حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل ہسٹری کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد پالی ٹیکنک آڈیٹوریم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہوا۔

پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ علوم و فنون کے ارتقا میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا اہم کردار ہے۔ یہاں کے فضلا نے ملک کی آزادی سے قبل اور اس کے بعد بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے علی گڑھ کے بہت سے فیض یافتگان کا نام بہ نام تذکرہ کیا۔
نیشنل ہسٹری کانفرنس کا انعقاد ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے زیر اہتمام کیا گیا ہے۔
اس افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی سابق پروفیسر شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور پروفیسر سید عزیز الدین حسین سابق چیئرمین شعبۂ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ چاہے جتنی کوشش کرلی جائے، تاریخ کو کبھی مٹایا نہیں جاسکتا۔
عزیز الدین صاحب نے کہا کہ ملک کی لائبریریوں میں ہزاروں مخطوطات ہیں جن کے اب تک کیٹلاگ بھی تیار نہیں ہوسکے ہیں۔
کانفرنس میں جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
انہوں نے سائنس اور ٹکنالوجی کے مختلف میدانوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی خدمات کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ تعمیرات، آب پاشی، باغ بانی، انجینیئرنگ اور دیگر میدانوں میں ہندوستانی نے جو کام کیے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔
افتتاحی اجلاس کی ابتدا میں انجینیئر نسیم احمد خاں کنوینر کانفرنس نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔
انہوں نے ادارۂ تحقیق کی علمی سرگرمیوں کا تعارف کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ ادارہ عصری اہمیت کے حامل اہم موضوعات پر سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسیں کرتا ہے۔
یہ کانفرنس بھی وقت کے ایک اہم موضوع پر منعقد ہورہی ہے۔
صدرِ ادارہ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار کو ختم یا محدود کرنے کی جو کوشش ہورہی ہے وہ حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔ مسلمانوں نے ملک کی اجتماعی زندگی تشکیل دی۔ ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

پروگرام کے کنوینر مولانا اشہد جمال ندوی تھے۔
مختصر وقفے کے بعد پہلا اکیڈمک سیشن پالی ٹیکنک آڈیٹوریم ہی میں ہوا۔ اس میں پروفیسر کنور یوسف امین، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی، ڈاکٹر شاداب موسیٰ، ڈاکٹر وارث مظہری، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی ، پروفیسر عبد العظیم اصلاحی، ڈاکٹر محمد خالد حسن اور پروفیسر احمد طارق جمیل نے مقالات پیش کیے۔









آپ کا تبصرہ