منگل 22 ستمبر 2026 - 12:07
ایرانی مزاحمت میں خواتین کی دفاعی، طبی اور سائبر سیکیورٹی تربیت کا آغاز

حوزه/گزشتہ 200 دنوں میں استقامت و پائیداری کا تسلسل برقرار رکھنے کے بعد تہران اور ملک بھر میں عظیم الشان ’’جان‌فدایان مارچ‘‘ شروع ہوا، جس میں 313 ہزار جان‌فدایان، بالخصوص خواتین، نے بھرپور شرکت کی۔ اس اجتماع نے ایپسٹین کلاس کی شیطانی طاقتوں کو لرزہ براندام کر دیا ہے۔

تحریر : ام ابیہا

حوزه نیوز ایجنسی | گزشتہ 200 دنوں میں استقامت و پائیداری کا تسلسل برقرار رکھنے کے بعد تہران اور ملک بھر میں عظیم الشان ’’جان‌فدایان مارچ‘‘ شروع ہوا، جس میں 313 ہزار جان‌فدایان، بالخصوص خواتین، نے بھرپور شرکت کی۔ اس اجتماع نے ایپسٹین کلاس کی شیطانی طاقتوں کو لرزہ براندام کر دیا ہے۔

یہ بات پیش نظر رہے کہ ایپسٹین کلاس کی شیطانی و مستکبر طاقتوں کے خلاف مزاحمت اور اسلام و وطن کی حفاظت کے لیے جان فدا کرنے کے خواہش مند افراد کی رجسٹریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ اس اجتماع میں بالخصوص خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت قابلِ دید ہے۔ ملک بھر میں رجسٹریشن کا سلسلہ جاری ہے اور مجموعی تعداد کئی ملین تک پہنچ گئی ہے۔ جان فدا کرنے کے لیے رجسٹر کروانے والوں میں خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔

تہران، مشہد، قم المقدس سمیت مختلف شہروں میں خواتین کو ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق مختلف تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی شہری انتظامیہ کی جانب سے ایپسٹین کلاس کی شیطانی و پست فطرت طاقتوں اور ان کے ایجنٹس کے خلاف مزاحمت کے لیے خواتین کو سائبر سیکیورٹی، طبی ہنگامی صورتحال اور دیگر مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


’’طبِ رزم‘‘ کے نام سے منعقد ہونے والی تربیتی ورکشاپس میں درج ذیل کورسز بھی شروع ہو گئے ہیں:


Basic Self-Defense Techniques
Emergency Preparedness
Incident Response and Management
Media Literacy
Cybersecurity
Critical Thinking Skills
Personal Health & Safety Awareness
Situational Awareness Training
First Aid and CPR

چونکہ پست فطرت طاقتیں عورتوں، بچوں اور ضعیف افراد کو ہی سب سے زیادہ نشانہ بناتی ہیں، اس لیے یہ پروگرامز خواتین کے لیے تعلیمی، مہارتی اور بصیرتی نقطۂ نظر کے ساتھ ترتیب دیے گئے ہیں، تاکہ مختلف حالات میں ان کی تیاری بہتر بنائی جا سکے، ضروری مہارتوں کے حوالے سے ان کی آگاہی میں اضافہ ہو اور سیکیورٹی خطرات، سائبر اسپیس، میڈیا لٹریسی وغیرہ کے بارے میں ان کی مہارت کی سطح بلند کی جا سکے۔

یوں ایرانی مزاحمت میں استقامت محض جلوس، نعرہ بازی اور رجز خوانی کا نام نہیں، بلکہ دفاعی حفاظت، ہنگامی حالات سے نمٹنے، ابتدائی طبی امداد، سائبر سیکیورٹی اور دیگر ضروری مہارتوں کی عملی تربیت بھی اس کا حصہ بن چکی ہے۔ مختلف طبقات، بالخصوص خواتین، کو ان مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے منعقد ہونے والے یہ تربیتی کورسز اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مزاحمت کو صرف ایک نعرے یا اجتماع تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی تیاری، ذمہ داری اور دفاعی شعور کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha