پیر 27 جولائی 2026 - 12:03
عشقِ حسینؑ؛ رازِ استقامت اور قوتِ ارادہ

حوزہ/انسان کی اصل طاقت اس کے جسم میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان، اخلاص اور عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب مقصد رضائے الٰہی ہو اور دل محبتِ اہلِ بیتؑ سے سرشار ہو تو تھکن، مشکلات اور رکاوٹیں انسان کے قدم نہیں روک سکتیں۔

تحریر: نرگس غلام شبیر

حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ حکیمانہ فرمان انسان کی قوتِ ارادہ اور اخلاصِ نیت کی ایسی حقیقت کو بیان کرتا ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے:ما ضَعُفَ بَدَنٌ عَمَّا قَوِيَتْ عَلَيْهِ النِّيَّةُ. یعنی: "جس مقصد کے لیے نیت مضبوط اور ارادہ پختہ ہو، اس کے سامنے جسم کمزور نہیں پڑتا۔"

انسان کی اصل طاقت اس کے جسم میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان، اخلاص اور عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب مقصد رضائے الٰہی ہو اور دل محبتِ اہلِ بیتؑ سے سرشار ہو تو تھکن، مشکلات اور رکاوٹیں انسان کے قدم نہیں روک سکتیں۔

اسی حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"

اس حقیقت کی سب سے روشن تصویر زیارتِ اربعین میں نظر آتی ہے، جہاں دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ امام حسینؑ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرتے ہیں۔ شدید گرمی، تھکن اور دشوار راستے بھی ان کے عزم کو کمزور نہیں کر پاتے، کیونکہ ان کے قدموں کو جسمانی طاقت نہیں بلکہ عشقِ حسینؑ حرکت دیتا ہے۔

اربعین صرف ایک سفر نہیں، بلکہ اخلاص، ایثار اور خدمت کا عظیم مکتب ہے۔ یہی محبت انسان کو اپنے آرام پر دوسروں کی راحت کو ترجیح دینا سکھاتی ہے۔ راستوں میں زائرین کی خدمت کرنا، پانی پلانا، کھانا تقسیم کرنا، جوتے صاف کرنا اور اپنی آسائشیں دوسروں پر قربان کر دینا اسی عشق کی عملی تفسیر ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ هِمَّتِهِ."انسان کی قدر و منزلت اس کی ہمت کے مطابق ہوتی ہے۔"

آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد الیعقوبی دامت برکاتہ بھی اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مضبوط نیت انسان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر دیتی ہے۔ جب مقصد مقدس ہو تو کمزور جسم بھی عظیم کارنامے انجام دیتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں صبر، استقامت، ایثار اور وفاداری کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپؑ کا پیغام صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک عملی درس ہے کہ اگر نیت خالص، مقصد بلند اور دل عشقِ الٰہی و عشقِ حسینی سے آباد ہو، تو کوئی رکاوٹ انسان کو منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

آج بھی ہمیں اپنی زندگیوں میں استقامت، اخلاص اور خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے مکتبِ امام حسینؑ سے وابستہ ہونا ہوگا۔ یہی حدیثِ امام جعفر صادقؑ کا پیغام ہے اور یہی زیارتِ اربعین کا زندہ درس کہ مضبوط نیت اور عشقِ حسینؑ انسان کو ہر مشکل پر غالب آنے کی طاقت عطا کرتے ہیں۔

  • مؤمن کی پہچان: دعویٰ نہیں، کردار

    مؤمن کی پہچان: دعویٰ نہیں، کردار

    حوزہ/مؤمن کی اصل پہچان اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی اُسے دیکھنے والا نہ ہو، جب غصہ اُس پر غالب ہو، جب وہ صاحب اختیار ہو، جب ہاتھ تنگ ہو، جب خوف اُسے گھیر لے…

  • صبر اور رضائے الٰہی: دل کے سکون کی کنجی

    صبر اور رضائے الٰہی: دل کے سکون کی کنجی

    حوزہ/صبر کا مطلب صرف تکلیف برداشت کرنا نہیں، بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر ثابت قدم رہنا، گناہوں سے بچنا اور مصیبت کے وقت ناشکری اور بے صبری سے…

  • فرصت سے استفادہ؛ وقت کی امانت اور شعوری زندگی

    فرصت سے استفادہ؛ وقت کی امانت اور شعوری زندگی

    حوزہ/وقت ایک ایسا خاموش دریا ہے جو مسلسل بہہ رہا ہے اور اس کے دھارے میں جو لمحہ ایک بار گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ انسانی زندگی درحقیقت انہی لمحوں،…

  • احساسات کی قدر؛ رشتوں کا استحکام

    احساسات کی قدر؛ رشتوں کا استحکام

    حوزہ/انسان صرف عقل کا نام نہیں، بلکہ وہ احساسات اور تعلقات کا ایک مجموعہ ہے۔ نفسیات کے مطابق، ہماری شخصیت، پڑھائی، کارکردگی اور ذہنی سکون کا زیادہ تر انحصار…

  • تلاشِ خورشید

    تلاشِ خورشید

    حوزہ/ایک مدت گزر گئی تھی اور میں اندھیروں سے بھری رات میں روشنی کی طلبگار تھی۔ ہر طرف گھٹن اور تاریکی تھی، گویا ان آنکھوں نے کبھی نور کے جلوے کو دیکھا…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha