حوزہ نیوز ایجنسی | حوزہ علمیہ قم کے جلیل القدر فقیہ، مرجع عالیقدر، عالم ربانی اور فقیہ اہل بیت علیہم السلام حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی قدس سره کے ارتحال کی المناک خبر نہایت رنج و الم کے ساتھ موصول ہوئی۔
حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی نے اپنی بابرکت حیات کا ایک طویل عرصہ علوم محمد و آل محمد علیہم السلام کی تعلیم، تدریس، تحقیق، تربیت طلاب اور خدمت مکتب اہل بیت علیہم السلام میں صرف فرمایا۔ الله تعالی نے انہیں ایک طویل اور بابرکت عمر عطا فرمائی، جس کا بیشتر حصہ علم و تقوی، فقاہت اور خدمت دین میں گزرا۔
آپ کے والد بزرگوار مرحوم آیت الله سید احمد زنجانی کی طرح آپ بھی حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله علیہا میں نماز جماعت کی امامت سے وابستہ رہے۔ مجھے بھی دوران تحصیل علوم دینیہ در حوزہ علمیہ قم المقدسہ، شبستان حضرت امام خمینی در حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله علیہا میں نماز مغربین باامامت حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی میں شرکت کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ یہ لمحات آج بھی میری یادوں میں ایک روحانی اور ناقابل فراموش یاد کے طور پر محفوظ ہیں۔
اس عظیم فقیہ سے متعلق ایک ذاتی یاد بھی میرے لیے ہمیشہ باعث مسرت و افتخار رہے گی۔
میرے جد امجد، مرحوم علامہ سید محمد نظام الدین رضوی، گاہے بگاہے زیارت کی غرض سے قم المقدسہ اور مشہد مقدس تشریف لے جاتے تھے۔ قیام قم کے دوران وہ حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی کی اقتدا میں نماز جماعت میں بھی شرکت فرماتے تھے۔
ایک مرتبہ انہوں نے نماز کے دوران محسوس کیا کہ حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی تشہد و سلام کے وقت اپنی بائیں ٹانگ کو قدرے بلند رکھتے اور زانو کو اوپر کی جانب رکھتے ہوئے قدرے دشواری کے ساتھ بیٹھتے اور اٹھتے ہیں۔ حرم مطہر سے واپسی پر میرے جد امجد نے مجھ سے اس کیفیت کا ذکر فرمایا اور کہا کہ مجھے بھی گھٹنوں میں درد کی شکایت ہے، ممکن ہے حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی کو بھی اسی نوعیت کا درد لاحق ہو۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ایک مخصوص دوا کے استعمال سے انہیں کافی افاقہ ہوا ہے؛ اگر حضرت آیت الله سے ملاقات کا موقع مل سکے تو یہ بات ان کے سامنے رکھی جائے، شاید یہ دوا ان کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔
چنانچہ بعد ازاں حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی سے ملاقات کا موقع میسر آیا۔ ان کے معالج سے مشورے کے بعد اس سلسلے میں بات آگے بڑھی۔ ملاقات نہایت محبت، صمیمیت اور تواضع کے ماحول میں ہوئی۔ بعد ازاں جب مذکورہ دوا حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی کے لیے مفید ثابت ہوئی تو دفتر معظم لہ سے وقتا فوقتا رابطہ ہوتا رہا اور میرے جد امجد وہ دوا ان کی خدمت میں بھجواتے رہے۔
حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی اس عنایت اور خیرخواہی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے تبرکا تربت پاک سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام بھی میرے جد امجد کے لیے بطور ہدیہ ارسال فرمائی، جو اس تعلق محبت اور خلوص کی ایک نہایت خوبصورت یاد ہے۔
یہ مختصر سا واقعہ میرے لیے محض ایک ذاتی یاد نہیں بلکہ دو بزرگوں کے درمیان علم، محبت، احترام اور خدمت مومنین کے ایک خوبصورت رشتے کی یادگار ہے۔ آج جب حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی قدس سره ہمارے درمیان نہیں رہے تو یہ یاد مزید گہری اور دل کو چھو لینے والی محسوس ہوتی ہے۔
یہ یادداشت مرحوم علامہ سید محمد نظام الدین رضوی کے نواسے، سید محمد طاها رضوی کی ذاتی یادوں اور مشاہدات پر مبنی ہے۔
الله تعالی حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی قدس سره کی خدمات علمی و دینی کو شرف قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں ان کے پاکیزہ اسلاف، علماء و صلحاء اور محمد و آل محمد علیہم السلام کے جوار رحمت میں محشور فرمائے۔
خداوند متعال میرے جد امجد مرحوم علامہ سید محمد نظام الدین رضوی اور حضرت آیت الله العظمی سید موسی شبیری زنجانی قدس سره دونوں بزرگواروں کو شفاعت محمد و آل محمد علیہم السلام، بالخصوص شفاعت حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نصیب فرمائے۔
الله تعالی پسماندگان، متعلقین، شاگردان، ارادتمندان اور بالخصوص حوزات علمیہ کے تمام اہل علم و فضلاء کو صبر جمیل و اجر جزیل عطا فرمائے اور اس عظیم علمی خلا کو اپنی رحمت سے پر فرمائے۔
الفاتحۃ مع الصلوات بر محمد و آل محمد علیہم السلام
سید محمد طاها رضوی
نواسہ مرحوم علامہ سید محمد نظام الدین رضوی سانکو کرگل لداخ (ہندوستان)









آپ کا تبصرہ