جمعرات 19 مارچ 2026 - 02:16
عرب سرزمین: اور عالمی طاقتوں کی کمین گاہ

حوزہ/ تاریخِ عالم کا مطالعہ ہمیں بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ بعض خطے محض جغرافیائی حدود نہیں ہوتے بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل کے میدان بن جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش جاری ہے۔ یہاں کے تیل کے ذخائر، اسٹریٹجک محلِ وقوع اور مذہبی و تہذیبی مرکزیت نے اسے عالمی سیاست کی آنکھ کا تارا بھی بنایا اور سازشوں کا مرکز بھی۔

تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخِ عالم کا مطالعہ ہمیں بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ بعض خطے محض جغرافیائی حدود نہیں ہوتے بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل کے میدان بن جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش جاری ہے۔ یہاں کے تیل کے ذخائر، اسٹریٹجک محلِ وقوع اور مذہبی و تہذیبی مرکزیت نے اسے عالمی سیاست کی آنکھ کا تارا بھی بنایا اور سازشوں کا مرکز بھی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس خطے کے اکثر حکمرانوں نے اپنی سرزمین کو امت کے اتحاد اور خودمختاری کا گہوارہ بنانے کے بجائے عالمی طاقتوں کی کمین گاہ بنا دیا۔ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی سیاسی قوت کو استعمال ہونے دینا اس خطے کی ایک تلخ روایت بن گئی ہے۔

اسی پس منظر میں ایران اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ (1980–1988) کو دیکھا جائے تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ یہ جنگ بظاہر دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تھی، مگر درحقیقت اس کے پس پردہ پورا عالمی اور علاقائی نظام کارفرما تھا۔ عرب دنیا کے کئی ممالک اس جنگ کو محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایران کے انقلاب کے پھیلاؤ کے خلاف ایک دفاعی جنگ سمجھتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے عراق کو عرب دنیا کی دفاعی دیوار قرار دے کر اس کی ہر ممکن مدد کی۔

یہ مدد صرف بیانات اور سیاسی حمایت تک محدود نہیں تھی بلکہ مالی، عسکری اور عملی سہولتوں کی صورت میں بھی تھی۔ سعودی عرب، کویت، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، مصر اور مراکش جیسے ممالک مختلف انداز میں عراق کے ساتھ کھڑے تھے۔ کسی نے مالی امداد فراہم کی، کسی نے اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ دیا، کسی نے بندرگاہیں اور ہوائی اڈے فراہم کیے اور کسی نے سفارتی سطح پر عراق کے مؤقف کی حمایت کی۔

کویت اس پورے نظام میں ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ عراق کو پہنچنے والی بہت سی فوجی اور تجارتی سپلائی کویت کی بندرگاہوں کے ذریعے آتی تھی۔ اسلحہ اور جنگی سامان پہلے کویت کے گوداموں تک پہنچتا اور پھر ٹرکوں کے ذریعے بصرہ کی سرحدی گزرگاہوں سے عراق منتقل کیا جاتا۔ کویت شہر سے صفوان اور بصرہ تک جانے والی ایک اہم شاہراہ اس رسد کا مرکزی راستہ تھی۔

1991 کی خلیجی جنگ کے دوران جب عراقی افواج کویت سے واپس لوٹ رہی تھیں تو اسی سڑک پر اتحادی افواج کے حملوں نے تباہی کا ایسا منظر پیدا کیا کہ دنیا نے اسے “موت کی شاہراہ” کے نام سے یاد کرنا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے غیر رسمی طور پر اسے صدام حسین کے احترام میں “صدام شاہراہ” بھی کہا جاتا تھا۔

سعودی عرب نے بھی اس جنگ میں عراق کی غیر معمولی مدد کی۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر جنگ کا فریق نہیں بنا، مگر عملی طور پر اس نے عراق کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ مالی امداد، سیاسی حمایت اور دفاعی تعاون کے علاوہ بعض مواقع پر اس نے اپنے فضائی اڈے بھی عراق کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر فراہم کیے۔

جب ایران کی فضائیہ عراقی ہوائی اڈوں کو نشانہ بناتی تو عراقی طیارے سعودی فضائی حدود کے قریب منتقل ہو جاتے۔ سعودی عرب کے شمالی فضائی اڈے اس پورے عرصے میں ایک طرح کے حفاظتی حصار کی حیثیت رکھتے تھے۔ اگرچہ ان سہولتوں کا کھلے عام اعلان نہیں کیا جاتا تھا مگر عملی طور پر یہ تعاون جاری تھا۔

اسی دوران سعودی عرب نے اپنے علاقے میں ایسے نگرانی کرنے والے طیارے بھی تعینات کیے جو خلیج کے اوپر فضائی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے۔ یہ طیارے ایرانی فضائی سرگرمیوں کی معلومات جمع کرتے اور بعض اوقات یہ معلومات عراق تک بھی پہنچائی جاتی تھیں۔ اس طرح سعودی فضائی نگرانی بالواسطہ طور پر عراق کی جنگی حکمت عملی کو تقویت دیتی رہی۔

مالی امداد کے اعتبار سے بھی سعودی عرب عراق کے سب سے بڑے مددگاروں میں شامل تھا۔ اندازوں کے مطابق اس نے عراق کو پچیس سے تیس ارب ڈالر تک کی مالی مدد فراہم کی۔ اس سرمایہ سے عراق نے دنیا کے مختلف ممالک سے اسلحہ خریدا اور اپنی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھا۔

اسی طرح خلیجی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش بھی کی تاکہ ایران کی تیل آمدنی محدود ہو جائے۔ یہ ایک معاشی حکمت عملی تھی جس کے ذریعے ایران کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔

جنگ کے آخری مرحلے میں جب خلیج میں تیل بردار جہاز نشانہ بننے لگے تو خلیجی ریاستوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے۔ سعودی فضائیہ نے خلیج میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت شروع کی اور بعض مواقع پر ایرانی طیاروں کو مار بھی گرایا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی جنگ کے دوران خلیجی عرب ریاستوں نے عراق کی مدد کو منظم کرنے کے لیے ایک مشترکہ سیاسی و اقتصادی اتحاد قائم کیا۔ اسی پس منظر میں خلیج تعاون کونسل وجود میں آئی۔ اس اتحاد میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان شامل تھے۔

اس اتحاد کے ذریعے عراق کو منظم مالی اور عملی مدد فراہم کی گئی۔ اندازوں کے مطابق خلیجی ممالک نے عراق کو چالیس سے ساٹھ ارب ڈالر تک امداد اور قرضے دیے۔ اس رقم سے عراق نے مختلف ممالک سے اسلحہ خریدا اور اپنی جنگی طاقت کو برقرار رکھا۔

خلیجی ممالک نے عراق کے لیے نہ صرف مالی وسائل فراہم کیے بلکہ سامان پہنچانے کے لیے بندرگاہیں، بینکاری نظام، بیمہ اور تجارتی سہولتیں بھی مہیا کیں۔ بعض ریاستوں نے عراق کے لیے تیل کی برآمد کے متبادل راستے بھی فراہم کیے تاکہ جنگ کے باوجود اس کی معیشت چلتی رہے۔

یہ تمام اقدامات اس خوف کا نتیجہ تھے جو عرب حکمرانوں کے دلوں میں ایرانی انقلاب کے پھیلاؤ کے بارے میں پیدا ہو چکا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ اگر ایران مضبوط ہو گیا تو اس کا اثر پورے خطے میں پھیل جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے عراق کو عرب دنیا کی دفاعی دیوار کے طور پر استعمال کیا۔

آج جب ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو تاریخ کا یہ منظر ایک بار پھر دہراتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آج بھی کئی عرب ممالک اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کر کے عالمی طاقتوں کو وہی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جو ماضی میں دی جاتی رہی ہیں۔

یہ ممالک ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو عملی سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف جب ان اڈوں کو ممکنہ جنگی اہداف بنایا جاتا ہے تو واویلا بھی کرتے ہیں۔ گویا تاریخ کا وہی پرانا منظر ایک نئے پردے کے ساتھ دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔

یہ حقیقت ہمیں اس تلخ سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر کب تک اس خطے کی سرزمین دوسروں کی جنگوں کی کمین گاہ بنی رہے گی، اور کب اس کے حکمران اپنی زمین کو بیرونی طاقتوں کے مفادات کے بجائے اپنی قوموں کی آزادی اور خودمختاری کے لیے استعمال کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha