حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ سکردو نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کی شہادت پر ہم سب گہرے رنج و غم میں مبتلا ہیں۔ اسی وجہ سے اس سال عیدالفطر انتہائی سادگی سے منائی جائے گی۔ میری اپیل ہے کہ عید کے روز اپنے دسترخوان پر رہبرِ معظم کی تصویر رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہمیں اپنے محبوب رہبر سے کس قدر محبت اور عقیدت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے بارے میں تحقیق کے بعد فطرانہ کی مقدار 450 روپے فی نفر مقرر کی جاتی ہے، جبکہ چاول زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں 800 روپے فی نفر ادا کیا جائے۔
آقا سید باقر الحسینی نے مزید کہا کہ رہبرِ عزیز کی شہادت کے روز جو واقعات پیش آئے، وقت کی کمی کے باعث ان تمام حقائق کو اس وقت بیان کرنا ممکن نہیں۔ آج خمینیِ بت شکن کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جا رہا ہے تاکہ مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور امریکہ و اسرائیل سے اظہارِ بیزاری کیا جائے۔ نماز جمعہ کے بعد یادگار چوک تک القدس ریلی نکالی جائے گی، جس میں عوام سے بھرپور شرکت کی درخواست ہے۔
امام جمعہ سکردو نے کہا کہ او آئی سی آج تک فلسطین کے مسئلے کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایران کے معاملے پر بھی او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی قابلِ مذمت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف واضح مؤقف اپنایا جاتا، لیکن افسوس اس کے برعکس اقدامات دیکھنے میں آئے۔
انہوں نے کہا کہ یکم مارچ کو رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے بعد بعض جذباتی نوجوانوں کی جانب سے مختلف اداروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات پیش آئے، جس پر افسوس ہے۔ اس کے بعد ہونے والی شہادتوں پر بھی گہرا دکھ اور افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ انجمن امامیہ نے حکومت کے سامنے جو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، اس پر تقریباً 70 فیصد عملدرآمد ہو چکا ہے، تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔ یہ کامیابی عوام کے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، لہٰذا آپ ہمیشہ متحد رہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہوا۔ ہمیں افواج کی بعض پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن فوجیوں سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں۔
آقا سید باقر الحسینی نے کہا کہ حالیہ واقعات کے دوران اگر کسی کے پاس کوئی ہتھیار، موبائل فون یا لیپ ٹاپ آیا ہے تو وہ خاموشی کے ساتھ مرکز میں جمع کرا دیں۔ آپ کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا، لیکن اگر یہ چیزیں واپس نہ کی گئیں اور ویڈیوز میں شناخت ہو گئی تو پھر ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں شامل معزز ججز سے امید ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے۔ اگر چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا تو بھرپور اور پرامن احتجاج ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے، جسے ہم استعمال کریں گے۔
آخر میں ایران، لبنان، حماس اور دیگر ممالک کے مجاہدین کی فتح و کامرانی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔









آپ کا تبصرہ