حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 12 جولائی 2026ء کو منبع الانوار الہدی ہال میں منعقدہ افتتاحی نشست میں جامعۃ الزہراء (س) کی زیرِ تعلیم اور فارغ التحصیل تقریباً 100 طالبات نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ ورکشاپ کی تدریس جامعۃ المصطفیٰ پاکستان کے استاد شیخ سکندر علی بہشتی نے انجام دی۔
اپنے افتتاحی خطاب میں شیخ سکندر علی بہشتی نے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی تخلیق کے مقصد اور بہترین عمل انجام دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے بالخصوص جوانی کی قدر و منزلت اور اس کے صحیح استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے امام خمینی (رہ) اور رہبر معظم انقلاب اسلامی (رہ) کی نظر میں شہید مرتضیٰ مطہری (رہ) کی علمی و تحقیقی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے طالبات کو مطالعہ، تحقیق اور قلمی میدان میں سرگرم کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

شیخ سکندر علی بہشتی نے تحقیق کی تعریف، ضرورت، مقاصد، بنیادی اصول، مراحل اور مختلف اقسامِ تحریر پر تفصیلی گفتگو کی اور تحقیقی و علمی تحریر کے بنیادی نکات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔
ورکشاپ کے دوران طالبات کو عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے مختصر موضوعات پر تحریری مشق بھی کرائی گئی، جس کے ذریعے ان کی تحریری صلاحیتوں اور علمی معیار کا جائزہ لیا گیا۔ طالبات نے اس سرگرمی میں بھرپور ذوق و شوق کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے اپنی مختصر تحریریں پیش کیں۔
نشست کے اختتام پر شیخ سکندر علی بہشتی نے اپنے علمی و تحقیقی تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا اور رہبر معظم انقلاب اسلامی (رہ) کی منتخب کتابوں کا تعارف بھی پیش کیا۔









آپ کا تبصرہ