حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ شیعہ دینیات کے ڈائرکٹر حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی نے مرجعِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی قدس سرہ کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے علمائے کرام، حوزات علمیہ، شاگردوں، عقیدت مندوں اور مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت پیش کی ہے۔
مولانا اصغر اعجاز قائمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی قدس سرہ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رحلت صرف ایک بزرگ عالم اور فقیہ کی وفات نہیں بلکہ عالمِ تشیع اور علمی و حوزوی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مرحوم کی علمی گہرائی، تقویٰ، پرہیزگاری، تواضع اور حسنِ اخلاق کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا علمی و معنوی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔
انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے لیے رحمت و مغفرت اور بلندیِ درجات، جبکہ ان کے اہل خانہ، شاگردوں، عقیدت مندوں اور تمام سوگواروں کے لیے صبر و اجر کی دعا کی ہے۔
ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی کا مکمل تعزیتی پیغام درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون
رضا بقضائه وتسلیما لامرہ
مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے عظیم عالم، فقیہ، محقق اور حوزات علمیہ کے ممتاز استاد، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی قدس سرہ کے انتقال کی خبر سے حوزات علمیہ، علمائے کرام، شاگردوں اور آپ کے عقیدت مندوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
آپ کی رحلت صرف ایک بزرگ عالم اور فقیہ کا انتقال نہیں بلکہ عالمِ تشیع اور علمی و حوزوی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام، مکتبِ اہل بیت علیہم السلام، علمی تحقیق، فقہ و اصول کی تدریس اور شاگردوں کی تربیت میں گزار دی۔ آپ کی یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی قدس سرہ گہرے علمی مقام کے ساتھ ساتھ تقویٰ، پرہیزگاری، سادگی، تواضع، وقار اور اچھے اخلاق کے لیے بھی معروف تھے۔ حوزہ علمیہ قم میں آپ کی طویل علمی زندگی بہت سے علما اور فضلا کی علمی تربیت کا ذریعہ بنی۔ آپ نے فقہ و اصول کے میدان میں اپنی گہری تحقیق اور دقیق علمی نظر سے حوزہ علمیہ اور دینی علوم کے طالب علموں کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔
آپ کی شخصیت میں علم اور تقویٰ کا خوبصورت امتزاج نظر آتا تھا۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ علم اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ اخلاص اور تقویٰ بھی ہو۔ آپ کی علمی اور اخلاقی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال رہے گی۔
آج جبکہ عالمِ اسلام اور بالخصوص مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو ایسے علما اور فقہا کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، آپ کی رحلت کا صدمہ مزید گہرا محسوس ہوتا ہے۔ حوزہ علمیہ قم اور علمی حلقوں میں آپ کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی، تاہم آپ کی علمی خدمات، شاگرد اور آپ کی چھوڑی ہوئی علمی میراث ہمیشہ باقی رہے گی۔
میں حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مراجع عظام تقلید، علمائے کرام، حوزات علمیہ کے اساتذہ و فضلا، آپ کے شاگردوں اور عقیدت مندوں، تمام مومنین اور بالخصوص آپ کے محترم خاندان اور پسماندگان کی خدمت میں اس عظیم سانحے پر دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔
بارگاہِ خداوند متعال میں دعا ہے کہ محمد و آل محمد علیہم السلام کے صدقے اس عظیم عالم کی روح کو اپنی وسیع رحمت و مغفرت سے نوازے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے نیک بندوں، صالح علما اور راہِ حق کے شہدا کے ساتھ محشور فرمائے۔ خداوند متعال انہیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے جوار میں جگہ عطا فرمائے۔
خداوند متعال ان کے غمزدہ خاندان اور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے، ان کے دلوں کو سکون دے اور اس بڑے غم کو ان کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ حوزات علمیہ کو ایسے علمائے دین اور فقہائے اہل بیت علیہم السلام کے فیض سے ہمیشہ مالا مال رکھے اور آنے والی نسلوں کو ان کے علمی و اخلاقی راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رَحِمَ اللهُ الفَقیدَ السعیدَ رَحمَةً واسعةً، وَحَشَرَهُ اللهُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَیِّبینَ الطّاهرین
اَللّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ وَاحْشُرْهُ مَعَ أَوْلِیائِکَ الصّالِحینَ۔
والسلام علیکم و رحمةالله و برکاته









آپ کا تبصرہ