جمعہ 31 جولائی 2026 - 21:12
علم کی کنجی سوال ہے، دینی مسائل میں جھجک کے بجائے سوال کرنے کی عادت اپنائی جائے"، علامہ شیخ محمد حسن جعفری

حوزہ/ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امامِ جمعہ والجماعت حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے دینی معارف کے حصول کے لیے سوال کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی بڑی کمزوری دینی مسائل اور قرآنی حقائق کے بارے میں سوال نہ کرنا ہے، جبکہ امام جعفر صادقؑ کے فرمان کے مطابق "علم کی کنجیاں سوال ہیں"۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو/بلتستان: مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امامِ جمعہ والجماعت حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ معاشرے کی ایک بڑی کمزوری دینی مسائل، معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام اور قرآنی حقائق کے بارے میں سوال نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنے، تحقیق کی عادت اپنانے اور علماء سے استفادہ کرنے کے لیے سوال کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ امام جعفر صادقؑ کے فرمان کے مطابق "علم کی کنجیاں سوال ہیں" اور سوال کرنے، جواب دینے، سننے اور اہلِ علم سے محبت رکھنے والے سب اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔

انہوں نے ائمۂ اہلِ بیتؑ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں کہا کہ ہر صاحبِ شعور پر علم حاصل کرنا، اس کی حفاظت کرنا، اس پر عمل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا لازم ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو نصیحت کی کہ اپنی مجالس اور نشستوں کو بے مقصد گفتگو کے بجائے علمی و روحانی ماحول میں تبدیل کریں اور شرعی و دینی مسائل میں جھجک کے بجائے سوال کرنے کی عادت اپنائیں، کیونکہ نہ جاننا عیب نہیں بلکہ جاننے کا موقع ہونے کے باوجود سوال نہ کرنا حقیقی محرومی ہے۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کربلا میں پیدل سفر (مشی) کے دوران زائرین پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف بزدلانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ ایسے مظالم ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت اور استقامت کے ذریعے جارحیت کا مؤثر جواب دے رہا ہے، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جبهۂ حق کو مزید قوت، نصرت اور کامیابی عطا فرمائے۔

انہوں نے سکردو کے علاقے 411 میں زیرِ تعمیر 250 بستروں پر مشتمل اسپتال کا کام طویل عرصے سے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر دوبارہ کام شروع کیا جائے، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ریجنل اسپتال سکردو پر شدید دباؤ ہے اور عوام کو جدید طبی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔

امامِ جمعہ سکردو نے بلدیہ کے 22 کم تنخواہ والے ملازمین کو مناسب مالی سہولت کے بغیر ملازمت سے فارغ کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان محنت کشوں نے برسوں شہر کی صفائی کی خدمت انجام دی، مگر انہیں نہ پنشن دی گئی اور نہ ہی کوئی مناسب مالی معاوضہ۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ ان ملازمین کے لیے فوری طور پر مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے حوالے سے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی کفالت اسلامی حکومت اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے 14 صفر کے موقع پر حضرت محمد بن ابی بکرؓ کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی زندگی، حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے وابستگی، مصر کی گورنری اور راہِ حق میں ان کی مظلومانہ شہادت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد بن ابی بکرؓ کی شہادت کی بنیادی وجہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے ان کی غیرمتزلزل محبت اور وفاداری تھی، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔

انہوں نے بلتی اسلامی ثقافت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلتستان کی دینی و ثقافتی شناخت کا حسین ترین مظہر مجالسِ اہلِ بیتؑ، نوحہ خوانی، مرثیہ، تبرکات کی تقسیم اور درود و دعا سے مزین محافل ہیں، جنہیں محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اسدِ عاشور کے موقع پر گمبہ سکردو میں قدیم بلتی زبان میں نوحہ خوانی اور روایتی اندازِ عزاداری کو قابلِ تقلید قرار دیا، تاہم خونی ماتم اور خونی زنجیر زنی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے فتویٰ کے مطابق خونی ماتم اور خونی زنجیر زنی جائز نہیں، لہٰذا عزاداری شرعی حدود کے مطابق انجام دی جانی چاہیے۔

انہوں نے بلتستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً روندو طورمک میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں، پل، مکانات، زرعی و غیر زرعی اراضی اور مویشیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کی بحالی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت سے متاثرین کی فوری امداد اور بحالی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی صاحبِ استطاعت افراد سے اپیل کی کہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے راشن، بستر اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کریں، کیونکہ اسلام مصیبت زدہ افراد کی مدد اور ان کی داد رسی کا درس دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha