حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ سنی دینیات میں ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام مقالہ خوانی کی ایک علمی و تحقیقی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شعبے کے ریسرچ اسکالرز نے مختلف علمی موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے۔
نشست کا مقصد طلبہ میں تحقیقی ذوق کو فروغ دینا، علمی مباحثے کی روایت کو مستحکم کرنا اور تحقیق و تنقید کے صحت مند ماحول کو پروان چڑھانا تھا۔
نشست میں شعبے کی ریسرچ اسکالر شاہین پروین نے ’’فیمینزم اوراسلام کا تصورِ نسواں‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام عورت کے حقوق، عزت و وقار اور معاشرتی تحفظ کا حقیقی محافظ ہے۔ اسلام نے عورت کو ایک باوقار انسانی حیثیت عطا کی اور اسے تعلیم، وراثت، نکاح میں رضامندی، معاشی ملکیت اور دیگر بنیادی حقوق سے نوازا۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں خواتین کی آزادی اور حقوق کے نام پر مختلف نعرے بلند کیے جاتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں بہت سی خواتین اپنے جائز حقوق سے محروم رہتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کے حقوق کو محض نعروں اور نظری مباحث تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی عملی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام کے تصورِ نسواں کا مطالعہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا جانا چاہیے، تاکہ عورت کے مقام و مرتبے اور اس کے حقوق و فرائض کو متوازن انداز میں سمجھا جا سکے۔
دوسرے مقالہ نگار سید احمد نے ’’اعجازِ قرآن‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید متعدد اعتبار سے معجزہ ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اسلوبِ بیان، معنوی گہرائی اور انسان کی فکری و اخلاقی رہنمائی اس کے اعجاز کے نمایاں پہلو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کا ادبی و لسانی اعجاز عربی زبان و ادب کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اس کی تاثیر نے مخالفین کو بھی غور و فکر پر مجبور کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے عتبہ بن ربیعہ کا واقعہ بیان کیا، جس نے رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی مخالفت کے باوجود قرآن مجید کی آیات سن کر ان کے غیر معمولی اسلوب اور اثر آفرینی کا اعتراف کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن مجید کا مطالعہ محض تلاوت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے پیغام، معانی اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو سمجھنے کی بھی کوشش کی جانی چاہیے۔

نشست کی صدارت کرتے ہوئے شعبے کے استاد ڈاکٹر ندیم اشرف نے ریسرچ اسکالرز سے خطاب کیا اور مقالہ نویسی کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ایک معیاری تحقیقی مقالے کے لیے موزوں موضوع کا انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ موضوع ایسا ہونا چاہیے جو علمی اعتبار سے اہم، تحقیقی لحاظ سے قابلِ عمل اور دستیاب علمی و بنیادی مآخذ کی روشنی میں قابلِ مطالعہ ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محقق کو اپنے موضوع کے انتخاب سے لے کر مواد کی جمع و ترتیب، تجزیے اور نتائج اخذ کرنے تک ہر مرحلے میں علمی دیانت، غیر جانب داری اور تحقیقی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر ندیم اشرف نے ریسرچ اسکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سوالات، تنقید اور اختلافِ رائے کو اپنی علمی تنقیص نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انہیں اپنی تحقیق کو بہتر بنانے کا ایک اہم ذریعہ تصور کرنا چاہیے۔ تحقیق کے میدان میں تنقید نہ صرف محمود ہے، بلکہ علمی ارتقا اور فکری پختگی کے لیے ناگزیر بھی ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد اصلاح، استدلال اور حقیقت کی تلاش ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایک اچھا محقق وہی ہے جو اپنے مؤقف کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ دوسروں کی آرا کو بھی سننے اور ان سے سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ایسی علمی نشستیں ریسرچ اسکالرز میں خود اعتمادی، تنقیدی شعور، اظہارِ خیال کی صلاحیت اور تحقیقی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شعبے کے ایک اور استاد ڈاکٹر محمد ناصر نے ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن کو اس علمی و تحقیقی پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مقالہ خوانی اور علمی مباحثے کی نشستیں طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مستقبل کے مؤثر محققین بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جاتے رہیں گے، تاکہ شعبے میں علمی سرگرمیوں کو مزید فروغ حاصل ہو۔
پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن کے کنوینر زاہد علی نے انجام دی۔ نشست کا آغاز محمد انس کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ گلفشاں نصیر نے بارگاہِ رسالت مآب صلی الله علیہ وآلہ وسلّم میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
آخر میں محمد نوشاد نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔واضح ہو کہ شعبہ کے صدر پروفیسر محمد راشد کی سرپرستی اور نگرانی میں یہ پروگرام منعقد ہوا۔
نشست علمی ماحول، سنجیدہ مباحثے اور تحقیقی موضوعات پر مفید تبادلۂ خیال کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔










آپ کا تبصرہ