حوزہ نیوز ایجنسی | آبنائے ہرمز کا بحران اور جنگ ایران و امریکہ عالمی توانائی کے نظام کی کمزوریوں کو جانچنے کے لیے ایک حقیقی آزمائش تھی۔ اس بحران نے ظاہر کیا کہ صرف ایک بحری گزرگاہ بھی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے حالات میں توانائی کی محفوظ فراہمی برقرار رکھنے کی عالمی نظام کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بتدریج ’’تیل کی معیشت‘‘ کے تصور سے نکل کر ’’امنیتِ توانائی پر مبنی معیشت‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں توانائی کے وسائل اور ان کی ترسیل کے راستوں کا تزویراتی تحفظ، حکومتوں کے اقتصادی فیصلوں کا ناگزیر حصہ بن گیا ہے۔
ترجیحات میں تبدیلی؛ مارکیٹ کی کارکردگی سے رسد کے تحفظ تک
گزشتہ دہائیوں میں حکومتوں کی توجہ توانائی کی لاگت کم کرنے اور مارکیٹ کی کارکردگی بڑھانے پر مرکوز رہی لیکن اب سب سے اہم ترجیح توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے، چاہے اس کے لیے زیادہ اخراجات ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔
اسی بنیاد پر ممالک توانائی کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنانے، تزویراتی ذخائر مضبوط کرنے اور متبادل پائپ لائنوں اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حساس بحری گزرگاہوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔
جغرافیہ کا فیصلہ کن کردار دوبارہ نمایاں
اس بحران نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ جغرافیہ اب بھی عالمی معیشت کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ بحری راستے اب محض نقل و حمل کے ذرائع نہیں رہے بلکہ تزویراتی اثر و رسوخ کے وسائل بن چکے ہیں اور ان پر کنٹرول توانائی کی قیمتوں، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری و پیداوار کے فیصلوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
توانائی کے نئے نظام کے فاتح اور متاثرین
اس جائزے کے مطابق وہ ممالک جو اضافی پیداواری صلاحیت یا توانائی کی برآمد کے متبادل راستے رکھتے ہیں، ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی طرح لاجسٹکس، توانائی اور رسد کے تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں سرگرم کمپنیاں بھی بنیادی ڈھانچے اور اس کے تحفظ میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے مستفید ہوں گی۔
اس کے برعکس توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو افراطِ زر کے دباؤ، پیداواری اخراجات میں اضافے اور مسابقتی صلاحیت میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ توانائی پر زیادہ انحصار رکھنے والی صنعتیں اور عالمی سپلائی چینز بھی نقل و حمل اور بیمہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے متاثر ہوں گی۔
کیا عالمی اقتصادی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں بڑی طاقتوں کو داخلی توانائی کے وسائل میں سرمایہ کاری بڑھانے، توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون وسیع کرنے اور قابلِ تجدید توانائی و ہائیڈروجن کے منصوبوں کو تیز کرنے کی جانب لے جائیں گی؛ ایسا عمل جو عالمی سطح پر اقتصادی اور توانائی کے اثر و رسوخ کی ازسرِنو تقسیم کا باعث بن سکتا ہے۔

عالمی توانائی کی منڈی کے سامنے تین ممکنہ منظرنامے
پہلا منظرنامہ؛ استحکام کی واپسی
اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آ جاتی ہے تو منڈیاں بتدریج توازن کی جانب واپس آ جائیں گی، تاہم تزویراتی ذخائر کو مضبوط بنانے اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کا عمل جاری رہے گا۔
دوسرا منظرنامہ؛ کشیدگی کا تسلسل
اگر خطہ بدستور جغرافیائی سیاسی دباؤ کا شکار رہا تو تیل کی منڈی مسلسل اتار چڑھاؤ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بحری نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ، صنعتی معیشتوں میں توانائی کی لاگت بڑھنا، عالمی افراطِ زر میں شدت، اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی اور متبادل راستوں و ذرائع کی تلاش میں تیزی اہم ترین نتائج میں شامل ہوں گے۔
تیسرا منظرنامہ؛ عالمی توانائی کے نقشے کی ازسرِنو تشکیل
ماہرین کے مطابق اس بحران کا سب سے دیرپا اثر عالمی توانائی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے عمل میں تیزی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ بڑی طاقتیں جغرافیائی گزرگاہوں پر انحصار کم کرنے کے لیے توانائی کی فراہمی کے ذرائع اور اس کی ترسیل کے راستوں کو ازسرِنو ترتیب دیں گی۔
توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ، تیل و گیس کی ترسیل کے راستوں میں تنوع اور صاف توانائی میں سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ دنیا کے اہم ترین توانائی کے ذریعے کے طور پر تیل کا کردار برقرار رہنا عالمی منڈی کی اہم خصوصیات میں شامل ہوگا۔
امنیتِ توانائی کے نئے دور کا آغاز
رپورٹ کے اختتام پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ ایران و امریکہ اور اہم بحری گزرگاہوں میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والے بحرانوں نے توانائی کے تحفظ کے تصور کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں ممالک کے لیے توانائی کے مستقل اور محفوظ بہاؤ کو یقینی بنانے کی صلاحیت، توانائی کے وسائل سے مالا مال ہونے جتنی ہی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔









آپ کا تبصرہ