اتوار 2 اگست 2026 - 13:46
اربعین حسینی کے عصرِ حاضر پر اثرات

حوزہ / 20 صفر المظفر وہ دن ہے جب کاروانِ اہلِ بیتؑ اسیری کے بعد دوبارہ کربلا لوٹا اور شہداء کی قبروں پر حاضری دی۔ آج یہی اربعین دنیا کے سب سے بڑے پرامن انسانی اجتماع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

تحریر: محمد ایوب حسن صابری، جامعۃ النجف سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کربلا صرف کوئی واقعہ نہیں، ایک مکتب ہے اور اس مکتب کی سب سے بڑی عملی کلاس کا نام "اربعین" ہے۔ 20 صفر المظفر وہ دن ہے جب کاروانِ اہلِ بیتؑ اسیری کے بعد دوبارہ کربلا لوٹا اور شہداء کی قبروں پر حاضری دی۔ آج یہی اربعین دنیا کے سب سے بڑے پرامن انسانی اجتماع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آج کے اس مادیت پرست، ظلم زدہ اور بے حس دور میں اربعین کے اثرات کسی انقلاب سے کم نہیں۔

1. مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا عالمی پیغام

آج کا دور یزیدیت کا دور ہے۔ طاقتور کمزور کو کچل رہا ہے۔ اربعین ہمیں سب سے پہلا سبق یہ دیتا ہے کہ "ظالم کے سامنے سر نہ جھکانا"۔ نجف سے کربلا تک کروڑوں کا پیدل قافلہ یہ اعلان ہے کہ ہم حسینؑ کے پیروکار ہیں۔ فلسطین، کشمیر، یمن کے مظلوموں کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کے پیچھے کربلا کا یہی درس کارفرما ہے۔ اربعین نے دنیا کو بتایا کہ شہادت سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، زندہ ہوتی ہیں۔

2. انسانیت اور ایثار کی عملی درسگاہ

آج ہر چیز کا مول ہے۔ لیکن اربعین کی راہ میں 80 کلومیٹر تک لگے لاکھوں "موکب" یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ کھانا، پانی، علاج، آرام گاہ سب مفت۔ میزبان پوچھتا تک نہیں کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو۔ شیعہ، سنی، عیسائی، ہندو سب کو ایک دسترخوان پر بٹھایا جاتا ہے۔ یہ منظر آج کی خودغرض دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اربعین نے سکھایا کہ اصل دولت خدمت ہے، پیسہ نہیں۔

3. امت میں اتحاد اور بھائی چارے کا ذریعہ

فرقہ واریت، نسل پرستی اور رنگ و نسل کے تعصب نے امت کو توڑ دیا ہے۔ لیکن اربعین میں یہ ساری دیواریں گر جاتی ہیں۔ یہاں کوئی ایرانی نہیں، کوئی پاکستانی نہیں، کوئی عرب نہیں۔ سب "حسینی" ہیں۔ یہ اجتماع ثابت کرتا ہے کہ اگر مرکز حسینؑ ہو تو امت ایک ہو سکتی ہے۔ یہی اتحاد آج فتنوں کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہے۔

4. نوجوانوں کی کردار سازی

آج کا نوجوان مایوسی، نشے اور سوشل میڈیا کی بے مقصد زندگی میں گم ہے۔ اربعین کا 3 دن کا پیدل سفر اسے مقصد دیتا ہے۔ دھوپ، پیاس، تھکاوٹ برداشت کر کے جب وہ ضریح کے سامنے پہنچتا ہے تو اس کے اندر صبر، قربانی اور غیرت کا نیا خون دوڑتا ہے۔ اربعین نوجوان کو "مجاہد" بناتا ہے، "مصرف" نہیں۔

5. استکبار کے خلاف مزاحمت کا شعور

"ھیھات منا الذلہ" یعنی "ہم ہرگز ذلت قبول نہیں کریں گے" یہ اربعین کا مرکزی نعرہ ہے۔ یہ نعرہ آج کے ہر مظلوم کو طاقت دیتا ہے۔ اربعین نے ثابت کیا کہ تلواروں سے سوچوں کو نہیں مارا جا سکتا۔ یزید کا نام مٹ گیا اور حسینؑ کا نام گونج رہا ہے۔ یہی شعور آج ہر تحریکِ آزادی کو زندگی دے رہا ہے۔

6. اسلام کی حقیقی تصویر کا ابلاغ

میڈیا اسلام کو دہشتگردی سے جوڑتا ہے لیکن اربعین کی کوریج نے دنیا کو اسلام کا دوسرا چہرہ دکھایا۔ خدمت، محبت، نظم و ضبط اور امن کا چہرہ۔ لاکھوں غیر مسلم سیاح اور صحافی جب اربعین میں آتے ہیں تو وہ واپس جا کر بتاتے ہیں کہ یہ ہے اصل اسلام۔

نتیجہ:

خلاصہ یہ ہے کہ اربعین صرف ایک زیارت نہیں، یہ ایک تحریک کا نام ہے۔ یہ ہر دور کے انسان سے سوال کرتی ہے: "تم یزید کے ساتھ ہو یا حسینؑ کے ساتھ؟"

آج کے دور میں اربعین ہمیں تین کام کرنا سکھاتا ہے:

  1. ظلم کے خلاف "حسینؑ" بنو،
  2. انسانیت کی خدمت میں "عباسؑ" بنو
  3. حق کے پیغام کو پہنچانے میں "زینبؑ" بنو۔

جب تک دنیا میں ظلم رہے گا، اربعین کے قافلے چلتے رہیں گے کیونکہ "کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا" - ہر دن عاشورہ ہے اور ہر زمین کربلا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اربعین کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha