حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے ہندوستان میں منعقدہ برکس کے اقتصادی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برکس کے رکن ممالک کے درمیان موجودگی ایران کے لیے باعثِ اطمینان اور باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سیاسی دباؤ کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مختلف ممالک کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ برکس ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرسکتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ برکس کی حقیقی طاقت صرف اس کے رکن ممالک کی بڑی اقتصادی طاقت میں نہیں بلکہ اس وقت ظاہر ہوگی جب ان صلاحیتوں کو باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے ایک مضبوط نظام میں تبدیل کیا جائے۔ یعنی ممکنہ تعاون کو عملی تعاون میں بدلنا ہوگا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران کا ماننا ہے کہ اقتصادی مضبوطی کے لیے تجارتی شراکت داروں، مالی ذرائع اور ادائیگی کے راستوں میں تنوع پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سخت پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باعث یہ دباؤ مزید سنگین اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے علاوہ ایک اہم حقیقت ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ اقتصادی سلامتی کو قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی ملک کی تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے یا مالی نظام کو سیاسی اور فوجی دباؤ کا سامنا ہو تو اس کے اثرات اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برکس کو اپنے رکن ممالک اور عالمی جنوب کی معیشتوں کو ایسے مضبوط نظام فراہم کرنے چاہئیں جن کے ذریعے کوئی ملک کسی مالی یا تکنیکی ذریعے پر اپنی اجارہ داری قائم کرکے دوسرے ممالک کی جائز تجارت میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔
پزشکیان نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے الگ الگ تعاون کے بجائے تجارتی نظام کے مختلف حصوں کو بتدریج ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تجارت کے طریقہ کار کو برقی نظام سے جوڑنا، کسٹم کے طریقہ کار کو ایک دوسرے کے قریب لانا، تجارت کو آسان بنانا، انتظامی اور قانونی رکاوٹوں کو کم کرنا، نئی منڈیوں کو فروغ دینا اور نجی شعبے کی مشترکہ سرمایہ کاری کو آسان بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برکس ممالک کے درمیان مختلف شعبوں کے مشترکہ معیار طے کرنے پر بھی زیادہ توجہ دی جانی چاہیے، تاکہ برکس صرف خام مال کی خرید و فروخت کی منڈی نہ رہے بلکہ مشترکہ صنعتی پیداوار اور مضبوط معاشی سلسلوں کا مرکز بن سکے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ غذائی اور توانائی کی سلامتی، اقتصادی سلامتی کے دو اہم ستون ہیں۔ ایران کے پاس توانائی کے وسیع ذخائر اور جغرافیائی اعتبار سے ایران کی موقعیت بہت اہم ہے، اس لیے وہ برکس کے اندر توانائی، غذا اور نقل و حمل کے شعبوں میں اہم اور طویل مدتی شراکت دار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے برکس ممالک کے درمیان تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس کے ساتھ کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات بھی کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی مالی نظام چند محدود کرنسیوں پر زیادہ انحصار کی وجہ سے سیاسی بحرانوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ تجارتی تعاون کو حقیقی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے برکس کے نئے ترقیاتی بینک کو رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے لیے خصوصی قرض، مقامی کرنسی میں مالی تعاون اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ضمانتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
10 ارب ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے مشترکہ بیمہ کمپنی کی تجویز
ایرانی صدر نے برکس کے لیے ایک مشترکہ بیمہ کمپنی قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس کے لیے 10 ارب ڈالر کا ابتدائی سرمایہ مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کے ذریعے بڑے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں سے وابستہ خطرات کا بیمہ کیا جاسکے گا اور اس سے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ عالمی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ برکس کو صرف جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا گروہ نہیں بننا چاہیے بلکہ علم اور ٹیکنالوجی کی تیاری اور ڈیجیٹل معیشت کے معیار طے کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اہم بنیادی ڈھانچے کو سائبر حملوں سے محفوظ بنانے پر بھی توجہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ برکس کی کاروباری کونسل کو صرف باہمی گفتگو کا فورم نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے مختلف شعبوں کے لیے ایسے واضح اہداف مقرر کیے جائیں جن کی کارکردگی کو جانچا جاسکے، جیسے برکس ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ، مقامی کرنسیوں میں ہونے والی تجارت کا حصہ اور نجی سرمایہ کاری کا حجم۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے اہم جغرافیائی محل وقوع اور توانائی کے وسیع وسائل کی وجہ سے برکس کے اقتصادی رابطے میں ایک اہم کڑی بن سکتا ہے۔ برکس اس وقت عالمی معیشت میں حقیقی طاقت بنے گا جب اس کا تعاون صرف اجلاسوں اور بات چیت تک محدود نہ رہے بلکہ تجارتی معاہدوں، کارخانوں، بندرگاہوں اور رکن ممالک کے عوام کی اقتصادی زندگی میں بھی نمایاں نظر آئے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ایران برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر زیادہ کھلی، مضبوط اور منصفانہ عالمی معیشت کی تشکیل کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔









آپ کا تبصرہ