پیر 21 ستمبر 2026 - 14:02
آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

حوزہ/ یوں شبیری زنجانی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے تین نسبتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں: ایک حرمِ کریمہ اہل بیتؑ سے گہرا تعلق، دوسری والدِ بزرگوار آیت‌اللہ سید احمد زنجانیؒ کی علمی و اخلاقی میراث، اور تیسری قم کے ان بزرگ فقہاء کی علمی روایت جس میں مرعشی نجفیؒ جیسے اکابر بھی شامل تھے۔

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | کبھی کسی بزرگ کی رحلت صرف ایک انسان کے دنیا سے اٹھ جانے کا نام نہیں ہوتی بلکہ پورا ایک عہد اس بزرگ کے ساتھ رخصت ہو جاتا ہے ۔

کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے ایک پورا ایک علمی مزاج، ایک فکری روایت اور ایک اخلاقی اسلوب ہمارے درمیان سے اٹھتا محسوس ہوتا ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کی رحلت بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔

آج حوزات علمیہ کی فضا میں ایک خاموشی ہے۔

حوزۂ کے ایک طویل علمی سفر کا ایک روشن باب بند ہوگیا ہے۔

اور تشیع نے ایسے فقیہ کو کھو دیا ہے جس کی زندگی میں علم، تقویٰ، وقار، اعتدال اور خدمت محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مسلسل عملی حقیقت تھے۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالٰی تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ قم کے علمی ماحول میں گزرا؛ انہوں نے بزرگ فقہا سے استفادہ کیا، نجف کے علمی حلقوں سے فیض اٹھایا، پھر طویل عرصے تک فقہ، اصول، رجال اور حدیث کی تدریس کے ذریعے نسلوں کی علمی تربیت کی۔ ان کا علمی سفر صرف حصولِ علم تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ خود ایک ایسے استاد بنے جن کے درس سے نکلنے والے بہت سے اہلِ علم نے بعد میں حوزہ کی مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔

علم کا وہ لہجہ جس میں شور نہیں تھا

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی رضوان اللہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی گہری علمی بصیرت کے ساتھ انکا اعتدال پسند فکری مزاج تھا۔

وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک علم کا مطلب صرف زیادہ جاننا نہیں بلکہ وقت پر بولنا اور وقت پر خاموش رہنا ، اختلاف میں انصاف کرنا، حکم لگانے میں احتیاط برتنا اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے صبر سے تحقیق کرنا بھی تھا۔

فقاہت ان کے ہاں محض مسائل کے جوابات کا مجموعہ نہیں تھی؛

یہ ایک ذمہ داری تھی۔

رجال اور حدیث ان کے لیے محض کتابی ابواب نہیں تھے؛

یہ روایتِ تشیع کی حفاظت کا ذریعہ تھے۔

اور مرجعیت ان کے لیے محض ایک منصب نہیں تھی؛

یہ بندگانِ خدا کے سوالات، مشکلات اور دینی ذمہ داریوں کا بوجھ تھی جسے انکے ذمہ دار کاندھوں نے امانت کے ساتھ اٹھایا

اسی لیے ان کی علمی زندگی میں جلد بازی کے بجائے تأمل، نعرے کے بجائے دلیل اور جذبات کے بجائے تحقیق نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

ان کے علمی آثار میں فقہ، اصول، رجال، حدیث، استفتائات اور مختلف فقہی ابواب پر دروس و تحقیقات شامل ہیں، خاص کر رجال میں انکا تبحر عصر رواں میں طاق تھا جبکہ "جرعہ‌ای از دریا" جیسی تصنیف نے ان کی شخصیت کے ایک دوسرے پہلو کو نمایاں کیا؛ یعنی بزرگ علماء، اہلِ علم اور تاریخِ حوزہ کی یادداشتوں اور علمی شخصیت شناسی کو محفوظ رکھنے کا ذوق۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

شہرت سے دور، خدمت کے قریب

ہمارے دور میں جب بعض اوقات شہرت خود ایک مقصد بن جاتی ہے، آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ کی زندگی شہرت گریزی اور خاموش خدمت کی ایک خوب صورت مثال دکھائی دیتی ہے۔

وہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہیں اپنی علمی عظمت کا اعلان کرنے کے لیے بلند آواز کی ضرورت نہیں تھی۔

ان کی شناخت ان کے بیانات سے زیادہ ان کے درس سے ہوئی؛

ان کی شہرت ان کے اشتہارات سے زیادہ ان کی تحقیق سے ہوئی؛

اور ان کا اثر ان کے نعروں سے زیادہ ان کے شاگردوں اور علمی میراث کے ذریعے پھیلا۔

یہی شاید حقیقی علمی شخصیت کی پہچان ہے کہ انسان اپنے زمانے میں موجود بھی ہو اور اپنی ذات کو مرکز بنانے سے محفوظ بھی رہے۔

وہ ایک ایسے دور میں مرجع رہے جب مرجعیت کے گرد مختلف نوعیت کے مباحث، توقعات اور حساسیتیں موجود تھیں، لیکن ان کی شخصیت نے اس منصب کو بنیادی طور پر علمی امانت اور دینی ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔

اعتدال: کمزوری نہیں، علمی پختگی ہے

آج تشیع کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے، ان میں سے ایک اعتدال کی وہ بصیرت ہے جو اصول پر قائم رہتے ہوئے انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرے۔

اعتدال کا مطلب حق سے دست بردار ہونا نہیں؛

اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ حق کی حفاظت حکمت، اخلاق، دلیل اور انصاف کے ساتھ کی جائے۔

آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ کی شخصیت اس پہلو سے بھی اہم تھی۔

وہ ایک ایسے علمی مزاج کی نمائندگی کرتے تھے جس میں فقہی اختلاف دشمنی نہیں بنتا تھا، علمی اختلاف شخصی تصادم میں تبدیل نہیں ہوتا تھا اور مذہبی وقار کو سیاسی شور کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم جتنا گہرا ہوتا جائے، لہجہ اتنا ہی سنجیدہ اور انسان اتنا ہی محتاط ہوجاتاہے۔

ایک ایسا مرجع جو لوگوں کے درمیان دیوار نہیں بنا

ان کی زندگی کے بعض واقعات اس وسیع تر انسانی اور اخلاقی دائرے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو ان کے مزاج میں موجود تھا۔ آیت اللہ منتظری کی وفات کے موقع پر ان کی نمازِ میت کی امامت ان واقعات میں سے ایک ہے جو ان کے نام کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہوگئے جس کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا لیکن انکی دینی و شرعی جرات ہر چیز پر حاوی رہی ۔ اسی طرح مختلف فکری اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ساتھ ان کے روابط نے بھی اس بات کو نمایاں کیا کہ ان کے نزدیک علمی و انسانی تعلقات کو محض سیاسی خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ایران کے سابقہ صدر جناب محمد خاتمی سیاسی نظام سے مختلف نظر رکھنے والی بعض علمی و فکری شخصیتوں سے انکی ملاقاتیں کافی بحث بر انگیز رہیں جنکی بنیاد پر انہیں طعن و تشنیع کا شکار بھی بننا پڑا لیکن انہوں نے خاموش رہنے کو ہر اعتراض کا جواب جانا اور اپنے علمی سفر کو جاری رکھا ۔

یہاں اصل اہمیت کسی سیاسی موقف کی نہیں، بلکہ اس وسیع ظرفی کی ہے جس میں ایک عالم اختلاف رکھنے والے انسان کے لیے بھی انسانی احترام کا دروازہ بند نہیں کرتا۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں فقاہت اخلاق کے ساتھ ممزوج ہو جاتی ہے

تشیع نے کیا کھویا؟

آج جب ہم کہتے ہیں کہ تشیع نے ایک بزرگ مرجع کھو دیا تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک اور فقیہ ہمارے درمیان نہیں رہا۔

ہم نے ایک ایسا علمی حافظہ کھویا ہے جس میں حوزہ کے کئی ادوار محفوظ تھے۔

ہم نے ایک ایسی شخصیت کو کھویا ہے جس نے بزرگ فقہا کو قریب سے دیکھا، ان سے پڑھا، ان کے علمی مباحث کو سمجھا اور پھر اپنی طویل زندگی کے ذریعے اس علمی سلسلے کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔

ہم نے ایک ایسے استاد کو کھویا ہے جس کے لیے تدریس صرف روزمرہ کا معمول نہیں بلکہ علمی امانت تھی۔

ہم نے ایک ایسے مرجع کو کھویا ہے جس کی شخصیت میں فقہ کے ساتھ رجال، حدیث کے ساتھ تاریخ، علم کے ساتھ اخلاق اور مرجعیت کے ساتھ وقار جمع تھا۔

اور شاید سب سے بڑھ کر ہم نے ایک ایسے اعتدال پسند علمی لہجے کو کھویا ہے جس کی موجودگی اختلاف کے شور میں بھی ایک خاموش توازن پیدا کرتی تھی۔

خلا صرف منصب کا نہیں، مزاج کا بھی

مرجعیت کے منصب پر دوسرے اہلِ علم موجود رہیں گے، درسِ خارج جاری رہیں گے، کتابیں لکھی جائیں گی، استفتاءات کے جوابات دیے جائیں گے اور حوزہ علمیہ اپنی علمی حرکت جاری رکھے گا۔

لیکن ہر شخصیت کا اپنا ایک علمی مزاج ہوتا ہے، اور وہ مزاج کسی فہرست، کسی منصب یا کسی عہدے سے دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔

شبیری زنجانی رضوان اللہ کا خلا بھی اسی معنی میں ہے۔

یہ کسی کرسی کا خلا نہیں؛

ایک طرزِ علم کا خلا ہے۔

یہ کسی دفتر کا خلا نہیں؛

ایک طرزِ مرجعیت کا خلا ہے۔

یہ صرف ایک استاد کی عدم موجودگی نہیں؛

ایک ایسے استاد کے رخصت ہونے کا دکھ ہے جو اپنی ذات سے زیادہ علم کو اہمیت دیتا تھا۔

آنے والے زمانے کے لیے ایک خاموش وصیت

شاید آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ کی سب سے بڑی میراث ان کی کتابوں سے بھی آگے ہے۔

وہ یہ ہے کہ علم کو وقار کے ساتھ حاصل کیا جائے، اختلاف کو اخلاق کے ساتھ برداشت کیا جائے، فتویٰ کو ذمہ داری سمجھا جائے، تاریخ کو اپنی اصل حالت میں محفوظ رکھا جائے اور مرجعیت کو خدمت سمجھا جائے۔

تشیع کی رہنمائی صرف بلند خطابات و لمبی تقاریر سے نہیں ہوتی؛

کبھی ایک خاموش استاد کی دہائیوں پر محیط علمی محنت پوری نسلوں کی رہنمائی بن جاتی ہے۔

کبھی ایک محتاط فقیہ کا ایک جملہ شور مچانے والی سو تقریروں سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔

کبھی ایک عالم کا شہرت سے دور رہنا خود اخلاص کی سب سے بلند تقریر بن جاتا ہے۔

اور کبھی کسی بزرگ کی وفات ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم نے اس شخص کی قدر شاید اس وقت پوری طرح نہیں کی جب وہ ہمارے درمیان موجود تھا۔

حرم کریمہ اہلبیت اطہار علیہم السلام میں نماز جماعت کا افتخار

حضرت آیت‌اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کی زندگی میں حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا سے تعلق ایک نمایاں روحانی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے والد بزرگوار آیت‌اللہ سید احمد زنجانیؒ حرمِ مطہر میں صبح اور مغرب و عشاء کی نمازِ جماعت پڑھاتے تھے، جبکہ ظہر کی نماز مدرسۂ فیضیہ میں قائم کرتے تھے۔آپ خود اپنے دور کے بزرگ مراجع میں شمار ہوتے تھے ان کی مقبولیت، تقویٰ اور علمی مقام کا یہ عالم تھا کہ بہت سے فضلاء، علماء اور اساتذہ ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔

والدِ بزرگوار کی آخری عمر میں جب ضعف کے باعث وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے سے عاجز ہوئے تو آیت‌اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی نے اپنے والد کی جگہ حرمِ مطہر میں امامتِ جماعت کی ذمہ داری سنبھالی۔ یوں یہ صرف ایک باپ کی جگہ بیٹے کا کھڑا ہونا نہیں تھا، بلکہ ایک علمی و روحانی امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونا تھا۔ آیت‌اللہ شبیری زنجانی نے بعد میں بھی طویل عرصے تک حرمِ حضرت معصومہؑ میں نمازِ جماعت کی امامت انجام دی۔

آیت‌اللہ شبیری زنجانی کا خانوادہ

آیت‌اللہ شبیری زنجانی کا خانوادہ قم کے قدیم اور معزز علمی خانوادوں میں شمار ہوتا تھا۔ آیت‌اللہ سید احمد زنجانیؒ نہ صرف فقیہ اور مدرس تھے بلکہ فقہ کے مختلف ابواب پر وسیع احاطہ رکھتے تھے۔ ان کی علمی شخصیت سے آیت‌اللہ العظمیٰ سید محمدعلی اراکیؒ جیسے بزرگ علماء بھی متاثر تھے۔ ان کی زندگی میں تقویٰ، توکل، زہد، عبادت، حسنِ معاشرت اور اہل بیتؑ سے غیر معمولی محبت نمایاں خصوصیات کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ تقریباً ساٹھ کتابیں اور رسائل بھی ان کی علمی یادگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

آیت‌اللہ شبیری زنجانی کے علمی مقام کی تشکیل میں خود ان کے والد کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں نے ابتدائی و سطح کی تعلیم کے بعد متعدد اکابر علماء سے استفادہ کیا اور فقہ و اصول، رجال اور حدیث میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ ان کی بعد کی علمی زندگی میں رجال خصوصاً ایک ممتاز میدان بن گیا؛ ان کی تحقیق سے رجال النجاشی کی معروف علمی تدوین بھی سامنے آئی۔

آیت‌اللہ مرعشی نجفیؒ کے ساتھ بھی آپکے صمیمی مراسم تھے جو خود حرم میں عرصہ دراز تک نماز پڑھاتے رہے شبیری خاندان کے تعلق کے بارے میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ دونوں بزرگوں کا علمی و حوزوی ماحول ایک دوسرے سے مرتبط تھا ۔ جہاں آیت‌اللہ مرعشی نجفیؒ خود حرمِ حضرت معصومہؑ میں طویل عرصے تک باقاعدگی سے نمازِ جماعت قائم کرنے والے بزرگ عالم تھے، اور حرم کی امامت کو ایک عظیم دینی خدمت سمجھتے تھے۔ وہیں آیت اللہ زنجانی بھی اسی خدمت سے وابستہ رہے

یوں شبیری زنجانی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے تین نسبتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں: ایک حرمِ کریمہ اہل بیتؑ سے گہرا تعلق، دوسری والدِ بزرگوار آیت‌اللہ سید احمد زنجانیؒ کی علمی و اخلاقی میراث، اور تیسری قم کے ان بزرگ فقہاء کی علمی روایت جس میں مرعشی نجفیؒ جیسے اکابر بھی شامل تھے۔

رہبرِ شہید کے ساتھ صمیمی رابطہ اور خیرخواہانہ مشاورت

آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ کی زندگی کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ کے ساتھ ان کا دیرینہ، صمیمی اور خیرخواہانہ رابطہ تھا۔ یہ تعلق محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ مختلف حساس مواقع پر دینی، اجتماعی اور مملکتی امور میں ان کی رائے اور مشورے کو اہمیت دی جاتی رہی۔

ان کی شخصیت میں جو علمی وقار اور غیر جانب دارانہ بصیرت تھی، شاید اسی لیے ان کی بات میں ایک ایسی اخلاقی تاثیر پیدا ہوگئی تھی جو منصب اور اقتدار کی رسمی حدود سے آگے بڑھ جاتی تھی۔ وہ جہاں ضرورت محسوس کرتے، اپنی رائے صاف انداز میں پیش کرتے اور جہاں کسی انسان کے حق، مصلحت یا اصلاح کا مسئلہ ہوتا، وہاں ایک فقیہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں تامل نہیں کرتے تھے۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

احمد منتظری کے معاملے میں ان کی وساطت اس تعلق کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ احمد منتظری کے بیان کے مطابق آیت اللہ شبیری زنجانی نے ان کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے سلسلے میں مداخلت کرتے ہوئے اسے مصلحت کے خلاف قرار دیا، اور اس سلسلے میں رہبرِ انقلاب تک اپنی رائے پہنچائی۔ بعد ازاں ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای رضوان اللہ کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ آیت اللہ شبیری زنجانی کی رائے کے مطابق عمل کیا جائے، جس کے نتیجے میں عدالتی حکم پر عمل درآمد معطل ہوا۔

یہ واقعہ محض ایک فرد کی رہائی یا ایک عدالتی فیصلے میں تبدیلی کا قصہ نہیں؛ اس کے پس منظر میں ایک بزرگ مرجع کی علمی و اخلاقی حیثیت اور ایک رہبر کی جانب سے اس حیثیت کے احترام کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔

اسی طرح بعض دیگر مواقع پر بھی ان کے رہبرِ شہید انقلاب سے روابط اور مشاورت کا ذکر ملتا ہے۔ ان روابط کی اصل اہمیت کسی مخصوص سیاسی واقعے سے زیادہ اس حقیقت میں تھی کہ آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ نے مرجعیت کے منصب کو حکومت کے قریب رہنے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی خیرخواہی اور دینی ذمہ داری ادا کرنے کا وسیلہ سمجھا۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا رہبرِ شہیدانقلاب سے تعلق نہ اندھی تائید کا تعلق تھا، نہ فاصلے اور تقابل کا؛ بلکہ ایک ایسے فقیہانہ احترام اور خیرخواہانہ مکالمے کی صورت رکھتا تھا جس میں عالم اپنی علمی و اخلاقی آزادی برقرار رکھتے ہوئے مملکت کے اہم مسائل میں اپنی رائے پیش کرسکتا ہے۔

شاید یہی شبیری زنجانی کی شخصیت کا ایک اہم امتیاز تھا

وہ نہ تو کسی سے مرعوب ہوتے اور نہ ہی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرتے تھئ

وہ علم کی زبان میں بات کرتے تھے، خیرخواہی کے لہجے میں مشورہ دیتے تھے اور جہاں کسی انسان کی اصلاح، کسی خاندان کی مشکل یا کسی اجتماعی مصلحت کا مسئلہ سامنے آتا، وہاں اپنے علمی مقام کو خاموش تماشائی بننے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔

ان کے رخصت ہوجانے سے تشیع نے صرف ایک مدرس اور مرجع نہیں کھویا؛ ایک ایسی معتبر آواز بھی خاموش ہوگئی ہے جو ضرورت کے وقت اہلِ اقتدار تک بھی اپنی بات پہنچا سکتی تھی اور اہلِ معاشرہ کے دکھ کو بھی علمی و اخلاقی وقار کے ساتھ بیان کرسکتی تھی

آج آیت اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، مگر ان کی دہائیوں پر پھیلی علمی جدوجہد، ان کا تدریسی ورثہ، ان کی تحقیقی کاوشیں، ان کا رجالی حافظہ، ان کا محتاط فقہی مزاج اور ان کی متین و باوقار شخصیت حوزۂ علمیہ اور تشیع کے علمی حافظے میں باقی رہے گی۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

علماء رخصت ہوتے ہیں، مگر علم کے چراغ نہیں مرتے

وہ ہاتھ جو برسوں کتاب کے اوراق پلٹتے رہے، آج خاموش ہوگئے؛

مگر ان ہاتھوں سے لکھی ہوئی سطریں آنے والی نسلوں سے گفتگو کرتی رہیں گی۔

وہ زبان جو برسوں فقہ و حدیث کی باریکیوں کو بیان کرتی رہی، آج خاموش ہوگئی؛

مگر اس کی علمی بازگشت درسگاہوں میں سنائی دیتی رہے گی۔

اور وہ شخصیت جو شہرت سے دور رہ کر اپنے علم کی شمع روشن کرتی رہی، آج آغوش اجل میں چلی گئی؛

مگر اس کی روشنی شاید اس کے جانے کے بعد زیادہ محسوس ہوگی۔

خداوند متعال اس عظیم فقیہ، محقق، مدرس اور مرجعِ عالی قدر کو جوارِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، ان کے شاگردوں اور علمی سلسلے کو باقی رکھے اور حوزۂ علمیہ و امتِ تشیع کو ان کے فقدان کا صبر عطا فرمائے۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی فقاہت کا وہ چراغ جو خاموشی سے روشن رہا

إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔۔

ایک فقاہت کا چراغ بجھا نہیں ہے؛

وہ اپنی روشنی کتابوں، شاگردوں، علمی روایت اور ایک خاموش مگر گہری یاد کے حوالے کر گیا ہے۔

اور شاید یہی ایک عالم کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ

وہ دنیا سے رخصت ہو، مگر اس کا علم لوگوں کو راستہ دکھاتا رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha