منگل 21 جولائی 2026 - 07:46
اگر جنگ آخری حد تک پہنچ جائے!

حوزہ/جنگوں کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اصل معرکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ کون اپنی معیشت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، مواصلات اور قومی حوصلے کو زیادہ دیر تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے آج دنیا میں ایران کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے میزائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر اس کی بجلی، تیل، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی تنصیبات بڑے پیمانے پر نشانہ بنائی جائیں تو کیا وہ اپنی مزاحمت جاری رکھ سکے گا؟

تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

جنگوں کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اصل معرکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ کون اپنی معیشت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، مواصلات اور قومی حوصلے کو زیادہ دیر تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے آج دنیا میں ایران کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے میزائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر اس کی بجلی، تیل، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی تنصیبات بڑے پیمانے پر نشانہ بنائی جائیں تو کیا وہ اپنی مزاحمت جاری رکھ سکے گا؟

فرض کیجیے کہ کسی مرحلے پر ایران کے بجلی گھر، ریفائنریز، پل، شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور مواصلاتی مراکز مسلسل حملوں کی زد میں آ جائیں۔ ایسی صورتِ حال یقیناً کسی بھی ملک کے لیے نہایت کٹھن ہوگی، کیونکہ جدید ریاستوں کی طاقت صرف فوج سے نہیں، بلکہ ان کے بنیادی ڈھانچے سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس دباؤ کی وجہ سے ایران ہتھیار ڈال دے گا یا اپنی پالیسیوں سے دستبردار ہو جائے گا؟

ایران کی حکمتِ عملی کو دیکھنے والے اکثر یہ رائے دیتے ہیں کہ تہران کئی برسوں سے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے امکانات کو سامنے رکھ کر اپنی دفاعی اور معاشی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے۔

اسی تناظر میں بعض حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ حالیہ عرصے میں چین کے تعاون سے ایران نے متعدد حساس اداروں، ہسپتالوں، تعلیمی مراکز، صنعتی یونٹس اور دیگر اہم تنصیبات کو متبادل توانائی کے نظام، خصوصاً سولر توانائی، سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، تاکہ مرکزی بجلی کے نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔

تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے انہیں قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جنگی حالات میں متبادل توانائی اور بکھرے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت دنیا بھر میں تسلیم شدہ حقیقت ہے۔

دوسری طرف آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی تیل بردار تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس کی جغرافیائی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر کبھی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ایران اپنے قومی وجود اور ریاستی بقا کو براہِ راست خطرے میں محسوس کرے تو بہت سے عسکری اور تزویراتی ماہرین کے مطابق وہ آبنائے ہرمز اور خطے کے توانائی کے نظام کو اپنے دفاعی دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں جنگ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

تیل اور گیس کی رسد متاثر ہوگی، بحری تجارت میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوں گی، توانائی کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں، افراطِ زر نئی بلندیاں چھو سکتا ہے اور عالمی معیشت ایک گہرے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اگر تصادم مزید پھیلتا ہے تو خلیج کے دیگر ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ خطے میں موجود تیل و گیس کے ذخائر، ریفائنریز، برآمدی ٹرمینلز، ساحلی صنعتی مراکز، پانی صاف کرنے کے بڑے پلانٹس بجلی گھر اور دیگر اہم اقتصادی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں صرف تیل کی منڈی ہی نہیں، بلکہ خلیجی ممالک کی پانی، بجلی اور بنیادی شہری ضروریات بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

چونکہ ان ممالک کا بڑا انحصار سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس پر ہے، اس لیے ان تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان کروڑوں انسانوں کے لیے پانی کے سنگین بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

یوں اس جنگ کی آگ صرف فوجی محاذوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے شعلے عالمی معیشت، توانائی، تجارت اور انسانی زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ خلیج کے ممالک اس پورے منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی سرزمین یا وہاں موجود غیر ملکی فوجی تنصیبات کسی بڑے تصادم کا حصہ بنتی ہیں تو خطہ مزید پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ علاقائی ریاستوں کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی ہر ممکن کوشش کریں، کیونکہ ایک وسیع جنگ کی قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

اگر توانائی کی تنصیبات، تیل کی ترسیل اور خلیجی راستے شدید متاثر ہوتے ہیں تو عالمی معیشت صرف وقتی سست روی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ توانائی کی قیمتوں، رسد کے بحران، مہنگائی اور مالیاتی بے یقینی کی ایسی لہر پیدا ہو سکتی ہے جس کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر ملک تک پہنچیں گے۔

البتہ ایک بنیادی حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یہ پورا منظرنامہ امکانات پر مبنی ہے، نہ کہ طے شدہ واقعات پر۔ جنگ میں فیصلے صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی قیادت، سفارت کاری، بین الاقوامی دباؤ، داخلی استحکام اور غیر متوقع حالات سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ لازماً ایسا ہوگا یا ویسا ہوگا، درست طرزِ تجزیہ نہیں۔

فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر کبھی یہ تصادم اپنے انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کے نتائج صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پوری دنیا اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی اثرات محسوس کرے گی۔ اسی لیے طاقت کے مظاہرے سے کہیں زیادہ ضرورت عقل، تدبر اور سفارتی حکمت کی ہے، کیونکہ ایک بڑی جنگ میں آخرکار کوئی بھی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔

  • فقہ جعفریہ میں فقہ الاعلام (میڈیا کی فقہ): ایک تحقیقی جائزہ

    فقہ جعفریہ میں فقہ الاعلام (میڈیا کی فقہ): ایک تحقیقی جائزہ

    حوزہ/عصرِ حاضر میں میڈیا نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ فقہ جعفریہ، بحیثیت ایک جامع دینی نظام، میڈیا سے متعلق اصولی اور عملی احکام فراہم کرنے…

  • مالک اشتر رضی اللہ عنہ

    مالک اشتر رضی اللہ عنہ

    حوزہ/مالک بن حارث نخعی، المعروف مالک اشتر رضی اللہ عنہ، حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی، نہایت باوفا رفیق، بے مثال سپہ…

  • انسانیت کا قاتل!

    انسانیت کا قاتل!

    حوزہ/آج اگر دنیا کے نقشے پر بہنے والے خون، راکھ بنتے شہروں، اجڑتی بستیوں، یتیم بچوں، بے آسرا ماؤں اور کروڑوں انسانوں کی آہوں کا محاسبہ کیا جائے تو ایک…

  • خطابت کا معیار!

    خطابت کا معیار!

    حوزہ/ خطابت صرف بولنے کا نام نہیں، دلوں کو جگانے کا فن ہے۔ خطیب کی عظمت اس کی آواز کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے کہ اس کے الفاظ کتنی گہرائی…

  • شب بیداری یا شبِ غفلت؟

    شب بیداری یا شبِ غفلت؟

    حوزہ/کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، ایک مکتب ہے۔ اور مکتب میں صرف رونا نہیں سکھایا جاتا، سوچنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے امت کو آنسوؤں کی…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha