منگل 22 ستمبر 2026 - 13:18
آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی؛ علمی سفر سے غروبِ آفتاب تک

حوزہ/بعض شخصیات صرف اپنے عہد کی نمائندہ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک پوری علمی روایت کی امین بن جاتی ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی معاصر حوزۂ علمیہ کی ایسی ہی ممتاز شخصیت تھے، جن کی طویل علمی زندگی فقہ و اصول، حدیث و رجال، تدریس و تربیت، تحقیق اور خدمتِ دین کے ایک مسلسل سفر سے عبارت رہی۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| بعض شخصیات صرف اپنے عہد کی نمائندہ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک پوری علمی روایت کی امین بن جاتی ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی معاصر حوزۂ علمیہ کی ایسی ہی ممتاز شخصیت تھے، جن کی طویل علمی زندگی فقہ و اصول، حدیث و رجال، تدریس و تربیت، تحقیق اور خدمتِ دین کے ایک مسلسل سفر سے عبارت رہی۔

ان کی شخصیت میں فقہی دقت، حدیثی و رجالی تحقیق، حوزوی تربیت، علمی تواضع اور دینی ذمہ داری کا حسین امتزاج نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ سے حاصل ہونے والی علمی میراث کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ تدریس، تحقیق اور تربیت کے ذریعہ اگلی نسل تک منتقل کیا۔

افق علم پر طلوع آفتاب

آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ 8 رمضان المبارک 1346ھ کو قم مقدسہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بزرگوار آیۃ اللہ سید احمد زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جلیل القدر عالمِ دین اور اہلِ علم میں ممتاز شخصیت تھے۔

ان کی پرورش ایک ایسے دینی و علمی ماحول میں ہوئی جہاں علم، عبادت، تقویٰ اور حوزوی زندگی روزمرہ کا حصہ تھے۔ اسی ماحول نے کم عمری ہی سے ان کے اندر علومِ دینیہ سے گہری وابستگی پیدا کی، جو آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا بنیادی محور بن گئی۔

تعلیم اور اساتذہ

حوزوی تعلیم کے ابتدائی مراحل مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فقہ و اصول کے اعلیٰ دروس میں شرکت کی اور اپنے زمانے کے متعدد بزرگ علماء سے استفادہ کیا۔ ان کے نمایاں اساتذہ میں آیۃ اللہ سید صدرالدین صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ سید محمد حجت کوہ‌کمرہ‌ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ سید محمد تقی خوانساری رضوان اللہ تعالیٰ اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

ان کی علمی شخصیت کی تشکیل میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد محقق داماد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شاگردی کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ وہ طویل عرصہ تک ان کے درسِ فقہ و اصول سے وابستہ رہے۔ اس طویل علمی رفاقت نے ان کے فقہی ذوق کو گہرائی، استدلال اور تحقیق کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ محقق داماد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے درس میں فقہی اقوال کے تتبع، روایات کے جائزے، اصولی مبانی اور مختلف احتمالات پر غور کرنے کا جو تحقیقی منہج رائج تھا، اس کے اثرات بعد میں آیۃ اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے اپنے درس اور علمی تحقیقات میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

قم سے نجف اشرف تک

قم کے علمی ماحول سے گہرا استفادہ کرنے کے بعد انہوں نے نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ سے بھی براہِ راست فیض حاصل کیا۔ انہوں نے نجف میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور استاد الفقہاء و المجتہدین آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے بزرگ فقہاء کے دروس میں شرکت کی۔

قم اور نجف دونوں کی علمی روایتوں سے استفادہ نے ان کے علمی مزاج میں وسعت پیدا کی۔ فقہ و اصول کے ساتھ حدیث، رجال اور تاریخی مصادر کے مطالعہ نے ان کی تحقیق کو ایک جامع رنگ عطا کیا۔

تدریس؛ علمی خدمت کا بنیادی میدان

تعلیم کے بعد ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ تدریس میں گزرا۔ انہوں نے حوزۂ علمیہ قم میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور بالخصوص درسِ خارجِ فقہ و اصول کے ذریعہ علماء اور طلاب کی علمی تربیت کی۔

مدرسۂ حقانی میں 1380 ہجری (1961عیسوی) میں انہوں نے تدریسی خدمات انجام دیں اور بعد میں قم میں ان کا درسِ خارج ایک مستقل علمی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا۔ انہوں نے فقہ کے مختلف ابواب پر تفصیلی بحث کی اور طلبہ کو محض فقہی نتائج تک پہنچانے کے بجائے استنباط کے طریقۂ کار سے آشنا کرنے پر توجہ دی۔

ان کے درس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ کسی مسئلہ کو صرف معروف قول کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ اس کے مختلف علمی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا۔ فقہاء کے اقوال، روایات، اسانید، رجال، اصولی قواعد اور تاریخی قرائن کو سامنے رکھ کر مسئلہ کی مختلف جہتوں پر غور کیا جاتا۔

یوں ان کا درس صرف مسائلِ فقہ کی تعلیم نہیں تھا، بلکہ تحقیق، استدلال اور اجتہادی طرزِ فکر کی تربیت بھی تھا۔

فقہ، اصول، حدیث اور رجال کا جامع منہج

آیۃ اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی شخصیت فقہ و اصول تک محدود نہیں تھی۔ حدیث اور علمِ رجال سے ان کی گہری وابستگی ان کے فقہی منہج کا اہم حصہ تھی۔

وہ کسی روایت کے متن کے ساتھ اس کی سند، راویوں، تاریخی پس منظر اور دیگر قرائن کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فقہی تحقیقات میں حدیث شناسی، رجال اور تاریخی تتبع کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔

ان کے علمی منہج میں فقہ ایک الگ تھلگ علم نہیں تھا، بلکہ قرآن، حدیث، اصول، رجال اور فقہی میراث کے باہمی ربط سے تشکیل پانے والی ایک جامع علمی روایت تھی۔

علمِ رجال میں نمایاں خدمات

علمِ رجال ان کی علمی شخصیت کا ایک ممتاز پہلو تھا۔ رجالِ نجاشی کی تحقیقی تصحیح ان کے اس میدان میں اہم علمی کارناموں میں شمار ہوتی ہے۔

انہوں نے اس کتاب کے متن کی تحقیق اور تصحیح کے لئے متعدد قدیم نسخوں سے استفادہ کیا اور مختلف رجالی و حدیثی مصادر سے تقابل کیا۔ اس کام سے ان کی تحقیقی دقت، مصادر تک رسائی اور قدیم علمی متون کے ساتھ گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان کا یہ کام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ان کے نزدیک فقہی استنباط کے لئے صرف فقہی کتابوں کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ حدیثی مصادر، راویوں کی شناخت، اسانید اور رجال کی تحقیق بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

تصنیف و تحقیق

آیۃ اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی آثار فقہ، اصول، رجال، حدیث اور دیگر تحقیقی موضوعات پر محیط ہیں۔ تحریر الجواہر اور تحریر فتاویٰ الجواہر کے علاوہ حج، خمس، نکاح، صوم، بیع اور دیگر فقہی ابواب سے متعلق ان کی تحقیقات اور دروس بھی علمی حلقوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی طرح ان کے علمی و تحقیقی مباحث، یادداشتوں اور مختلف موضوعات پر گفتگو کو "جرعہ‌ای از دریا" کے عنوان سے مرتب کیا گیا، جس میں فقہی، حدیثی، رجالی، تاریخی، اخلاقی اور حوزوی مباحث کے متعدد پہلو محفوظ ہیں۔

یہ آثار ان کی علمی زندگی کی وسعت اور مختلف علوم کے باہمی ربط کے ان کے منہج کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمازِ جماعت اور محراب سے وابستگی

گہری علمی مصروفیات کے ساتھ عبادت اور نمازِ جماعت بھی ان کی زندگی کا اہم حصہ رہی۔ انہوں نے کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک اور مدرسۂ فیضیہ میں نمازِ جماعت کی امامت کی۔

یہ پہلو ان کی شخصیت کے اس جامع تصور کو نمایاں کرتا ہے جس میں درس گاہ اور محراب ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ ایک طرف فقہ و اصول کے دقیق مباحث، دوسری طرف محراب میں عبادت اور مؤمنین کی جماعت کی امامت؛ دونوں ان کی حوزوی زندگی کے مختلف مگر مربوط پہلو تھے۔

شخصیت؛ علم کے ساتھ تقویٰ اور تواضع

آیۃ اللہ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت کا امتیاز صرف ان کے علمی مقام تک محدود نہیں تھا۔ سادگی، تواضع، علمی احتیاط، متانت اور اخلاقی وقار بھی ان کے نمایاں اوصاف میں شمار ہوتے تھے۔

ان کے علمی مزاج میں دلیل اور تحقیق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ اختلافِ رائے کو علمی بحث کا فطری حصہ سمجھتے ہوئے مسئلہ کے دلائل اور مبانی کا جائزہ لینا ان کے تحقیقی طریقہ کا حصہ تھا۔

مرجعیت کے بلند مقام کے باوجود ان کی زندگی میں حوزوی سادگی اور علمی تواضع نمایاں رہی۔ ان کی شخصیت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ حقیقی فقاہت صرف احکام کے استنباط کا نام نہیں، بلکہ علم کو تقویٰ، اخلاق اور دینی ذمہ داری کے ساتھ برتنے کا نام بھی ہے۔

مرجعیت اور دینی رہنمائی

وہ مرجعِ تقلید کی حیثیت سے اہلِ ایمان کی دینی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کی مرجعیت میں علمی تحقیق، فقہی احتیاط اور حوزوی علمی روایت سے گہری وابستگی نمایاں تھی۔

ان کے لئے مرجعیت محض ایک علمی عنوان نہیں بلکہ دینی مسائل میں رہنمائی، شرعی ذمہ داری اور مؤمنین کی خدمت کا ایک سنگین منصب تھا۔ ان کا فقہی کام اسی علمی ذمہ داری کے تسلسل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ فقہِ امامیہ میں احتیاطِ واجب ایک اہم فقہی اصطلاح ہے۔ مرجعِ اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نزدیک، جہاں کسی مسئلہ میں احتیاطِ واجب یا احتیاطِ لازم اختیار کیا گیا ہو، وہاں مقلد کے لئے یا تو اس احتیاط پر عمل کرنا لازم ہے، یا "الأعلم فالأعلم" کی رعایت کرتے ہوئے دوسرے مجتہد کے فتویٰ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اسی سلسلہ میں "الأعلم فالأعلم" کے مصادیق کے بارے میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے دفتر سے رہنمائی طلب کئے جانے پر، آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف رجوع کی رہنمائی دی گئی۔

غروب آفتاب

9 ربیع الثانی 1448 ہجری مطابق 21 ستمبر 2026 کو یہ آفتاب علم و فقاہت قم میں غروب ہو گیا۔ ان کی رحلت سے حوزۂ علمیہ قم اور عالمِ تشیع ایک ایسے بزرگ فقیہ اور محقق سے محروم ہوگیا جس نے اپنی طویل زندگی علم، تحقیق، تدریس، تربیت اور خدمتِ دین میں گزاری۔

ان کی وفات ایک عظیم علمی شخصیت کی ظاہری حیات کا اختتام ہے، لیکن ان کی علمی میراث کا نہیں۔ ان کے دروس، تحقیقات، تصانیف، علمی شاگرد اور تحقیقی آثار آنے والی نسلوں کے لئے ان کی علمی جدوجہد کی یادگار رہیں گے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی کو اگر چند بنیادی خصوصیات میں سمیٹا جائے تو علم میں گہرائی، تحقیق میں دقت، فقاہت میں احتیاط، روایت میں تتبع، تدریس میں تسلسل، کردار میں سادگی اور خدمت میں خاموشی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے اپنے اساتذہ سے حاصل ہونے والی علمی امانت کو محفوظ رکھا، اسے تحقیق اور تدریس کے ذریعے آگے بڑھایا اور حوزۂ علمیہ کی ایک پوری نسل کی علمی تربیت میں حصہ لیا۔

وہ رخصت ہوگئے، مگر علم کی وہ شمع جسے انہوں نے اپنے اساتذہ سے حاصل کیا، درس و تحقیق کے ذریعہ روشن رکھا اور شاگردوں و علمی آثار کے ذریعہ آگے منتقل کیا، آئندہ نسلوں کے لئے ایک قیمتی امانت باقی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ فقیہِ اہلِ بیت علیہم السلام، مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو جوارِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردان، حوزاتِ علمیہ اور تمام محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو صبر و اجر عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha