تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام صدر امام بارگاہ جونپور
حوزہ نیوز ایجنسی I
میری آواز سنو!
پکارتا ہے بیت المقدس!!! کب تک امتِ مسلمہ کے بہرے کان اسکی آواز نہ سنیں گے۔
خمینی رح،خامنہ ای رح، فلسطینی شہیدوں، کی روحیں آواز دے رہی ہیں اس سال بھی مسجد اقصی قید میں ہی ہے؟
افسوس بیت المقدس کی فضائیں ہر روز خاص کر یوم القدس جمعۃ الوداع کو پھر اداس ہیں، مسجدِ اقصیٰ کے در و دیوار سے اس پر قربان ہو نے والے شہداء کی رونے کی صدا، آواز دے رہی ہے۔اور جواب نہ پاکر امتِ مسلمہ کی بے حسی پر نوحہ گری کر رہی ہیں۔
ایسی عظیم اور مقدس جگہ جہاں انبیاء کی امامت میں نمازیں ادا ہوئیں، جہاں سے سفرِ معراج کا آغاز ہوا، آج وہ سنسان مقدس زمین اپنوں کی راہ تک رہی ہے۔ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی والی امت، جو ایٹمی طاقتوں اور وسائل سے مالا مال ہے، اپنے قبلہ اول کی پکار پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے؟
خوابِ غفلت اور مصلحتوں کی زنجیریں کب ٹوٹیں گی
سعودی عرب ہو یا ترکی، مصر ہو یا پاکستان، عراق ہو یا افغانستان—یہ سب اسلامی دنیا کے وہ طاقتور ستون ہیں جن کی طرف مظلوم فلسطینی آنکھیں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔
لیکن اللہ ہی کو سب سے بڑا ماننے والے طاقتور مسلم ممالک، بزدل ڈرپوک سود خور صیہونیوں کے سامنے کیوں سر بسجدہ ہیں؟
افسوس! آج مصلحتوں، غیر شرعی و غیر عقلی، معاشی مفادات، اور باہمی انتشار نے انکے ان مضبوط ہاتھوں کو باندھ دیا ہے جو زنجیریں توڑنے کے لیے بنے تھے۔
اس سلسلہ میں صرف ایک ملک ہر طرح سے اپنی جان توڑ کوشش کر رہا ہے اور بے شمار قربانیاں دے رہا ہےاور انشاء اللہ دیتا رہیگا
لیکن کیا بیت المقدس صرف اسی ایک ملک والوں کیلئے حرم ہےاور دوسرے ملکوں کے کلمہ گویوں کیلئے اس پہلے قبلہ اور حرم الہی کی آزادی حرمت و تقدس بچانے کیلئے اٹھنا لازم و واجب نہیں ہے؟
جبکہ سب مسلمان جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک فرقے یا قوم کا نہیں، بلکہ اسلام و قرآن اور پوری ملتِ اسلامیہ کے وجود کا ہے۔ جب تک ہم جغرافیائی اور مسلکی سرحدوں میں قید رہیں گے، بیت المقدس کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی۔شعر
یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
اب نہیں تو کب؟
اگر آج جبکہ مقاومتی مزاحمتی گروہ کا ہیرو ملک اس محاذ پر ڈٹا ہوا ہے اور قبلہ اول کو بے حرمتی سے بچانے میں لگا ہوا ہے دنیا اسکے عزم ہمت جذبہ قربانی کو سلام کر رہی ہے کیا اب بھی ہم ایک پلیٹ فارم پر نہیں آئینگے تو پھر وہ کون سا سانحہ ہوگا جو ہمیں بیدار کرے گا؟
کیا ہم صرف قراردادوں اور مذمتی بیانات سے تاریخ کا رخ موڑ سکیں گے؟ ہرگز نہیں! تاریخ گواہ ہے کہ آزادی بھیک میں نہیں ملتی، بلکہ یہ لہو اور اتحاد سے چھینی جاتی ہے۔
غیرت اسلامی آج پھر پکار رہی ہے کہ اے مسلم نوجوانو! اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔شعر
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یاد رکھیں اس مسجد اقصی کی آزادی کیلئے عالمِ اسلام کا ایک ہونا ہی واحد راستہ
وقت آگیا ہے کہ تمام اسلامی ممالک اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک "متحدہ اسلامی بلاک" تشکیل دیں۔ جب تک مکہ، مدینہ، تہران، انقرہ، اسلام آباد اور قاہرہ کی آواز ایک نہیں ہوگی، تب تک غاصب اسرائیل ہمارے مقدسات سے کھیلتا رہے گا۔
بیت المقدس کی آزادی محض ایک خواب نہیں، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس عظیم فتح کی داستان میں ہمارا نام بھی شامل ہوگا یا ہم صرف تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بن کر کھڑے ہوں گے؟
سنیں!!کان لگا کے غور سے سنیں!!
مسجدِ اقصیٰ کی خاموشی ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اب مصلحتوں کا کفن پھاڑ کر نکلنے کا وقت ہے۔ ایران ہو یا کوئی اور ملک، جو بھی اس راہ میں قدم اٹھائے، پوری امت کو اس کا بازو بننا چاہیے۔ کیونکہ جب حق اٹھتا ہے تو باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔شعر
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
والسلام علی من اتبع الہدی









آپ کا تبصرہ