منگل 22 ستمبر 2026 - 14:51
حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

حوزہ/ زیر نگرانی دفتر نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ باب النجف لکھنو، زیر اہتمام وفاق المدارس الدینیہ، علماء و طلاب و مومنین لکھنو کی جانب سے مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسی شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی رحلت پر حسینیہ قائمہ خاتون سجاد باغ میں جلسہ تعزیت و مجلس ترحیم منعقد ہوئی۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنو/ زیر نگرانی دفتر نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ باب النجف لکھنو، زیر اہتمام وفاق المدارس الدینیہ، علماء و طلاب و مومنین لکھنو کی جانب سے مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسی شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی رحلت پر حسینیہ قائمہ خاتون سجاد باغ میں جلسہ تعزیت و مجلس ترحیم منعقد ہوئی۔

حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

جلسہ تعزیت کا آغاز مولانا قمر الحسن زینبی نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی رحلت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے انہیں حوزۂ علمیہ کے عظیم اساطین، فقیہِ اہل بیتؑ، عالمِ ربانی اور صاحبِ خشیت و تقویٰ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عالمِ ربانی کے انتقال سے ایسا علمی خلا پیدا ہوتا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا۔ آیۃ اللہ شبیری زنجانیؒ علمِ رجال و درایت میں مہارت، فقہ و اصول میں تبحر، طویل تدریسی خدمات، سادگی اور خاموش علمی جدوجہد کے لئے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ مولانا الغروی نے آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی دام ظلہ کے تعزیتی کلمات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے بلند علمی مقام اور حوزۂ علمیہ میں ممتاز حیثیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے آیۃ اللہ شبیری زنجانیؒ کی رحلت کو حوزۂ علمیہ ہندوستان کی علمی صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور اور اس کی احیاء کے عزم کا موقع قرار دیا اور کہا کہ حوزات کی مضبوطی کے لئے علماء و طلبہ کو بزرگ علماء کی سیرت سے رہنمائی لیتے ہوئے بلند علمی اہداف، مسلسل محنت اور علومِ اہل بیت علیہم السلام سے مضبوط وابستگی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ حوزۂ علمیہ کی ترقی کسی بیرونی مدد کی منتظر رہنے کے بجائے خود علماء، طلبہ اور اہلِ حوزہ کی ذمہ داری ہے۔ آخر میں انہوں نے امام زمانہؑ، مراجع عظام، حوزاتِ علمیہ، طلاب اور مرحوم کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی۔

حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

مولانا مکاتب علی خان نے مرجعِ اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ اور تمام مراجع عظام و علمائے کرام کی خدمت میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کی وفات پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے عالمِ تشیع میں ایک ایسا علمی خلا پیدا ہوا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں۔

انہوں نے مرحوم کو عظیم مرجعِ تقلید، بلند پایہ فقیہ، متقی، صاحبِ اخلاق اور ممتاز استاد قرار دیا اور ان کے علمی مقام، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم میں نمازِ جماعت اور قم میں تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

مولانا مکاتب علی خان نے کہا کہ ایسے جلیل القدر عالم کا انتقال امت کے لئے ایک عظیم نقصان ہے۔

مولانا مصطفیٰ علی خان ادیب الہندی نے آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کے انتقال پر امام زمانہؑ، مراجع عظام، حوزاتِ علمیہ، مومنین اور مرحوم کے خانوادے کی خدمت میں تعزیت پیش کی۔

انہوں نے مرحوم کی علمی خدمات، طویل تدریسی زندگی، تقویٰ اور حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا و مدرسہ فیضیہ میں نمازِ جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم عالم کی رحلت ایسا علمی خلا پیدا کرتی ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا۔

مولانا ادیب الہندی نے آیۃ اللہ شبیری زنجانیؒ کی رحلت کو حوزۂ علمیہ ہندوستان کی صورتِ حال پر غور اور اس کی تجدیدِ حیات کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کو مضبوط، معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے خود عملی کوشش کرنا ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ بلند اہداف متعین کرکے حوزاتِ علمیہ کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنا ہی ایسے بزرگ عالم کی یاد کا حقیقی تقاضا ہے، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جامعہ سلطانیہ لکھنؤ کے استاد مولانا سید محمد موسیٰ رضوی نے آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمِ دین کے انتقال سے ایسا علمی خلا پیدا ہوتا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا۔

حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

انہوں نے مرحوم کے علمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آیۃ اللہ شبیری زنجانیؒ نے آیت اللہ سید حسین بروجردیؒ، آیت اللہ سید محمد حجت کوہ‌کمریؒ، آیت اللہ سید صدرالدین صدرؒ، آیت اللہ محقق دامادؒ اور عراق میں آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئیؒ و آیت اللہ سید محسن حکیمؒ جیسے جلیل القدر اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اور فقہ و اصول میں درسِ خارج دیا۔

مولانا سید محمد موسی رضوی نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم میں ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سادگی، تواضع اور تقویٰ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایسے بلند پایہ عالم کا اٹھ جانا علمی و روحانی حلقوں کے لئے بڑا نقصان ہے۔

آخر میں مجلس ترحیم منعقد ہوئی جسے پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفرانمآبؒ مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خطاب کیا، انہوں نے آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کی رحلت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالمِ دین کے انتقال سے امت میں ایسا علمی خلا پیدا ہوتا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں۔

انہوں نے مرحوم کے علمِ رجال میں تخصص، فقہ و اصول میں علمی مقام، تحقیقی خدمات، تقویٰ، سادگی اور شہرت سے بے نیازی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی تصانیف اور تحقیقی آثار اہلِ علم کے لئے گراں قدر سرمایہ ہیں، جنہیں نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

حوزۂ علمیہ ہندوستان کے احیاء کا عزم ضروری ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی 

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے علماء و طلاب کو ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی علمی روایت کو آگے بڑھانے اور حوزاتِ علمیہ کو مضبوط بنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی سرمایہ کو محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

جلسہ تعزیت میں نظامت کے فرائض مولانا سید علی ہاشم عابدی نے انجام دیا۔ جلسہ تعزیت و مجلس ترحیم میں مولانا سید اظہر حسین (بھوپال) مولانا سید محمد حسین رضوی، مولانا سید محمد عباس واعظ، مولانا سید منتظر مہدی نجفی، مولانا شبیر علی قمی، مولانا نجف، مولانا سید احسن نواب، مولانا تنظیم حیدر، مولانا حسن عباس معروفی، مولانا سید امیر عباس کے علاوہ دیگر علماء و مومنین نے بھی شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha