تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
امام جعفر صادق علیہ السلام کی زبانِ اقدس سے زائرِ امام حسین علیہ السلام کے حق میں ادا ہونے والی یہ دعا صرف چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ محبت، معرفت، وفا اور ولایت کا وہ منشور ہے جس پر رحمتِ الٰہی کی مہر ثبت ہے۔ یہ دعا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جو قدم کربلا کی طرف اٹھتے ہیں، وہ زمین پر ضرور پڑتے ہیں مگر ان کی بازگشت عرش اعظم تک سنائی دیتی ہے۔ جو رخسار تربتِ حسین ع پر ملے جاتے ہیں، وہ خاک پر نہیں ملے جاتے بلکہ عزت و عظمت کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں اور جو آنکھیں غم حسین علیہ السّلام میں اشک بار ہوتی ہیں، ان کے آنسو صرف زمین کو تر نہیں کرتے، بلکہ ابر رحمت کو اب حیات دیتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی دعا:
اللَّهُمَّ فَارْحَمْ تِلْكَ الْوُجُوهَ الَّتِي غَيَّرَتْهَا الشَّمْسُ، وَارْحَمْ تِلْكَ الْخُدُودَ الَّتِي تَقَلَّبَتْ عَلَى قَبْرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَارْحَمْ تِلْكَ الْأَعْيُنَ الَّتِي جَرَتْ دُمُوعُهَا رَحْمَةً لَنَا، وَارْحَمْ تِلْكَ الْقُلُوبَ الَّتِي جَزِعَتْ وَاحْتَرَقَتْ لَنَا، وَارْحَمْ تِلْكَ الصَّرْخَةَ الَّتِي كَانَتْ لَنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَوْدِعُكَ تِلْكَ الْأَنْفُسَ وَتِلْكَ الْأَبْدَانَ حَتَّى تَرْوِيَهُمْ مِنَ الْحَوْضِ يَوْمَ الْعَطَشِ۔
اے اللہ! ان چہروں پر اپنی رحمت نازل فرما جنہیں تیری راہ میں اور حسینؑ کی زیارت کے سفر میں دھوپ نے بدل دیا۔ ان رخساروں پر رحم فرما جو ابو عبداللہ الحسینؑ کی قبرِ اقدس پر جھکتے اور خاکِ شفا سے لپٹتے رہے۔ ان آنکھوں پر رحم فرما جن سے ہماری محبت اور ہمارے غم میں آنسو جاری ہوئے۔ ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے درد میں بے قرار اور محبت میں گداختہ رہے۔ ان صداؤں پر بھی اپنی رحمت فرما جو ہماری خاطر بلند ہوئیں، اور اے پروردگار! میں ان جانوں اور ان جسموں کو تیرے سپرد کرتا ہوں یہاں تک کہ قیامت کے دن انہیں حوضِ کوثر سے سیراب فرما دینا۔
یہ دعا نہیں، زائرِ حسینؑ کے سراپائے عشق کی مدح ہے۔ امام نے زائر کے سفر کا ذکر نہیں کیا، اس کے وجود کی تکریم فرمائی ہے۔ اس کے قدموں کی نہیں، اس کے چہرے کی دعا کی؛ اس کے لباس کی نہیں، اس کے رخساروں کی دعا کی؛ اس کے الفاظ کی نہیں، اس کے آنسوؤں کی دعا کی؛ اس کے اعمال کی نہیں، اس کے دل کی دعا کی؛ حتیٰ کہ اس کی جان اور اس کے جسم کو بھی بارگاہِ الٰہی میں امانت رکھ دیا۔ گویا زائر کا پورا وجود رحمتِ خدا کا مخاطب اور دعائے معصوم کا محور بن گیا۔
"فَارْحَمْ تِلْكَ الْوُجُوهَ الَّتِي غَيَّرَتْهَا الشَّمْسُ"
یہ وہ چہرے ہیں جنہیں دنیا کی آسائش نے نہیں، آفتابِ وفا نے بدلا ہے۔ یہ دھوپ کی تمازت سے جھلسے ہوئے چہرے نہیں، بلکہ عشقِ حسینؑ کی سندِ قبولیت اپنے ماتھے پر سجائے ہوئے چہرے ہیں۔ سورج نے ان کی رنگت ضرور بدلی، مگر اسی آفتاب نے ان کے مقدر پر نور کی وہ تحریر ثبت کر دی جسے نہ زمانہ مٹا سکتا ہے نہ فراموشی دھندلا سکتی ہے۔ دنیا حسن کو دھوپ سے بچاتی ہے، مگر عاشقِ حسینؑ دھوپ کو اپنے حسن کا زیور بنا لیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ آفتاب کی یہ حدت دراصل رحمت کی حرارت ہے۔
"وَارْحَمْ تِلْكَ الْخُدُودَ الَّتِي تَقَلَّبَتْ عَلَى قَبْرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ"
رخسار، حسن کا آئینہ اور شباب کا گلاب ہوتے ہیں؛ مگر جب یہی گلابی رخسار تربتِ حسینؑ کی خاک پر رکھ دیے جائیں تو گلاب کو بھی رشک آنے لگتا ہے۔ اس لمحے رخسار کی سرخی مٹی میں نہیں ملتی بلکہ خاکِ شفا کی برکت سے نور میں ڈھل جاتی ہے۔ انسان اپنا چہرہ قبر پر رکھتا ہے، مگر حقیقت میں اپنی انا کو دفن کرتا، اپنے غرور کو خاک کرتا اور اپنی بندگی کو معراج عطا کرتا ہے۔ یہ بوسۂ تربت نہیں، وفا کی بیعت ہے؛ یہ خاک سے لپٹنا نہیں، افلاک سے نسبت جوڑنا ہے۔
"وَارْحَمْ تِلْكَ الْأَعْيُنَ الَّتِي جَرَتْ دُمُوعُهَا رَحْمَةً لَنَا"
یہ آنسو پانی کے قطرے نہیں، دل کے چراغوں سے ٹپکتے ہوئے نور کے موتی ہیں۔ یہ گریہ کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایمان کی قوت، محبت کی زبان اور معرفت کی معراج ہے۔ اشکِ حسینؑ آنکھوں کا وضو، دل کی طہارت، روح کی غذا اور محبت کا آبِ بقا ہیں۔ یہ آنسو رخساروں پر بہتے ضرور ہیں، مگر دل کے زنگ دھوتے، روح کے صحرا کو سیراب کرتے اور انسان کے باطن میں وفا کے گلستان آباد کر دیتے ہیں۔ جس آنکھ کو حسینؑ پر رونے کی سعادت مل جائے، وہ آنکھ بینائی ہی نہیں، بصیرت بھی پا لیتی ہے۔
"وَارْحَمْ تِلْكَ الْقُلُوبَ الَّتِي جَزِعَتْ وَاحْتَرَقَتْ لَنَا"
یہ دل غم سے نہیں ٹوٹتے، عشق سے بنتے ہیں؛ یہ آگ میں نہیں جلتے، محبت میں پگھلتے ہیں۔ ان کے سینوں میں خون نہیں، وفا کی شمعیں جلتی ہیں؛ ان کی دھڑکنیں صرف زندگی کی علامت نہیں بلکہ "لبیک یا حسینؑ" کی خاموش تسبیح ہیں۔ جس دل میں حسینؑ کا سوز اتر جائے، وہاں دنیا کی محبت سمٹ جاتی ہے اور ولایت کی روشنی بسیرا کر لیتی ہے۔
"وَارْحَمْ تِلْكَ الصَّرْخَةَ الَّتِي كَانَتْ لَنَا"
یہ صدائیں صرف آوازیں نہیں، عہدِ وفا کی گونج ہیں۔ "یا حسینؑ" کا نعرہ فضا میں بلند ہوتا ہے مگر اس کی بازگشت عرش پر سنائی دیتی ہے۔ زمین اسے فریاد سمجھتی ہے، فرشتے اسے ذکر شمار کرتے ہیں اور امام اسے اپنی نسبت کی گواہی قرار دیتے ہیں۔
پھر دعا اپنے نقطۂ عروج پر پہنچتی ہے:
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَوْدِعُكَ تِلْكَ الْأَنْفُسَ وَتِلْكَ الْأَبْدَانَ..."
یہاں امام زائر کے کسی ایک عمل کو نہیں، اس کی پوری ہستی کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس کی جان بھی امانت، اس کا جسم بھی امانت، اس کی سانس بھی امانت، اس کی مشقت بھی امانت۔ پھر اس امانت کی آخری منزل بھی بیان فرما دیتے ہیں کہ روزِ تشنگی اسے حوضِ کوثر سے سیراب کیا جائے۔ گویا جس نے دنیا میں پیاسے حسینؑ کی محبت میں سفر کی پیاس برداشت کی، قیامت میں اسے کبھی پیاسا نہیں رہنے دیا جائے گا۔
یہی زائر کی معراج ہے، یہی اس کی عظمت ہے، یہی اس کی خوش نصیبی ہے کہ وہ صرف کربلا کا مسافر نہیں رہتا بلکہ دعائے صادقِ آلِ محمدؑ کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر دعا، اس کے رخسار پر دعا، اس کی آنکھوں پر دعا، اس کے دل پر دعا، اس کی صدا پر دعا، اس کی جان پر دعا اور اس کے جسم پر دعا۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ معصوم امام کی زبان سے نکلے ہوئے دعائیہ الفاظ، زائر کے مقدر کی دائمی تفسیر بن جائیں۔ یہی وہ عظمت ہے جس پر اہلِ ایمان کو رشک کرنا چاہیے، اور یہی وہ مقام ہے جس کے لیے ہر عاشقِ حسینؑ کو اپنی زندگی کا ہر قدم وقف کر دینا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ