حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے رہبر معظم انقلاب کی جانب سے حرم حضرت فاطمہ معصومہؑ کے شبستان امام خمینیؒ میں آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کی یاد میں منعقدہ مجلس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم علمی و روحانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ایک نشست میں بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے ان کی علمی، اخلاقی اور تربیتی شخصیت پر متعدد نشستوں کا انعقاد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شبیری زنجانیؒ نے اپنی پوری زندگی اسلام، قرآن اور اہل بیتؑ کی خدمت میں گزاری۔ وہ ایک ایسے خاندان میں پروان چڑھے جہاں علم و فقاہت کی مضبوط روایت موجود تھی اور انہوں نے حوزہ کے بزرگ اساتذہ سے استفادہ کرتے ہوئے تحصیل، تحقیق اور تدریس کا طویل سفر طے کیا۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے آیت اللہ شبیری زنجانیؒ کے اجتہادی طریقۂ کار کو ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی مسئلے میں صرف ایک روایت یا ایک فقہی باب پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ متعلقہ روایات تلاش کرنے کے لیے دیگر ابواب اور بنیادی مصادر کا بھی جائزہ لیتے تھے۔ اسی طرح وہ علم رجال اور روایات کی صحت جانچنے پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ان کا یہ دقیق علمی طریقہ طلبہ اور محققین کے لیے قابل استفادہ ہے۔

انہوں نے آیت اللہ شبیری زنجانیؒ کی اخلاقی و سماجی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش اخلاق، کشادہ دل کے حامل، سادہ زندگی گزارنے والے اور عوام و علما کے درمیان قابل اعتماد شخصیت تھے۔ انہوں نے کئی سال حرم حضرت فاطمہ معصومہؑ میں نماز جماعت کی امامت کی اور طلبہ، علما اور عوام سے مسلسل رابطے میں رہے۔
سربراہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے کہا کہ آیت اللہ شبیری زنجانیؒ کی عبادت، تقویٰ اور خدا پر توجہ بھی ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھی۔ ان کی زندگی میں علم کے ساتھ اخلاق، تواضع اور معنوی وابستگی نمایاں تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ حوزہ علمیہ کے بزرگ علما کی زندگی اور علمی میراث سے ان کی حیات میں ہی استفادہ کیا جانا چاہیے اور ان کے انتقال کے بعد افسوس کرنے کے بجائے ان کی علمی و اخلاقی شخصیت کا بروقت تعارف اور مطالعہ ضروری ہے۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے آخر میں کہا کہ آیت اللہ شبیری زنجانیؒ حوزہ علمیہ کے قیمتی سرمایہ تھے اور ان کے شاگردوں کی موجودگی کے ذریعے حوزہ ان کے علمی و تربیتی اثرات سے آئندہ بھی فائدہ اٹھاتا رہے گا۔









آپ کا تبصرہ