تحریر: محمد موسٰی احسانی
حوزہ نیوز ایجنسی|
جب زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ احادیث کے ذریعے معصومین علیھم السلام نے تعلیم دیا ہے وہ ایسا ہے کہ جتنا اس پر غور کیا جائے کشف وکرامات الٰہی کے پردے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں اگر اَنْعَمْتَ کی تفسیر ممکن ہوتی تو شاید اس کی اہمیت زیر قلم آسکتی تھی۔
لہٰذا ہم زیارت امام حسین علیہ السّلام کے بارے میں کچھ احادیث بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
کوئی شخص حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لئے گھر سے نکلے اور اپنے خاندان کو الوداع کرنے کے بعد پہلا قدم رکھے گا اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور قبر حسین علیہ السلام تک جیسے جیسے قدم اٹھاتا جائے گا پاک سے پاک تر ہوتا جائے گا جب مزار مقدس پر پہنچ جائے گا تو خدا اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا میرے بندے مجھ سے مانگ میں تجھے عطا کرونگا، مجھے پکار میں تجھے جواب دونگا، مجھ سے طلب کرمیں دعا پوری کرونگا ، اپنی حاجات کا مجھ سے سوال کر میں برلاؤں گا، راوی کہتا ہے حضرت نے فرمایا یہ اللہ پر حق ہے کہ اس نے جو کچھ خرچ کیااسے عطا کرے۔(ثواب الاعمال، ح۳۲)
مَنْ يَدْعُو لِزُوَّارِهِ فِي السَّمَاءِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْعُو لَهُمْ فِي الْأَرْض
زائر امام حسین علیہ السلام کے لئے زمین سے زیادہ آسمان پر دعا کرنے والے ہیں۔
(کامل الزیارت، ص ۱۱۷، ح ۲)
امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے:
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: مُرُوا شِيعَتَنَا بِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عليه السلام فَإِنَّ إِتْيَانَهُ يَزِيدُ فِي الرِّزْقِ وَ يَمُدُّ فِي الْعُمُرِ وَ يَدْفَعُ مَدَافِعَ السَّوْءِ وَ إِتْيَانَهُ مُفْتَرَضٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللَّهِ.
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے شیعوں کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے کا حکم دو کہ ان امام کی زیارت کرنا رزق کو زیادہ، انسان کی عمر کو طولانی اور اس سے بلاؤں کو دور کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا ہر اس انسان پر کہ جو امام حسین علیہ السلام کی امامت کو خداوند کی طرف سے ہونے کا اقرار کرتا ہے ، واجب و ضروری ہے۔
(ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص150، محقق: امينى، عبد الحسين، چاپ اول، ناشر: دار المرتضوية، )
زیارت چھوڑ دینا: اللہ کے حقوق میں سے ایک حق کو چھوڑ دینا ہے۔
عليّ بن ميمون: سَمِعتُ أبا عَبدِ اللّٰهِ عليه السلام يَقولُ: لَو أنَّ أَحَدَكُم حَجَّ ألفَ حَجَّةٍ، ثُمَّ لَم يَأتِ قَبرَ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ عليه السلام، لَكانَ قَد تَرَكَ حَقّاً مِن حُقوقِ اللّٰهِ تَعالىٰ
علی بن میمون سے روایت ہے: میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا:
`"اگر تم میں سے کوئی شخص ایک ہزار حج بھی کرلے، پھر بھی حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت نہ کرے، تو گویا اُس نے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے ایک حق کو چھوڑ دیا ہے۔"`
کامل الزیارات: ص357، حدیث618
بحار الأنوار: جلد101، ص5، حدیث18
لَا تَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِؑ أَ مَا تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ فِيمَنْ تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِكَةُ.
زیارت امام حسین علیہ السلام کو ترک نہ کرو، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے لئے فرشتے دعا کریں۔
(کامل الزیارت، ص ۱۱۹، ح ۳)
حدَّثَنِي أَبِي ره وَ جَمَاعَةُ مَشَايِخِي ره عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي يَا عَبْدَ الْمَلِكِ لَا تَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليهما السلام وَ مُرْ أَصْحَابَكَ بِذَلِكَ يَمُدُّ اللَّهُ فِي عُمُرِكَ وَ يَزِيدُ اللَّهُ فِي رِزْقِكَ وَ يُحْيِيكَ اللَّهُ سَعِيداً وَ لَا تَمُوتُ إِلَّا سَعِيداً [شَهِيداً] وَ يَكْتُبُكَ سَعِيداً.
عبد الملک خثعمى کہتا ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا ہے کہ اے عبد الملک امام حسین(ع) کی زیارت کو ترک نہ کرو اور اپنے دوستوں کو بھی اس کام کے کرنے کا کہو کیونکہ خداوند اس زیارت کی وجہ سے تمہاری عمر کو طولانی، تمہارے رزق کو زیادہ اور تمہاری زندگی کو سعادت مند فرمائے گا اور تمہاری موت کو شہید کی موت قرار دے گا۔
ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: ۳۶۷،كامل الزيارات ج۱ ص۱۵۱، محقق: امينى، عبد الحسين، چاپ اول، ناشر: دار المرتضوية،
امام معصوم کا وہ عمل امام حسین (ع) کی زیارت کی اہمیت واضح کرتا ہے:
قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عليه السلام وَ هُوَ مَحْمُومٌ عَلِيلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا هَاشِمٍ ابْعَثْ رَجُلًا مِنْ مَوَالِينَا إِلَى الْحَائِرِ يَدْعُو اللَّهَ لِي فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَاسْتَقْبَلَنِي عَلِيُّ بْنُ بِلَالٍ فَأَعْلَمْتُهُ مَا قَالَ لِي وَ سَأَلْتُهُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلَ الَّذِي يَخْرُجُ فَقَالَ السَّمْعَ وَ الطَّاعَةَ وَ لَكِنَّنِي أَقُولُ- إِنَّهُ أَفْضَلُ مِنَ الْحَائِرِ إِذْ كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ فِي الْحَائِرِ وَ دُعَاؤُهُ لِنَفْسِهِ أَفْضَلُ مِنْ دُعَائِي لَهُ بِالْحَائِرِ فَأَعْلَمْتُهُ عليه السلام مَا قَالَ فَقَالَ لِي قُلْ لَهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم أَفْضَلَ مِنَ الْبَيْتِ وَ الْحَجَرِ وَ كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَ إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى بِقَاعاً يُحِبُّ أَنْ يُدْعَى فِيهَا فَيَسْتَجِيبَ لِمَنْ دَعَاهُ وَ الْحَائِرُ مِنْهَا۔
ابو ہاشم جعفرى نے کہا ہے کہ میں امام ہادی (ع) کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ امام کو بہت تیز بخار ہے۔ امام نے مجھ سے کہا کہ ہمارے شیعوں میں سے کسی کو کربلا امام حسین (ع) کے حرم میں بھیجو تاکہ وہ میرے لیے وہاں جا کر دعا کرے۔ یہ سن کر میں امام کے گھر سے باہر آ گیا۔ وہاں میں نے علی ابن بلال کو دیکھا تو میں نے اس کو امام ہادی (ع) کی حالت اور ساری بات بتائی اور اس سے کہا کہ کسی بندے سے بات کرے۔ علی ابن بلال نے کہا: میں نے بات سن لی ہے اور اطاعت بھی کروں گا لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ خود امام ہادی (ع) حرم امام حسین سے افضل اور برتر ہیں، کیونکہ وہ بھی امام حسین (ع) کی طرح ایک معصوم امام ہیں اور ان کی دعا خود اپنے لیے، میرا ان کے لیے امام حسین کے حرم میں جا کر دعا کرنے سے بہتر ہے۔ میں دوبارہ امام ہادی (ع) کی خدمت میں آیا اور علی ابن بلال کی ساری بات امام کو بتائی۔ اس پر امام نے مجھ سے فرمایا: اس سے کہو کہ رسول خدا (ص) بیت اللہ اور حجر الاسود سے افضل تھے لیکن پھر بھی بیت اللہ کے گرد طواف کرتے تھے اور حجر الاسود کو بوسہ دیا کرتے تھے، خداوند کے لیے بعض مقامات ہیں کہ خود خدا چاہتا ہے کہ وہاں پر اس سے دعا مانگی جائے اور وہ دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرے، اور ان مبارک مقامات میں سے ایک امام حسین (ع) کا حرم ہے۔
(ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص274، محقق: امينى، عبد الحسين، چاپ اول، ناشر: دار المرتضوية،)
زیــــارت نـــہ کـــرنـــے کـــا مــطــلـــب ہــے ایــمــان کــی کــمـــی
عن أبي عبد اللّٰه [الصادق] عليه السلام: مَن لَم يَأتِ قَبرَ الحُسَينِ عليه السلام، وهُوَ يَزعُمُ أنَّهُ لَنا شيعَةٌ حَتّىٰ يَموتَ، فَلَيسَ هُوَ لَنا بِشيعَةٍ، وإن كانَ مِن أهلِ الجَنَّةِ فَهُوَ مِن ضيفانِ أهلِ الجَنَّةِ
امام [الصادق] علیہ السلام:
`جو شخص دعویٰ کرے کہ وہ ہمارا شیعہ ہے، مگر قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کیے بغیر مر جائے، وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے اور اگر وہ جنت والوں میں شامل ہو جائے تو وہ جنت والوں کے مہمانوں میں سے ہوگا۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کہے کہ وہ ہمارا شیعہ ہے، لیکن قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کے بغیر مر جائے، وہ ہمارا شیعہ نہیں، اور اگر جنت میں جائے تو وہ جنت والوں کا مہمان ہوگا۔
کامل الزيارات: صفحہ 356، حدیث612
بحار الأنوار: جلد 101، صفحہ 4، حدیث15
زیــــارت ســے مــحــروم کــثــیــر خــیــر ســے مــحــروم:
عن أبي عبد اللّٰه [الصادق] عليه السلام: مَن لَم يَزُر قَبرَ الحُسَينِ عليه السلام فَقَد حُرِمَ خَيراً كَثيراً، ونُقِصَ مِن عُمُرِهِ سَنَةٌ.
عن ابو عبداللہ [الصادق] علیہ السلام: جو شخص قبر حسین علیہ السلام کی زیارت نہیں کرتا، وہ بہت سے نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے اور اس کی عمر میں ایک سال کی کمی ہو جاتی ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص قبر حسین علیہ السلام کی زیارت نہ کرے، وہ بہت سے بھلائیوں سے محروم رہ جاتا ہے اور اس کی عمر میں ایک سال کمی ہوتی ہے۔
کامل الزيارات: ص285، ح45
بحار الأنوار: ج104، ص 48، ح15
پــــیــــدل زیــــارت کــــرنـــے کـــا اجـــر:
عن أبي عبد اللّٰه [الصادق] عليه السلام: مَن أتىٰ قَبرَ الحُسَينِ عليه السلام ماشِياً كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بِكُلِّ قَدَمٍ يَرفَعُها ويَضَعُها عِتقَ رَقَبَةٍ مِن وُلدِ إسماعيلَ۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص پیدل امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کو آئے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے، جو وہ اٹھاتا ہے اور رکھتا ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب لکھتا ہے۔
کامل الزیارات، ص 257، حدیث386
بحار الأنوار، ج101، ص 36، حدیث 48
امـــام حـــســیــن عــلــیہ الســلام کــی زیـــارت کـــو بــار بــار کـــرنے کـــی تـــاکــیــد
جعفر بن محمّد [الصادق] عليه السلام: أنَّهُ سُئِلَ عَن زِيارَةِ أبي عَبدِ اللّٰهِ الحُسَينِ عليه السلام فَقيلَ: هَل في ذٰلِكَ وَقتٌ هُوَ أفضَلُ مِن وَقتٍ؟ فَقالَ: زوروهُ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ - في كُلِّ وَقتٍ وفي كُلِّ حينٍ؛ فَإِنَّ زِيارَتَهُ عليه السلام خَيرُ مَوضوعٍ، فَمَن أكثَرَ مِنها فَقَدِ استَكثَرَ مِنَ الخَيرِ، ومَن قَلَّلَ قُلِّلَ لَهُ، وتَحَرَّوا بِزِيارَتِكُمُ الأَوقاتَ الشَّريفَةَ؛ فَإِنَّ الأَعمالَ الصّالِحَةَ فيها مُضاعَفَةٌ، وهِيَ أوقاتُ مَهبِطِ المَلائِكَةِ لِزِيارَتِهِ.
حضرت امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: کیا زیارت امام حسین علیہ السلام کا کوئی خاص وقت بہتر ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا انہیں - جس پر اللہ کی رحمت ہو - ہر وقت اور ہر حال میں زیارت کرو، کیونکہ ان کی زیارت سب سے بہترین عمل ہے۔ جو زیادہ زیارت کرتا ہے، اس کے لیے خیر زیادہ ہے اور جو کم کرتا ہے، اس کے لیے کم۔ کوشش کرو کہ اپنی زیارت معزز اور بابرکت اوقات میں کرو کیونکہ ان اوقات میں نیک عمل کا ثواب دوگنا ہوتا ہے، اور وہ وقت فرشتوں کے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے نزول کا وقت ہے۔" الإقبال: ج1 ص45 بحار الأنوار: ج101 ص 98ح29
جو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے نہ جا سکے وہ کیا کرے؟
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مِسْمَعٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنَانٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا سَدِيرُ تَزُورُ قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام فِي كُلِّ يَوْمٍ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لَا قَالَ فَمَا أَجْفَاكُمْ قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ قُلْتُ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ يَا سَدِيرُ مَا أَجْفَاكُمْ لِلْحُسَيْنِ عليه السلام امَا عَلِمْتَ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَلْفَيْ أَلْفِ مَلَكٍ شُعْثٌ غُبْرٌ يَبْكُونَ وَ يَزُورُونَ لَا يَفْتُرُونَ وَ مَا عَلَيْكَ يَا سَدِيرُ أَنْ تَزُورَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام فِي كُلِّ جُمْعَةٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ وَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُ فَرَاسِخَ كَثِيرَةً فَقَالَ لِي اصْعَدْ فَوْقَ سَطْحِكَ ثُمَّ تَلْتَفِتُ يَمْنَةً وَ يَسْرَةً ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ انْحُ نَحْوَ الْقَبْرِ وَ تَقُولُ- السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ تُكْتَبُ لَكَ زَوْرَةٌ وَ الزَّوْرَةُ حَجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ قَالَ سَدِيرٌ فَرُبَّمَا فَعَلْتُ فِي الشَّهْرِ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً.
سدیر کہتا ہے کہ: امام صادق(ع) نے فرمایا ہے کہ اے سدیر کیا تم ہر روز امام حسین(ع) کی قبر کی زیارت کرتے ہو ؟ سدیر نے کہا: میں آپ پر قربان ہوں، نہیں۔ امام نے فرمایا تم کس قدر جفا کرنے والے ہو!! پھر فرمایا کہ کیا ہفتے میں ایک مرتبہ زیارت کرتے ہو ؟ سدیر نے کہا: نہیں۔ امام نے فرمایا ہر مہینے ایک مرتبہ؟ سدیر نے کہا: نہیں۔ امام نے فرمایا ہر سال میں ایک مرتبہ ؟ سدیر نے کہا ہاں کبھی سال میں ایک مرتبہ زیارت کے لیے چلا جاتا ہوں۔ امام نے فرمایا اے سدیر تم کس قدر امام حسین پر جفاء کرتے ہو! کیا تم نہیں جانتے کہ خداوند کے دو ہزار غبار آلود فرشتے ہیں کہ جو امام حسین(ع) پر گریہ کرتے ہیں اور ان کی زیارت کرتے ہیں اور کبھی تھکاوٹ بھی محسوس نہیں کرتے۔ اے سدیر تم بھی کم از کم ہر ہفتے میں پانچ مرتبہ اور ہر روز ایک مرتبہ امام حسین کی زیارت کیا کرو۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جاؤں، ہمارے اور کربلا کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ امام نے فرمایا: اپنے گھر کی چھت پر جا کر اپنے دائیں بائیں دیکھ کر پھر سر کو آسمان کی طرف بلند کر کے امام حسین (ع) کی قبر کی طرف رخ کر کے کہو: السَّلامُ عَلَيكَ يا أبا عَبدِ اللّهِ، السَّلامُ عَلَيكَ و رَحمَةُ اللّهِ و بَرَكاتُهُ : سلام ہو آپ پر اے ابا عبد اللّه ! سلام اور رحمت اور خدا کی برکات آپ پر ہوں! جب ایسا کرو گے تو تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت ایک حج اور ایک عمرے کے برابر ہو گی۔ پھر سدیر نے کہا اس طرح میں کبھی کبھی ایک مہینے میں بیس مرتبہ سے زیادہ امام حسین (ع) کی زیارت کیا کرتا تھا۔
كليني، محمد بن يعقوب بن اسحاق، الوفاة: ۳۲۹ ق، الكافي( ط- الإسلامية) ج۴ ص۵۸۹ محقق : غفارى على اكبر و آخوندى، محمد، ناشر: دار الكتب الإسلامية









آپ کا تبصرہ