جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 00:47
تاراگڑھ میں آیت اللہ شبیری زنجانیؒ، شہید سید حسن نصراللہؒ اور شہدائے مقاومت کی یاد میں مجلسِ عزا

حوزہ/ مسجد پنجتنی تاراگڑھ میں آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ، سید مقاومت شہید سید حسن نصراللہؒ اور دیگر شہدائے راہِ حق کی مناسبت سے عظیم مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس سے امام جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطاب کرتے ہوئے علم و علماء، قیادت و مرجعیت اور شہادت و مقاومت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آیت اللہ شبیری زنجانیؒ کی علمی و دینی خدمات کو حوزۂ علمیہ کا عظیم علمی ورثہ قرار دیتے ہوئے شہید سید حسن نصراللہؒ کو عصرِ حاضر میں اسلامی عزت و سربلندی کی عملی علامت قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی اور سید مقاومت شہید سید حسن نصر اللّٰہ اور شہداکی مناسبت سے ایک عظیم مجلسِ عزاء، مسجد پنجتنی تاراگڑھ میں منعقد ہوئی۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے علم و علماء اور قیادت و مرجعیت کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی نے اپنی پوری بابرکت زندگی علم و فقاہت، معارفِ اہل بیتؑ کی ترویج، تربیتِ طلاب و فضلاء اور خدمتِ دین میں بسر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ: آپ کی علمی شخصیت، تقویٰ، زہد اور اخلاقی عظمت حوزۂ علمیہ کی علمی و روحانی روایت کا ایک درخشاں باب تھی، آپ نے ایک عرصہ تک حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا قم میں امامِ جماعت کی حیثیت سے فرائض انجام دیے اور زائرین و مؤمنین کی دینی و روحانی رہنمائی فرمائی

خطیب مجلس حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ: آیت اللہ العظمیٰ سید شبیری زنجانی اعلیٰ اللہ مقامہ نے اپنی عمر مبارک فقہ و اصول، حدیث و رجال، تعلیم و تربیت اور نشرِ معارفِ قرآن و عترتؑ میں بسر کی، آپ کی علمی خدمات اور تربیت یافتہ شاگردوں کا سلسلہ حوزۂ علمیہ میں ایک دیرپا علمی میراث کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حدیث کی إِذَا مَاتَ الْعَالِمُ ثُلِمَ فِی الْإِسْلَامِ ثُلْمَةٌ لَا یَسُدُّهَا شَیْءٌ کی روشنی میں آیت اللہ العظمیٰ حاج سید موسیٰ شبیری زنجانی ـ اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف ـ کی وفات حوزہ علمیہ، عالمِ تشیع اور پوری اسلامی علمی و دینی برادری کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے سید مقاومت سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: شہید سید حسن نصر اللہ صرف ایک سیاسی یا عسکری رہنما نہیں تھے، بلکہ عصر حاضر میں اسلامی عزت و سربلندی کی عملی تصویر تھے۔ سید حسن نصراللہ نے کی شہادت کے باوجود ان کا یہ راستہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہے گا، کیونکہ یہ ایک ایسے پاکیزہ درخت کا پھل ہے جسے نہ جڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے اثرات کو مٹایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: انقلابی شخصیتوں کے اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کا شوق شہادت سے لبریز ہونا ہے اور یہ عظیم خصوصیت شہید مظلوم سید نصراللہ اعلیٰ اللہ مقامہ کے یہاں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے ، چنانچہ انھوں نے لبنان کے دار السلطنت بیروت کے ضاحیہ علاقہ میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڑے مشتاقانہ و شجاعانہ انداز میں فرمایا تھا:"انا ارید ان اموت شھیدا ولا خائنا"میں شہید بن کر مرنا چاہتا ہوں، غدار بن کر مرنا نہیں چاہتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha