منگل 14 جولائی 2026 - 01:33
شب بیداری یا شبِ غفلت؟

حوزہ/کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، ایک مکتب ہے۔ اور مکتب میں صرف رونا نہیں سکھایا جاتا، سوچنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے امت کو آنسوؤں کی دولت ضرور دی، مگر ان آنسوؤں کے ساتھ بصیرت، عبادت، اخلاق، نظم اور ذمہ داری بھی عطا کی۔ اس لیے ہر محرم، ہر مجلس اور ہر شبِ بیداری میں سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ ہم جاگ کس کے لیے رہے ہیں؟

تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، ایک مکتب ہے۔ اور مکتب میں صرف رونا نہیں سکھایا جاتا، سوچنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے امت کو آنسوؤں کی دولت ضرور دی، مگر ان آنسوؤں کے ساتھ بصیرت، عبادت، اخلاق، نظم اور ذمہ داری بھی عطا کی۔ اس لیے ہر محرم، ہر مجلس اور ہر شبِ بیداری میں سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ ہم جاگ کس کے لیے رہے ہیں؟

شبِ بیداری کا مفہوم یہ نہیں کہ رات ختم ہو جائے اور نیند نہ آئے؛ شبِ بیداری کا مفہوم یہ ہے کہ غفلت ختم ہو جائے اور شعور بیدار ہو جائے۔ دل اللہ کی طرف پلٹ آئے، زبان ذکر سے تر ہو، آنکھیں اشکبار ہوں، عقل بیدار ہو، ضمیر زندہ ہو، نماز مضبوط ہو، اخلاق سنور جائیں، اور انسان امام حسین علیہ السلام کے راستے پر چلنے کا عزم لے کر صبح کرے۔

لیکن اگر شبِ بیداری صرف شور کا نام بن جائے… اگر نوحہ خوانی عبادت کے بجائے مقابلہ بن جائے… اگر انجمنیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو مقصد بنا لیں… اگر داد، شہرت اور تعریف، اخلاص پر غالب آ جائے… تو پھر ہمیں رک کر اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

ذرا اپنے دل سے پوچھئے…

کیا ہم نے کبھی اپنے باپ کے انتقال پر نوحہ خوانی کا مقابلہ کروایا؟

کیا ہم نے اپنی ماں کی وفات پر اعلان کیا کہ آج دیکھتے ہیں کس کی آواز زیادہ سوزناک ہے اور کسے زیادہ داد ملتی ہے؟

ہرگز نہیں!

کیونکہ سچا غم اسٹیج نہیں ڈھونڈتا، سچا غم مقابلے بازی کا محتاج نہیں ہوتا، سچا غم اشتہار نہیں بنتا، سچا غم دلوں میں اترتا ہے، آنکھوں سے بہتا ہے اور کردار میں ڈھل جاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے غم کی عظمت اس سے کہیں بلند ہے کہ اسے مقابلہ آرائی کی نذر کر دیا جائے۔

اور پھر ایک اور سوال…

رات بھر فل ساؤنڈ پر نوحے…

لاؤڈ اسپیکروں کی گونج…

بیمار بے چین…

بوڑھے پریشان…

معصوم بچے جاگتے ہوئے…

امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ مضطرب…

صبح مزدوری پر جانے والا مزدور تھکن سے چور…

اور وہ پڑوسی جس کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ ہمارے گھر یا عزاء خانے کے قریب رہتا ہے۔

کیا یہی وہ اخلاق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سکھایا تھا؟

کیا یہی وہ مکتب ہے جس کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ “لوگوں کے لیے ہماری زینت بنو، باعثِ عیب نہ بنو”؟

یاد رکھیے!

وہ عزاداری جو لوگوں کو اہلِ بیت علیہم السلام کے اخلاق سے قریب کر دے، وہی عزاداری حسینی ہے۔ لیکن اگر ہمارے طرزِ عمل سے لوگ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام سے ہی بدظن ہونے لگیں تو ہمیں اپنے طریقے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

اور پھر سب سے دردناک منظر…

رات بھر شبِ بیداری…

لیکن اذانِ فجر کے ساتھ خاموشی…

صفیں خالی…

اور بہت سے لوگ بستر میں…

یہ منظر دل کو چیر دیتا ہے۔

کربلا میں نیزوں کے سائے تھے، تلواروں کی چمک تھی، پیاس کی شدت تھی، خون کی ندیاں تھیں، مگر نماز قائم تھی۔

آج بجلی بھی ہے، پنکھے بھی ہیں، آرام دہ بستر بھی ہیں، مگر اگر شبِ بیداری ہمیں نمازِ فجر سے محروم کر دے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے حسین علیہ السلام کے غم سے کیا سیکھا؟

جناب زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ اور شام میں صرف رُلایا نہیں، جھنجھوڑا تھا۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے صرف مصائب نہیں سنائے، ضمیروں کو بیدار کیا تھا۔

کربلا کا ہر پیغام ایک ہی صدا دیتا ہے:

“تمہارے آنسو اس وقت قیمتی ہیں جب وہ تمہاری زندگی بھی بدل دیں۔”

لہٰذا شبِ بیداری کو صرف جاگنے کی رسم نہ بنائیں۔

اسے توبہ کی رات بنائیں…

قرآن کی رات بنائیں…

دعا کی رات بنائیں…

نماز کی رات بنائیں…

حقوقُ العباد کی حفاظت کی رات بنائیں…

اور حسین علیہ السلام کے عہد کی تجدید کی رات بنائیں۔

یاد رکھیں!

قیامت کے دن اللہ یہ نہیں پوچھے گا کہ لاؤڈ اسپیکر کتنے طاقتور تھے…

یہ بھی نہیں پوچھے گا کہ کتنی انجمنیں شریک تھیں…

یہ بھی نہیں پوچھے گا کہ کتنے نوحے پڑھے گئے…

وہ یہ ضرور پوچھے گا:

نماز کہاں تھی؟

اخلاص کہاں تھا؟

حقوقُ العباد کہاں تھے؟

اور حسین علیہ السلام کے پیغام کا اثر تمہاری زندگی میں کہاں تھا؟

آئیے، یہ عہد کریں کہ ہم صرف شبیں بیدار نہ کریں، اپنے ضمیر بیدار کریں گے۔

صرف آنکھوں کو بے خواب نہ رکھیں، اپنی روح کو بیدار کریں۔

صرف نوحہ نہ پڑھیں، امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو بھی زندہ کریں۔

کیونکہ کربلا کو صرف جاگنے والے لوگ نہیں، بیدار لوگ درکار ہیں۔

  • “اے اہلِ کوفہ! کوفہ رو رہا تھا…

    “اے اہلِ کوفہ! کوفہ رو رہا تھا…

    حوزہ/گلیاں رو رہی تھیں، بازار رو رہے تھے، عورتیں سینہ کوب تھیں، مرد سر جھکائے کھڑے تھے، بچے سسک رہے تھے۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جب حسینؑ…

  • آبنائے ہرمز: اصل تنازع کیا ہے؟

    آبنائے ہرمز: اصل تنازع کیا ہے؟

    حوزہ/ امریکہ اور اس کے حامی ذرائع ابلاغ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران نے چند تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران…

  • راہِ حق کا مجاہد، امامِ رضاؑ کی آغوش میں

    راہِ حق کا مجاہد، امامِ رضاؑ کی آغوش میں

    حوزہ/آج مشہدِ مقدس کی فضا سوگوار ہے۔ لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں، ہزاروں دل غم سے نڈھال ہیں۔ حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے سایۂ…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha