ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 18:53
برکس اجلاس اور ایرانی صدر کا دورۂ ہندوستان،ایران اور ہندوستان کے دیرینہ تعلقات کا ایک اہم سفارتی مرحلہ

حوزه/ نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ہندوستان کا دورہ ایک اہم سفارتی واقعہ ہے۔ اس دورے کو صرف ایک رسمی ملاقات یا بین الاقوامی اجلاس میں شرکت تک محدود کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے پیچھے ایران اور ہندوستان کے درمیان موجود تاریخی، تہذیبی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات کی ایک طویل روایت بھی ہے اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے نئے تقاضے بھی۔

تحریر:سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزه نیوز ایجنسی!

نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ہندوستان کا دورہ ایک اہم سفارتی واقعہ ہے۔ اس دورے کو صرف ایک رسمی ملاقات یا بین الاقوامی اجلاس میں شرکت تک محدود کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے پیچھے ایران اور ہندوستان کے درمیان موجود تاریخی، تہذیبی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات کی ایک طویل روایت بھی ہے اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے نئے تقاضے بھی۔

ایران برکس کا ایک اہم رکن ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، توانائی کے وسائل، خلیج اور وسطی ایشیا کے درمیان اس کا محل وقوع اور خطے میں اس کا سیاسی اثر اسے برکس کے لیے خاص اہمیت دیتے ہیں۔ ایران کی موجودگی برکس کو صرف ایک معاشی فورم نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور عالمی جنوب کے درمیان ایک زیادہ وسیع رابطے کا پلیٹ فارم بناتی ہے۔ ایران کے پاس توانائی، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے ایسی صلاحیتیں ہیں جن سے برکس کے رکن ممالک مستقبل میں زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ہندوستان کے لیے بھی ایران ایک اہم ملک ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کسی وقتی سیاسی ضرورت کی پیداوار نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی اور تہذیبی روابط رکھتے ہیں۔ ہندوستان اور ایران کے درمیان زبان، ادب، تجارت، ثقافت اور عوامی روابط کے قدیم رشتے رہے ہیں۔ فارسی زبان نے ہندوستان کی تہذیبی اور ادبی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان یہ مشترکہ ورثہ ایک مضبوط رشتے کی حیثیت رکھتا ہے۔

موجودہ دور میں ان تعلقات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور ایران خطے میں ہندوستان کے لیے ایک اہم جغرافیائی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ خصوصاً چابہار بندرگاہ ہندوستان کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہندوستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک ایک متبادل تجارتی راستہ حاصل ہوتا ہے۔ اس منصوبے میں صرف تجارت نہیں بلکہ مستقبل کے علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات پوشیدہ ہیں۔

ایران اور ہندوستان کے تعلقات کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ باہمی احترام اور اپنے اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلقات آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ایران کی اپنی ایک جگہ ہے، جبکہ ایران بھی ہندوستان کو ایک اہم، قابلِ اعتماد اور بااثر ایشیائی ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اختلافات اور عالمی دباؤ کے باوجود باہمی تعلقات کو اہمیت حاصل ہے۔

پزشکیان کا دورہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں دنیا تیزی سے ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ برکس اس تبدیلی کا ایک نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اب دنیا کی سیاست صرف چند بڑی مغربی طاقتوں کے گرد نہیں گھومتی۔ ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک عالمی فیصلوں میں اپنا کردار بڑھانا چاہتے ہیں۔ ایران کا برکس میں شامل ہونا اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کا ایک اہم حصہ ہے۔

ایران کے لیے ہندوستان کے ساتھ مضبوط تعلقات اس نئے عالمی ماحول میں مزید اہمیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان ایران کے لیے ایک بڑی منڈی، ایک اہم اقتصادی شراکت دار اور وسطی و جنوبی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم دروازہ ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے لیے ایران توانائی، تجارت، علاقائی رابطوں اور وسطی ایشیا تک رسائی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ یوں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے کئی مقامات پر جڑتے ہیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ تجارت، توانائی، بندرگاہ، ٹرانزٹ، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت کئی میدانوں میں تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ اگر دونوں ممالک موجودہ امکانات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کریں تو آنے والے برسوں میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔

پزشکیان کا ہندوستان کا دورہ اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ دورہ اس بات کا اظہار ہے کہ ایران ہندوستان کو اہمیت دیتا ہے اور ہندوستان بھی ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ برکس کا پلیٹ فارم دونوں ملکوں کو دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ وسیع تر علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات محض حکومتوں کے درمیان تعلقات نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب، تجارت اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج جب دنیا نئے سیاسی اور معاشی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسے میں ایران کی برکس میں موجودگی اور ہندوستان کے ساتھ اس کے مضبوط روابط دونوں کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ اگر باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کو آگے بڑھایا جائے تو ہندوستان اور ایران نہ صرف اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں بلکہ ایشیا کے ایک زیادہ مربوط، پُرامن اور باہمی تعاون پر مبنی مستقبل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha