حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام اور ادارۂ معارف علومِ اسلامی جموں و کشمیر کے بینر تلے جشنِ صادقین کے سلسلے میں سرینگر کے زڈی بل علاقے میں عظیم الشان جلوسِ میلاد کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ اسلام، علمائے کرام، ذاکرین، طلبہ و طالبات، اساتذہ، مکاتب و مدارس کے منتظمین اور ایسوسی ایشن کے کارکنان نے شرکت کی۔
عظیم الشان جلوسِ میلاد کا آغاز امامیہ پارک دونی پورہ سے ہوا۔ عاشقانِ رسول کا یہ روح پرور قافلہ ہاول سے ہوتا ہوا امام بارگاہ زڈی بل پہنچا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلامی اسکالر شیخ محمد حسن ذاکری نے کہا کہ جشنِ میلاد النبی کا حقیقی مقصد محض خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں، بلکہ رسولِ اکرم کی سیرت و تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا، امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت کو فروغ دینا، نئی نسل کو قرآنِ کریم اور سیرتِ طیبہ سے روشناس کرانا اور معاشرے میں موجود سماجی و اخلاقی برائیوں کے خلاف شعور بیدار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اسی پیغام کو عملی شکل دینے کے لیے امام خمینیؒ کی ہدایت کے مطابق 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول تک ہفتۂ وحدت منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے درمیان حقیقی اتحاد، اخوت، باہمی احترام اور بھائی چارے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
شیخ محمد حسن ذاکری نے کہا کہ رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ کی پوری حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے رحمت، محبت، عدل، علم، برداشت، اخوت اور خدمت کا جامع پیغام ہے۔ آپ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، کمزوروں کا خیال رکھنے، صبر و تحمل اختیار کرنے اور اختلافات کو حکمت، محبت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے حل کرنے کی تعلیم دی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیرتِ نبوی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، خصوصاً نوجوان نسل مختلف سماجی، اخلاقی اور ذہنی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ منشیات، مایوسی، خودکشی کے رجحانات، بے راہ روی اور دیگر سماجی برائیاں معاشرے کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں کو قرآنِ کریم، سیرتِ رسول، ایمان، صبر، حسنِ اخلاق اور مثبت سوچ سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکلات اور پریشانیاں زندگی کا حصہ ہیں، اس لیے نوجوانوں کو مایوسی کے بجائے صبر، حوصلے اور ایمان کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ رسولِ اکرم کی تعلیمات ہمیں صبر، برداشت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہیں اور یہی اقدار ایک پُرامن اور صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
انہوں نے ہفتۂ وحدت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر سے وابستہ مسلمان مشترکہ اقدار اور رسولِ اکرم سے اپنی محبت کو بنیاد بنا کر امت کے وسیع تر اتحاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول امن، رحمت، عدل، بھائی چارے اور اتحاد کا عالمگیر پیغام پیش کرتی ہے، جبکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رسولِ اکرم اور اہلِ بیت اطہارؑ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی صفوں میں اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں۔
ایم کے چوک ہاول میں شیخ محمد حسن ذاکری کے ساتھ آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے ترجمان مولوی سید طیب رضوی نے بھی خطاب کیا اور ولادتِ رسولِ اکرم ، ہفتۂ وحدت، سیرتِ نبوی اور مسلم اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے والدین کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی شخصیت سازی میں گھر اور والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار اور عمل سے بچوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں، خود نماز کی پابندی کریں، حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں اور بچوں کو قرآنِ کریم، نماز، احترامِ انسانیت، صبر و تحمل اور دینی اقدار کی تعلیم دیں۔

انہوں نے کہا کہ دینی مکاتب اور مدارس بچوں کو بنیادی دینی تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم نئی نسل کی مکمل دینی و اخلاقی تربیت کے لیے گھر، مدرسہ اور معاشرے کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔ اگر والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کی رہنمائی کریں تو انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھتے ہوئے ایک مثبت اور باکردار نسل پروان چڑھائی جا سکتی ہے۔
جلوس میں کشمیر بھر کے مختلف مکاتب و مدارس سے وابستہ طلبہ و طالبات، اساتذہ، انسپکٹرز، علمائے دین، ذاکرین اور ایسوسی ایشن کے کارکنان نے شرکت کی۔ طلبہ کی جانب سے نعتیہ کلام پیش کیا گیا، جس سے محفل کا روحانی ماحول مزید پُراثر ہوگیا۔
جلوس کا اختتام امام بارگاہ زڈی بل میں ہوا، جہاں خصوصی محفلِ میلاد منعقد کی گئی۔ محفل میں رسولِ اکرم کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ حسنہ، تعلیمات اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عمران رضا انصاری نے عظیم الشان جلوس کے کامیاب اور پُرامن انعقاد پر سرینگر ضلعی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس، سری نگر میونسپل کارپوریشن، محکمہ صحت، کے پی ڈی سی ایل، محکمہ جل شکتی اور دیگر متعلقہ محکموں کا شکریہ ادا کیا۔

مولوی عمران رضا انصاری نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور مختلف فیلڈ محکموں کے درمیان بہترین تال میل کے باعث اتنے بڑے اجتماع کی نقل و حرکت کو منظم اور پُرامن انداز میں یقینی بنایا گیا۔ صفائی ستھرائی، ٹریفک مینجمنٹ، طبی سہولیات اور دیگر شہری انتظامات میں متعلقہ محکموں نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔
انہوں نے دونی پورہ، گزی ڈوری اور زڈی بل کے عوام کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے عقیدت مندوں کے لیے مختلف مقامات پر انتظامات کیے اور مہمان نوازی و تعاون کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امام بارگاہ زڈی بل کے رضاکاروں کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے پروگرام سے قبل اور دورانِ پروگرام انتھک محنت کی۔









آپ کا تبصرہ