپ جاتا اور کبھی چھوٹی چھوٹی آبشاروں کی صدا میں اپنی موجودگی کا اعلان کرتا۔ رنگِ شفق کُہسار کی چوٹیوں اور دم تک پھیلتا تو یوں محسوس ہوتا کہ آسمان نے پہاڑوں کے چہروں پر اپنے خواب لکھ دیے ہوں۔ اس منظر میں تفکّر کا سماں تھا؛ انسان گردشِ ایّام کو بھول کر صرف اس لمحے کی حقیقت میں زندہ ہو جاتا ہے۔ پانی کی روانی نے ہمیں زندگی کی وہ ابجد یاد دلائی کہ ہر زندہ شے کی بنیاد پانی سے وابستہ ہے؛ پتھر، سبزہ، درخت، جانور اور انسان، سب اسی عظیم نظامِ حیات کے مختلف مظاہر ہیں۔
کچھ آگے بڑھے تو بلندی نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا۔ پہاڑوں کے درمیان فلک بوس نشیمن تھے، کہیں دُرافشاں گُلزار اپنی رنگینی بکھیر رہے تھے اور کہیں رونقِ بزمِ جوانانِ گُلستاں کی طرح طلبہ کی آوازیں فضا میں گھل رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گیسوئے ہستی ہوا کے ہاتھوں کھل گئے ہوں اور دیدۂ امیّد کو ہر طرف نئی زندگی دکھائی دے رہی ہو۔ لبِ جُو بیٹھ کر انسان پانی کی روانی میں اپنے ہی دل کی دھڑکن سننے لگتا۔ پرندوں کی آوازیں ہمیں محوِ ترنّم رکھ رہی تھیں ۔دامنِ کُہسار میں یہ دنیا واقعی ہنگامۂ عالم سے دُور معلوم ہوتی تھی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ علامہ اقبال کی روح بھی ہمارے باطن میں گھس کر یوں گنگنا رہی ہو:
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار اودھے اودھے ،نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
حسنِ فطرت کا ہر ذرہ آئینہ الہی بن کر ہمیں عالم لاہوت و عالم ملکوت کی سیر کرا رہا تھا۔ ہم نے وادی کے محنت کش لوگوں کو دیکھا؛ وہ دہقانوں کی سادگی لیے اپنی زمین، جانوروں اور متحرک زندگی کا سامان کر رہا تھے۔ ان کے چہروں پر وہ سکون تھا جو مصنوعی آسائشوں میں کم ہی ملتا ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی تھے جو زمانے کی دوڑ سے قدرے دور، اپنی خاموش دنیا میں آباد تھے، مگر ان کی زندگی میں پیکارِ عناصر کے باوجود ایک عجیب استقامت تھی۔ ان لوگوں کو دیکھ کر دل نے کہا: تھم ذرا بے تابیِ دل! زندگی کی اصل عظمت شاید آسائش میں نہیں، اپنے حصے کی زمین کو محبت سے آباد کرنے میں ہے۔ یہاں انسان اگر مفسِّر کتابِ ہستی بننا چاہے تو اسے کسی ضخیم کتاب کی ضرورت نہیں؛ ایک کسان، ایک چشمہ، ایک درخت اور ایک پہاڑ کافی ہے۔ یہ سب سِدرہ آشنا اشاروں میں کائنات کا راز بیان کرتے ہیں۔ یہاں کی محنت میں غیرتِ لعلِ بے بہا تھی اور ہر چہرہ وجود و عدم کی نمود کے بیچ انسانی زندگی کی ایک خاموش دلیل تھا۔

کچھ ٹیلوں کے بعد ہم ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں وادی شیلا کے مومنین گرمیوں کے موسم میں اپنے مال مویشی رکھتے ہیں۔ جانوروں کے لیے بنائی گئی منفرد جگہیں، پرندے، مویشی اور ان سے وابستہ روزمرہ زندگی دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ لوگ جانور پالتے ہیں اور اپنی معیشت، روایت اور بقا کا ایک پورا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہر جاندار اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا تھا اور قدرت اپنی جلوہ گری سے ثبات بخش رہی تھی۔ جو شخص چشم خرد سے دیکھے، اسے یہاں ضیائے شعور کے بے شمار چراغ دکھائی دیں گے۔ یہاں کے لوگ، جانور، درخت، ندیاں،جھرنے، چراگاہیں اور پہاڑ سب گویا زائیدگانِ نور ہیں اور ایک ہی خالقِ بے ہمتا کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔یہ سب ایک ہی زنجیرمیں بندھے ہوئے عالمِ وجود کی مختلف کڑیاں ہیں۔
اس وادی میں وقت جیسے اپنی رفتار بھول گیا تھا۔ ایک طرف بزمِ عیش کی سی خوشی تھی، دوسری طرف پہاڑوں کی خاموشی میں رنگِ شفق جیسی نرمی۔ انسان کی نگاہ مایۂ آشوبِ امتیاز بننے کے بجائے وحدت کی نظارہ گر لگتی ہے۔ ہر منظر ناظمِ کون و مکاں کا ثناخواں نظر آتا ہے۔
اس سفر میں کبھی ایسا بھی لگا کہ ہم کسی بامِ حرم پر کھڑے ہیں اور نیچے پوری وادی ایک وسیع عبادت گاہ کی مانند پھیلی ہوئی ہے۔شہری زندگی کے مصنوعی حلقۂ دامِ ستم سے نکل کر یہ فضا انسان کو اپنے اصل وجود کی طرف واپس بلاتی ہے۔ پہاڑوں کا سیمائے اُفق سے گلے ملنا، وادی کا آسمان میں تحلیل ہونا اور خاموشی میں زندگی کی آواز سنائی دینا، یہ سب کچھ شورشِ میخانۂ شہرسے بالکل مختلف تجربہ تھا۔ شہر کا انسان جو ہر وقت زحمت کشِ ہنگامۂ عالم بنا رہتا ہے، یہاں آکر اپنی روح کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ شمعِ تخیّل روشن ہوتی ہے، افسونِ بیداری ٹوٹتا ہے اور نسیمِ زندگی انسان کے اندر کہیں بہت دور سوئے ہوئے احساس کو جگا دیتی ہے۔
مجھے لگتا ہے سفر انسان کو مخلص دوستوں، اچھے انسانوں، منفرد اور دلکش مناظر، عشق و شوق سے لبریز حسنِ کائنات سے روبرو کرتا ہے۔ نئے آداب، ثقافت، تہذیب، رسوم، اخلاق اور کردار سے روبرو کرتاہے۔یہاں ہر چیز کے پیچھے ایک سوال ہے اور ہر سوال کے پیچھے ایک راز۔ اس راز میں اترنے والا ہی غوّاص بنتا ہے؛ اور جو عقل، تجربے اور مشاہدے کے ساتھ اترے، وہ غوّاصِ دانش و بینش بن کر فطرت کے پوشیدہ معانی تلاش کر سکتا ہے۔

حسن کے ساتھ حقیقت کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ شیلا ویلی کی فطری دولت بے مثال ہے، مگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس حسن کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان بھی ثبت کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی خراب اور خستہ ہے، صحت کی مناسب سہولیات موجود نہیں، مواصلاتی نظام آج کے اس جدید دور میں بھی تقریباً ناپید ہے اور معیاری تعلیم کی سہولت بھی عنقا ہے۔ یہ تضاد عجیب ہے کہ جس خطے کوقدرت نے بے تحاشا گنجِ ہائے گراں مایہ سے نوازا ہو، وہاں کے انسان بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہیں۔ اگر گلگت بلتستان کے ایسے علاقوں میں عالمی سیاحت کے لیے مناسب انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے، سڑکیں، صحت، مواصلات، تعلیم، رہائش اور ماحول دوست سیاحتی نظام قائم کیا جائے تو یہ خطہ اپنی موجودہ معاشی صلاحیت سے کہیں زیادہ پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں صرف پہاڑ نہیں بیچنے؛ ہمیں اپنی تہذیب، فطرت، محنت، ثقافت اور حسن کو دنیا کے سامنے ایک منظم انداز میں پیش کرنا ہے۔ یہی طبیعتِ آزاد قوموں کا راستہ ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کو پہچانیں، ان کی حفاظت کریں اور انہیں ترقی کا وسیلہ بنائیں۔
شام ڈھلنے لگی تو واپسی کا وقت آگیا۔ تقریباً چار بجے ہم واپسی کے مقام پر پہنچے، کھانا کھایا اور تقریباً پانچ بجے جامعۃ النجف سکردو کی طرف روانہ ہوگئے۔ سورج کی روشنی میں اب پہلے جیسی تیزی نہ تھی؛ افق پر پھیلتی ہوئی شام کسی شاعر کے ہاتھ کی لکیر معلوم ہوتی تھی۔ دن کی آخری روشنی ہمیں کچھ دیر اور روکنا چاہتی تھی، مگر ہر سفر کا مقدر واپسی ہے۔ دل میں سوزِ اشتیاقِ تھا کہ یہ راستہ ختم نہ ہو۔ لُطفِ ہمسایگیِ شمس و قمر کا یہ دن اپنی یاد ہمارے اندر چھوڑ چکا تھا۔ پہاڑوں سے اترتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے ہم کسی وادی سے نہیں بلکہ اپنے ہی کسی خوب صورت خواب سے واپس آ رہے ہوں۔ اس سفر کی ہر ساعت نے پیغامِ سحر کی طرح ہمارے اندر ایک نئی امید رکھی اور ہر منظر کا نقشِ کفِ پا دل کی زمین پر ثبت ہوتا چلا گیا۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اتنے دشوار اور سخت سفر کے باوجود ہم کسی مشکل کے بغیر بخیریت و سلامتی جامعۃ النجف سکردو واپس پہنچے۔ رات کو جب بستر پر لیٹ کر سر تکیے پر رکھا اور آنکھیں بند کیں تو عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ یوں لگا جیسے شیلا ویلی ابھی تک ہمارے اندر موجود ہے؛ پانی کے سریلے نغمے پھر سے سنائی دینے لگے، ہوا کی نرم جنبش محسوس ہونے لگی، ٹھنڈے پانی کی لہریں ذہن کی سطح پر لہرانے لگیں، اور وادی کے وہ خاموش مناظر کاشانۂ دل میں دوبارہ آباد ہوگئے۔ تبسّم فشاں زندگی کی وہ ساعتیں کبھی لغزشِ مستانۂ خیال بن کر لوٹتیں، کبھی سوز و ساز کی طرح دل میں اترتیں کہ انسان آخر کس چیز کی تلاش میں ساری عمر دوڑتا رہتا ہے؟ شاید وہ اسی سکون کا متلاشی ہے جو ایک خاموش چشمے کے کنارے چند لمحوں کے لیے اسے مل جاتا ہے۔
درخت، پانی، پتھر، پرندے، جانور، دہقان اور پہاڑ سب ایک ایسی مربوط حقیقت کا حصہ ہیں جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھ کافی نہیں؛ دیدۂ حکمت چاہیے، چشم خرد چاہیے، دانش و بینش چاہیے۔
شیلا ویلی کی زیارت ِدل انگیز نے ہمیں یہ احساس دیا کہ کائنات میں کوئی شئے بے مقصد نہیں اور کوئی وجود بے ربط نہیں۔ ہر ذرہ کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پانی اپنی روانی سے، پہاڑ اپنی بلندی سے، درخت اپنی خاموشی سے، انسان اپنی محنت سے اور آسمان اپنی وسعت سے ایک ہی حقیقت کا پتہ دیتے ہیں۔ یہی نظمِ ہستی ہے، یہی حسن کی اصل معنویت ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، اگر تعصب اور غفلت کے پردے ہٹا کر دیکھے، تو فطرت کے ہر ورق پر خالق کی قدرت کے آثار پڑھ سکتا ہے۔ شیلا ویلی کا یہ سفر ختم ضرور ہوگیا، مگر اس کے مناظر ابھی تک دل کے اندر زندہ ہیں انشاء اللہ ہمارے کاشانۂ دل میں ہمیشہ کے لیے آباد رہیں گے۔

ہم جامعۃ النجف سکردو کا اور جامعہ کے پورے سٹاف کے ممنون و مشکور ہیں کہ ہمیں اتنے بہترین اہتمام کے ساتھ شاندار سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ہمارے اس مطالعاتی سفر کو خوشگوار بنانے میں بعض زندہ دل مومنین کا بھی سخاوت مندانہ حصہ ہے جنہیں مصور ارض و سما ہی جزائے لا یزال سے نواز ے گا۔
اس سفر میں ہم نے "سیروا فی الارض" کی کائناتی الہی دعوت کی اہمیت کا بھی خوب ادراک کیا۔ یہ وہ انسان ساز دعوت ہے جسے ہماری ملت نے ابھی اچھی طرح نہیں سمجھا۔ شائد دیگر غیر مسلم اقوام اربوں کھربوں ڈالر خرچ کر کے ہماری نیابت میں یہ فریضہ نبھا رہی ہیں۔
اللہ ہمیں صحیح معنوں میں سیر عالمِ انفس و آفاق کی توفیق سے نوازے۔









آپ کا تبصرہ