پیر 19 اکتوبر 2026 - 11:39
آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی کو ’’محقق ثالث‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

حوزہ/ حجۃ الاسلام محمد الٰہی منش نے آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کو ’’محقق ثالث‘‘ کہے جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گہری علمی تحقیق، فقہی نظریات کا باریک بینی سے جائزہ لینے، سابق فقہاء کی آرا پر تنقیدی نظر رکھنے اور علمی انکساری جیسی خصوصیات انہیں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے سات سال سے زیادہ عرصے تک آیت اللہ شبیری زنجانی کے درسِ خارجِ فقہ میں شرکت کے دوران ان کی علمی و اخلاقی خصوصیات کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کی علمی و اخلاقی شخصیات کی زندگی کا مطالعہ، اجتہاد کی اصل روح اور تحقیق کے اصولوں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ اسی سلسلے میں شہید بہشتی کے دیرینہ ساتھی آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کی علمی اور اخلاقی خصوصیات پر گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد الٰہی منش نے اپنے مشاہدات بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شبیری زنجانی کی نمایاں خصوصیات میں علمی انکساری شامل ہے۔ وہ مختلف سوالات کے جواب میں بارہا صاف الفاظ میں کہتے تھے کہ انہیں اس مسئلے کا علم نہیں۔ جن امور میں انہیں تردد ہوتا، وہاں بھی وہ اپنی لاعلمی یا شک کا اظہار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی کو ’’محقق ثالث‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

ان کے مطابق، آیت اللہ شبیری زنجانی تحقیق کے دوران اپنی رائے تبدیل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ وہ استفتاءات کے جوابات میں بعض اوقات اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرتے اور واضح کرتے تھے کہ تحقیق کے نتیجے میں ان کا نظریہ تبدیل ہوگیا ہے۔ کبھی درس کے دوران بھی نئی تحقیق کی بنیاد پر اپنی رائے میں تبدیلی کرلیتے تھے۔

حجۃ الاسلام الٰہی منش نے کہا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عالم کو ہر مسئلے کا جواب معلوم ہونا چاہیے اور اس کی رائے کبھی تبدیل نہیں ہونی چاہیے، لیکن آیت اللہ شبیری زنجانی کا نقطۂ نظر اس سے مختلف تھا۔ وہ علم کے ہر شعبے میں اپنی معلومات کی حدود کو تسلیم کرتے تھے۔ جب شہید ابراہیم رئیسی نے ملک کے انتظام و انصرام کے حوالے سے ان سے رہنمائی طلب کی تو انہوں نے کہا کہ انہیں ان امور میں مہارت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ شبیری زنجانی کا درس انتہائی تحقیقی ہوتا تھا اور اس سے بھرپور استفادے کے لیے پہلے سے تفصیلی مطالعہ اور علمی مباحثہ ضروری تھا۔ ان کے درس میں فقہی مسائل کے مختلف پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا تھا اور طلبہ کو معروف فقہاء کے نظریات سے آگے بڑھ کر مزید تحقیق کرنے کا موقع ملتا تھا۔

حجۃ الاسلام الٰہی منش کے مطابق، آیت اللہ شبیری زنجانی نے آیت اللہ خوئی سمیت بڑے فقہا کے متعدد نظریات پر علمی بحث کی اور دلائل کی بنیاد پر ان سے اختلاف کیا۔ وہ سابقہ فقہا کی آرا کو صرف ان کے علمی مقام کی وجہ سے حتمی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ہر مسئلے کا تحقیقی جائزہ لیتے تھے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روزے اور مسافر سے متعلق مسائل پر اپنے تحقیقی کام کے دوران کئی ماہ کی تحقیق کے بعد سات نظریات جمع کیے، جبکہ آیت اللہ شبیری زنجانی نے اپنے درس میں اسی موضوع پر 14 مختلف نظریات کا ذکر کیا تھا۔ یہ مثال ان کی وسیع تحقیق اور فقہی مسائل کے مختلف پہلوؤں پر توجہ کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محقق ثانی کے بعد آیت اللہ شبیری زنجانی کو ’’محقق ثالث‘‘ کہنا ان کی تحقیق اور علمی باریک بینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ تحقیق کے ساتھ ساتھ مسائل کے دقیق پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

حجۃ الاسلام الٰہی منش نے آیت اللہ شبیری زنجانی کی علمی و اخلاقی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت میں علمی دیانت، تنقید قبول کرنے کا حوصلہ، وسیع مطالعہ، انصاف، علمی جرأت، انکساری، عوام کی خدمت، شاگردوں کی تربیت، اساتذہ کی قدر شناسی اور مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کرنے جیسی خصوصیات نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق، آیت اللہ شبیری زنجانی کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ حقیقی علمی مقام تحقیق، دلیل، دیانت اور اپنی علمی حدود کو تسلیم کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha