حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عظیم استاد اور بلند پایہ مرجع تقلید نے اپنی تقریباً ایک صدی پر محیط بابرکت زندگی تعلیم و تدریس، تحقیق، شاگردوں کی تربیت، علمی آثار اور نظریات پیش کرنے، نیز عوام اور اہل علم کی رہنمائی میں گزاری۔ ان کی علمی خدمات سے حوزہ علمیہ قم اور دیگر حوزات کو ترقی ملی اور فقہ، اصول، علم رجال، تاریخ اور اسلامی علوم میں تحقیق کو فروغ حاصل ہوا۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی کی جانب سے جاری تعزیتی پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: إِذَا مَاتَ اَلْمُؤْمِنُ اَلْفَقِیهُ ثُلِمَ فِی اَلْإِسْلاَمِ ثُلْمَةٌ لاَ یَسُدُّهَا شَیْءٌ «جب کوئی مومن فقیہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اسلام میں ایسا خلا پیدا ہوجاتا ہے جسے کوئی چیز پُر نہیں کرسکتی۔»
آیت اللہ العظمیٰ حاج سید موسیٰ شبیری زنجانی قدس سرہٗ کے انتقالِ پُر ملال پر حضرت ولی عصر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مراجع عظام تقلید دامت برکاتہم، رہبر معظم مدظلہ العالی، حوزات علمیہ اور علمائے کرام، عظیم ایرانی قوم، قم کے معزز عوام، دنیا بھر کے مسلمانوں، خاندان رسالت کے پیروکاروں، ایران اور دنیا بھر میں مرجعیت سے وابستہ افراد، تمام اعلیٰ علمی و حوزوی اداروں اور بالخصوص ان کے محترم فرزندان اور معزز خاندان کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔
مراجع عظام اور حوزات علمیہ کی اعلیٰ کونسل کی منظوری سے آج سے رواں ہفتے کے اختتام تک حوزات علمیہ کے تمام دروس تعطیل رہیں گے، تاکہ حوزہ علمیہ مرجعیت کی اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے اور تشییع جنازہ، تدفین اور مجالس فاتحہ میں شرکت کرسکے۔
اس عظیم استاد اور بلند پایہ مرجع تقلید نے اپنی تقریباً ایک صدی پر محیط بابرکت زندگی علم حاصل کرنے، تدریس، تحقیق، بے شمار شاگردوں کی تربیت، علمی آثار اور نظریات پیش کرنے اور عوام و اہل حوزہ کی رہنمائی میں گزاری۔ ان کی علمی و دینی خدمات سے حوزہ علمیہ قم اور دیگر حوزات علمیہ نے ترقی کی اور فقہ، اصول، علم رجال، تاریخ اور اسلامی علوم کے مختلف شعبوں میں تحقیق کو فروغ ملا۔
یہ عظیم فقیہ ایک بلند علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور قم کے قدیم اور باوقار حوزہ علمیہ میں علمی زندگی گزاری۔ انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی رحمۃ اللہ علیہ اور آیت اللہ محقق داماد رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگ اساتذہ سے کسب فیض کیا اور نجف اشرف کے بزرگ اساتذہ اور مراجع عظام سے بھی استفادہ کیا۔ اپنی گہری بصیرت اور مسلسل علمی جدوجہد کے ذریعے تدریس و تحقیق کے مختلف مراحل طے کیے اور اسلامی علوم کے لیے نئے علمی راستے کھولے۔
وہ علم و دین کے ایک مضبوط ستون کی حیثیت سے درس و بحث کی محفلوں، علمی نشستوں اور فقہی تحقیقات میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ فقہ کے دقیق مسائل، علمی تحقیق، نظریہ سازی اور علم رجال و تاریخ کے باریک نکات پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ ان تمام علمی میدانوں میں ایک روشن چراغ کی مانند تھے۔
مدرسہ فیضیہ اور حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں طویل عرصے تک نماز جماعت کی امامت کرتے ہوئے وہ روحانی فیض پہنچانے کے ساتھ عوام کی دینی رہنمائی اور ارشاد کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔
ایران کی عوامی جدوجہد اور حضرت امام خمینی اعلیٰ اللہ مقامہ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کے دور میں بھی وہ انقلاب اسلامی کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس کے بعد رہبر شہید رہبر آیت اللہ العظمی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت کے دور میں بھی وہ انقلاب اسلامی کے خیرخواہ، ایرانی قوم اور حوزات علمیہ کے ہمدرد اور رہنما رہے۔
طلبہ، علما، فضلا اور اسلام و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے متلاشی افراد کی علمی مدد اور رہنمائی میں ان کا کردار سب کے لیے معروف اور قابلِ تقلید تھا۔ حوزہ اور معاشرے کی علمی و اخلاقی ترقی کے لیے ان کی حمایت، باصلاحیت اور ممتاز طلبہ و فضلا کی تربیت پر ان کی خصوصی توجہ اور خصوصی حوزوی مدارس کے قیام میں ان کی خدمات قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہیں۔
ان تمام خدمات کے ساتھ ان کا اخلاق، روحانیت، پاکیزہ باطن، حسن اخلاق، زہد و سادگی، پاکیزہ زندگی اور حوزہ علمیہ کی قدیم علمی و اخلاقی روایات سے ان کی مضبوط وابستگی بھی حوزہ، یونیورسٹی، طلبہ، نوجوانوں اور اساتذہ کے لیے آج اور آنے والے کل میں مشعلِ راہ رہے گی۔
آج فقہ و اجتہاد کا یہ عظیم ستون عالم ملکوت کی جانب پرواز کرگیا اور حوزات علمیہ، اپنے شاگردوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گیا ہے۔ اب حوزات علمیہ، نوجوان طلبہ اور محترم اساتذہ کے سامنے ان کا قیمتی علمی ورثہ موجود ہے اور ہم سب کو یہ عہد کرنا ہے کہ اس فقیہ کے فقاہت اور علم کے راستے کو جاری رکھیں گے اور اسلام، مکتب اہل بیت علیہم السلام، انقلاب اسلامی اور عظیم شہدا کے راستے پر ثابت قدم رہیں گے۔
ہم ان کی روح پاک پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حوزات علمیہ اور قم، ایران اور دنیا بھر کے معزز عوام، آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے ساتھ ساتھ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان کی یاد میں منعقد ہونے والی تمام باوقار اور عظیم الشان تقریبات میں بھرپور شرکت کریں گے۔
عاش سعیداً و مات سعیداً
علی رضا اعرافی
مدیر حوزات علمیہ ایران









آپ کا تبصرہ