حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو/ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو، بلتستان میں نمازِ جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امامِ جمعہ والجماعت حجۃ الاسلام والمسلمین عشیخ محمد حسن جعفری نے معاشرتی، اخلاقی، دینی، مذہبی اور سیاسی اہمیت کے مختلف موضوعات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے سکردو میں منشیات کی روک تھام کے لیے انسدادِ منشیات کے محکمے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات معاشرے، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے صرف سرکاری اداروں کی کوششیں کافی نہیں بلکہ عوام کا بھرپور تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ منشیات فروشوں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے متعلقہ اداروں سے تعاون کریں تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

انہوں نے سکردو میں درپیش بعض سماجی مسائل کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں، بالخصوص پنجاب سے آنے والی بعض خواتین سیاحوں کے بھیس میں بازاروں، دکانوں اور رہائشی علاقوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہیں، جو نہ صرف معاشرتی تشویش کا باعث ہے بلکہ اس طرح کی سرگرمیاں جرائم کے فروغ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے مزید کہا کہ سیاحتی مقامات، گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں کے باہر بعض سیاحوں کی جانب سے کھلے عام بلند آواز میں موسیقی، رقص اور دیگر غیر مناسب سرگرمیوں کا مظاہرہ مقامی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے بالخصوص ایامِ اربعینِ امام حسین علیہ السلام کے تقدس کے پیشِ نظر انتظامیہ پر زور دیا کہ عوامی جذبات اور مقامی روایات کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان اسمبلی میں عبوری صوبے کے حق میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف اسمبلی سے قرارداد منظور کرنا کافی نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی متعدد قراردادیں منظور ہو چکی ہیں مگر ان پر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی سیاسی جماعتیں اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہیں تو انہیں قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے حق میں قرارداد پیش کرکے اس کی منظوری کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب وفاقی سطح پر اس مطالبے کو آئینی اور قانونی شکل دی جائے گی۔
علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے گمبہ سکردو کے معروف عالمِ دین، میرواعظ آغا سید طاہر موسوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام، ملتِ تشیع اور عوام کی دینی و سماجی رہنمائی کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے مرحوم کی دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔ آمین۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ۲ صفر، یومِ شہادت حضرت زید بن علی بن الحسین علیہما السلام کی مناسبت سے ان کی عظیم قربانی اور انقلابی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زیدؑ نے ظلم و جبر کے خلاف قیام کرکے حق و ولایت کا پرچم بلند کیا اور راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول روایات کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت زیدؑ اور ان کے باوفا اصحاب کے بلند مقام کو بیان کیا اور کہا کہ انہوں نے ہشام بن عبدالملک کے دربار میں امام محمد باقر علیہ السلام اور اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کا بے خوف دفاع کیا۔ انہوں نے حضرت یحییٰ بن زیدؑ کی کم عمری میں مظلومانہ شہادت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام اور ان کے فرزندان نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں اور بے شمار مصائب برداشت کیے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت زید بن علیؑ کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین۔
علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان پر بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے شہداء کے خاندانوں اور ورثاء کے دل مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے دوست ناراض اور دشمن خوش ہوتے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے بارے میں دیے گئے اس نوعیت کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار شخصیت کی جانب سے اس قسم کا بیان افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور باہمی اختلافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی، سماجی اور چراگاہوں یا پانی جیسے مقامی مسائل پر اختلافات پیدا ہونا ایک حقیقت ہے، تاہم ایک مومن کی ذمہ داری اختلافات کو ہوا دینا نہیں بلکہ انہیں ختم کرکے صلح و آشتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی وصیت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے درمیان اصلاح کرانا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔
انہوں نے ضلع کھرمنگ کے علاقے اولڈینگ میں چراگاہ کے تنازع پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کے بعد اصل ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے قرآنِ کریم اور احادیثِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں اجتماعی گناہوں کے خطرناک اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بعض گناہوں کے تباہ کن نتائج صرف انفرادی نہیں ہوتے بلکہ پوری سوسائٹی ان کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاشرے میں برائیاں علانیہ ہونے لگیں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دیا جائے اور گناہوں کی روک تھام نہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

انہوں نے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برائی کو روکنا ہر مسلمان کی اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ خاموشی اور بے حسی بھی گناہوں کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے معاشرے سے بے حیائی، فحاشی، کرپشن، ظلم اور دیگر اخلاقی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کے اجتماعی عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ