جمعہ 25 ستمبر 2026 - 15:38
علم و اخلاق کے پیکر: آیت اللہ شبیری زنجانی

حوزہ/ آیت اللہ شبیری زنجانی کے آباء و اجداد کا تعلق اصل میں شہر میانہ کے ایک گاؤں تَرک سے تھا، بعد میں وہ زنجان منتقل ہوگئے۔ آقا موسیٰ شبیری زنجانی طالب علمی کے زمانے ہی سے غیر معمولی ذہانت اور علمی صلاحیت کے مالک تھے۔

تحریر: حجۃ الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری

حوزہ نیوز ایجنسی I عالمِ تشیع کے بزرگ مرجع، جلیل القدر فقیہ، علمِ رجال کے ماہر اور بلند اخلاق عالم، آیت اللہ العظمیٰ حاج سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال نے پوری دنیا کے شیعوں، بالخصوص ان کے مقلدین، شاگردوں، متعلقین اور خصوصاً حوزہ ہائے علمیہ اور تمام اہلِ علم کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس عظیم شخصیت کا فقدان اور حوزۂ علمیہ کا یہ بے نظیر علمی و معنوی سرمایہ ایک ایسا ناقابلِ تلافی خلا ہے جسے آسانی سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔

آیت اللہ شبیری زنجانی کے آباء و اجداد کا تعلق اصل میں شہر میانہ کے ایک گاؤں تَرک سے تھا، بعد میں وہ زنجان منتقل ہوگئے۔ آقا موسیٰ شبیری زنجانی طالب علمی کے زمانے ہی سے غیر معمولی ذہانت اور علمی صلاحیت کے مالک تھے۔ حوزۂ علمیہ کی ممتاز شخصیات، جیسے آیات عظام امام موسیٰ صدر، شہید بہشتی، موسوی اردبیلی، سید مہدی روحانی، احمدی میانجی اور دیگر علماء کے ساتھ ان کے علمی روابط اور نشستیں رہیں۔

آیت اللہ احمدی میانجی کی یادداشتوں میں آتا ہے:

’’کبھی کبھی میں سننے سے تھک جاتا اور بعض مطالب مجھ سے رہ جاتے۔ ایسے موقع پر فقہ و اصول میں ہمارے مرجع حاج آقا موسیٰ زنجانی تھے۔ اگر کسی مسئلے میں دشواری ہوتی تو ہم ان کی طرف رجوع کرتے اور اپنی کمی کو ان کی توضیحات کے ذریعے دور کرتے۔‘‘

امام موسیٰ صدر کے بارے میں یادیں

ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں راقم الحروف امام موسیٰ صدر کی زندگی اور ان کی سماجی و دینی سرگرمیوں کے بارے میں ’’امام موسیٰ صدر، امیدِ محرومان‘‘ کے عنوان سے تحقیق اور تدوین میں مصروف تھا۔ اسی سلسلے میں ایک روز امام موسیٰ صدر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آیت اللہ شبیری زنجانی کے بوعلی گلی میں واقع رہائش گاہ پر گیا۔

جب میں نے دروازے کی گھنٹی بجائی تو خود آیت اللہ شبیری زنجانی دروازے پر تشریف لائے اور انتہائی شفقت، متانت اور محبت کے ساتھ ایک نوآموز طالب علم کا استقبال کیا۔ میں نے آنے کا مقصد بتایا تو انہوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر فرمائی، البتہ فرمایا:

’’میں ہر روز نمازِ صبح کے بعد حرم سے گھر تک پیدل آتا ہوں۔ اس دوران میرے پاس وقت ہوتا ہے۔ آپ کے جو بھی سوالات ہوں، پہلے سے تیار کرکے لے آیا کریں، میں راستے میں ان کے جواب دے دوں گا۔‘‘

میں نے ان کی یہ پیش کش قبول کرلی۔ اس کے بعد چند دن تک صبح کے وقت حرم سے گھر تک ان کے ہمراہ چلتا رہا، ان کی گفتگو سنتا اور اسے ذہن میں محفوظ کرتا۔ پھر گھر پہنچ کر تمام باتوں کو کاغذ پر منتقل کر لیتا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنا ٹیلی فون نمبر بھی دے دیا اور فرمایا کہ اگر مزید کسی وضاحت یا معلومات کی ضرورت ہو تو رات دس بجے کے بعد فون کر سکتا ہوں۔

بعد میں معلوم ہوا کہ آیت اللہ شبیری زنجانی اور امام موسیٰ صدر نے ایک ہی دن، یعنی 11 ذیقعدہ 1362ھ، یومِ ولادتِ باسعادت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر، آیت اللہ سید صدرالدین صدر، یعنی امام موسیٰ صدر کے والد، کے گھر میں لباسِ روحانیت زیب تن کیا تھا۔

آقا موسیٰ زنجانی کو آیت اللہ سید صدرالدین صدر نے عمامہ پہنایا، جبکہ امام موسیٰ صدر کو آیت اللہ سید احمد شبیری زنجانی، یعنی آیت اللہ شبیری زنجانی کے والد، نے عمامہ پہنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تقریب میں حاج آقا روح اللہ خمینی بھی بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے۔

علمی مقام سے بڑھ کر اخلاقی عظمت

آیت اللہ شبیری زنجانی کی علمی شخصیت، ان کی گراں قدر تصانیف، ان کے تربیتی مکتب اور ان کے شاگردوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ شاید راقم الحروف اس حق کو پوری طرح ادا کرنے کی صلاحیت بھی نہ رکھتا ہو۔ بہتر یہی ہے کہ اس موضوع پر اہلِ فن اور ان کے علمی مقام سے بخوبی واقف افراد تفصیل سے گفتگو کریں۔

اس مختصر تحریر میں میری توجہ ان کے اخلاقی سلوک، اعتدال پسندانہ روش، وسیع ظرفی، متانت اور قابلِ تحسین تواضع کی طرف ہے؛ وہ اوصاف جو انسان کو ان کی شخصیت کا گرویدہ بنا دیتے تھے۔

جوتے جوڑنے والا ایک فقیہ

مرجعیت کے ابتدائی دنوں میں جب ان کا دفتر آیت اللہ سید صدرالدین صدر کے بیتِ شریف میں قائم تھا، ایک روز میں وہاں گیا اور صحن سے گزر کر سیڑھیوں سے اوپر پہنچا۔ اس جگہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ مرحوم آیت اللہ آقا رضا صدر کی خدمت میں حاضر ہو چکا تھا۔

میں نے دیکھا کہ آیت اللہ شبیری زنجانی ایک کمرے میں تنہا تشریف فرما ہیں۔ سلام، احوال پرسی اور ابتدائی گفتگو کے بعد میں نے حوزۂ علمیہ مشہد کے ممتاز استادِ فلسفہ آقا شیخ سیف اللہ عیسیٰ میانجی کے بارے میں کچھ سوالات کیے۔ کچھ دیر تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔

غروب کا وقت قریب تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کے لیے حرم تشریف لے جاتے ہیں، اس لیے مزید زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا۔ میں نے اجازت چاہی۔

وہ انتہائی متواضع مرجع میرے ساتھ کمرے سے باہر تک تشریف لائے۔ جب ہم سیڑھیوں کے قریب پہنچے تو اچانک وہ آگے بڑھے، جھکے اور میرے جوتے اٹھا کر انہیں جوڑ دیا۔

میرے ماتھے پر شرمندگی کے پسینے کے قطرے نمودار ہوگئے۔ میں نے الوداع کہا اور وہاں سے نکل آیا۔

یہ پورا منظر شاید صرف ایک دو سیکنڈ کا تھا، لیکن تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کا اثر آج بھی میرے دل و دماغ پر قائم ہے۔ یہ واقعہ میرے لیے سیکڑوں گھنٹوں کی وعظ، تقریر اور نصیحت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

آج بھی جب میرے گھر کوئی مہمان آتا ہے اور میں اسے رخصت کرنے کے لیے دروازے تک جاتا ہوں تو وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ پھر میں اپنے مہمان کے جوتے جوڑنے کو اپنا فرض سمجھتا ہوں، خواہ وہ کوئی بڑا شخص ہو یا ایک چھوٹا سا بچہ۔

وسیع ظرفی اور خاموشی

چند برس قبل بعض افراد اور بعض تندرو حلقوں کی جانب سے اس محترم اور محبوب مرجع کی شان میں نامناسب باتیں کہی گئیں اور سخت و ناگوار الفاظ استعمال کیے گئے۔ لیکن آیت اللہ شبیری زنجانی نے خواجہ نصیرالدین طوسی کے اُس واقعے کی طرح، جس میں انہوں نے ایک جاہل شخص کے ساتھ وسیع ظرفی کا مظاہرہ کیا تھا، تحمل، بردباری اور خاموشی کو اختیار کیا۔

انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ بھی ایک شفیق اور خیرخواہ باپ کا رویہ اپنایا۔ بلکہ اپنے قریبی لوگوں، متعلقین اور خطباء کو بھی تاکید فرمائی کہ اس معاملے میں کچھ نہ کہیں اور کوئی موقف اختیار نہ کریں۔

آج ہم حوزۂ علمیہ سے وابستہ لوگوں کے لیے جس قیمتی گوہر کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ یہی خواجہ نصیرالدین طوسی جیسی وسیع ظرفی اور اخلاقی روش ہے۔ ہمارے زمانے میں آیت اللہ شبیری زنجانی اسی اخلاقی سلوک کے نمایاں علم بردار تھے۔

ضرورت ہے کہ ان کے اس اخلاقی مکتب، ان کی متانت، تواضع، بردباری اور وسیع ظرفی کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی علم کے ساتھ ساتھ اخلاق اور انسانیت کی اس بلند روایت سے فیض حاصل کرسکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha