جمعرات 30 جولائی 2026 - 16:51
اربعینِ حسینی معرفتِ امام، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کا عملی درس ہے، مولانا سید احمد رضوی

حوزہ/ مدیر الحسنین اکیڈمی محمدیہ ٹرسٹ پاکستان، مولانا سید احمد رضوی نے اربعینِ حسینی کے موقع پر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر شروع کرنے سے قبل حوزہ نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اربعینِ حسینی معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام، معرفتِ امام، وحدتِ امت، خدمتِ انسانیت اور ظلم کے خلاف بیداری کا عالمی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی نہضت ہر دور کے مظلوموں کے لیے امید، حوصلے اور حق و عدالت پر استقامت کا سرچشمہ ہے، جبکہ نجف سے کربلا کا پیدل سفر عشقِ حسینی، ایثار، اخلاص اور ولایتِ اہلِ بیتؑ سے عملی وابستگی کی بے مثال علامت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید احمد رضوی، مدیر الحسنین اکیڈمی محمدیہ ٹرسٹ پاکستان، جو اِن دنوں اربعین حسینی کے سلسلے میں نجف اشرف میں موجود ہیں، نے نجف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر شروع کرنے سے قبل حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا: اربعینِ حسینی محض ایک مذہبی اجتماع یا سالانہ زیارت کا نام نہیں، بلکہ یہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی زندہ اور متحرک درسگاہ ہے، جہاں انسان ایمان، معرفت، ایثار، اخوت، خدمت، صبر اور ظلم کے خلاف قیام کا عملی سبق حاصل کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف ممالک سے کروڑوں عاشقانِ امام حسینؑ کا نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل روانہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام حسینؑ کی قربانی کسی ایک قوم، نسل یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اربعین کی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف پیدل چلنے یا اجتماع میں شریک ہونے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے پیچھے موجود معرفتِ امام، اطاعتِ خدا، ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور مقصدِ کربلا کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اہلِ بیت علیہم السلام نے ہمیشہ انسانیت کو عدل، تقویٰ، علم، اخلاق اور ظلم کے خلاف قیام کا درس دیا ہے، جبکہ امام حسینؑ نے انہی تعلیمات کو اپنے خون سے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اربعین دراصل اسی پیغام کی تجدید اور اس سے وابستگی کا اعلان ہے۔

مولانا سید احمد رضوی نے کہا کہ روایات میں زیارتِ اربعین کو مؤمن کی علامات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اربعین صرف ایک مستحب عمل نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی تربیت ہے جو انسان کو امامِ وقت کی معرفت، دین سے وابستگی اور اہلِ بیتؑ کی محبت میں مضبوط کرتی ہے۔ جو شخص معرفت کے ساتھ امام حسینؑ کی زیارت کرتا ہے، وہ اپنے اندر اخلاقی، روحانی اور اجتماعی تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ یہی تبدیلی ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجف سے کربلا تک پیدل سفر صرف جسمانی مشقت کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کی تربیت، صبر، انکساری، ایثار اور اخلاص کی عملی مشق ہے۔ اس سفر میں نہ کوئی امیر رہتا ہے اور نہ غریب، نہ کوئی بڑے منصب کا حامل ہوتا ہے اور نہ کوئی معمولی انسان؛ سب امام حسینؑ کے در کے زائر بن کر ایک ہی صف میں چلتے ہیں۔ یہی مساوات اسلام کی حقیقی روح اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی عظمت کا عملی مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کا ایک عظیم پہلو خدمتِ زائرین بھی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا اجتماع ہو جہاں لاکھوں افراد دن رات بغیر کسی دنیاوی منفعت کے صرف اللہ کی رضا اور امام حسینؑ کی محبت میں زائرین کی خدمت کرتے ہوں۔ موکبوں میں کھانا، پانی، رہائش، علاج اور دیگر سہولیات کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ امام حسینؑ کی محبت انسان کو ایثار، سخاوت اور انسان دوستی کی اعلیٰ ترین منزلوں تک پہنچا دیتی ہے۔ یہی وہ ثقافت ہے جسے پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم، ناانصافی، جنگ، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے، اربعین کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ امام حسینؑ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے خاموش رہنا مؤمن کی شان نہیں۔ کربلا ہمیں باطل کے سامنے سر نہ جھکانے، حق کے لیے قربانی دینے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا درس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے ہر مظلوم کے لیے امام حسینؑ امید اور حوصلے کی علامت ہیں۔

انہوں نے فلسطین، غزہ اور دنیا کے دیگر مظلوم خطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اربعین کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر ظالم سے برائت کا اعلان کریں۔ اگر اربعین کے بعد بھی ہمارے دل مظلوموں کے درد سے خالی رہیں اور ہم ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کریں تو ہمیں اپنے اندر اربعین کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ امام حسینؑ کی محبت کا تقاضا صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ ان کے مقصد کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔

مولانا سید احمد رضوی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اربعین کو صرف ایک جذباتی اجتماع کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے علم، معرفت، کردار سازی اور خودسازی کی تحریک سمجھے۔ نوجوان اگر امام حسینؑ کی سیرت، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر، حضرت عباسؑ کی وفاداری اور اصحابِ امام حسینؑ کی قربانیوں کو اپنی زندگی کا نمونہ بنا لیں تو معاشرے میں اخلاقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا، علماء، خطباء اور دینی مراکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اربعین کے حقیقی فلسفے اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کو دنیا کے سامنے صحیح انداز میں پیش کریں، کیونکہ بعض حلقے اس عظیم عالمی اجتماع کو صرف ایک مذہبی رسم کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اربعین ایمان، اخوت، امن، محبت، خدمت، عدل اور انسانی کرامت کا عالمی منشور ہے۔

آخر میں انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام زائرینِ امام حسینؑ کی زیارات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ہمیں معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام، سیرتِ امام حسینؑ پر عمل کرنے اور حق و عدالت کی راہ میں ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ عالمِ اسلام میں اتحاد و اخوت کو فروغ عطا فرمائے، تمام مظلوموں کی نصرت فرمائے اور ہمیں ان خوش نصیب افراد میں شامل کرے جو ہر دور میں امام حسینؑ کے پیغامِ حق کو اپنی زندگی کا شعار بناتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha